Book Name:Bay Qasoor Ki Madad

اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

دُرُودِ پا ک کی فضیلت

        شیخِ طریقت،امیرِاہلسنّت،بانیٔ دعوت ِاسلامی حضرتِ علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّارؔ قادری رضوی ضیائیدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہاپنے رسالے ’’بریلی سے مدینہ‘میں نقْل فرماتے ہیں کہ سرکارِمد ینۂ منوّرہ ، سردارِ مکۂ مکرَّمہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکافرمان ِدلنشین ہے:’’فرض حج کروبے شک اس کا اَجْر بیس غزوات میں شرکت کرنے سے زیادہ ہے اور مجھ پر ایک مرتبہ دُرُودِپاک پڑھنا اس کے برابرہے  ۔‘‘ (فردوس الاخبا رج۲ ص ۲۰۷ حدیث ۲۴۸۴ دا رالکتاب العربی بیروت )

صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیب !  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

ا یک ہی وقْت میں 71 جگہ روزہ اِفطار                             

        رَمَضانُ الْمُبارَک میں ایک دن 70 آدمیوں نے حُضُورسَیِّدُنا غوثِ پاک رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کوالگ الگ حاضر ہوکر افطار کی دعوت دی۔اُن میں سے کسی کو دوسرے کے دعوت دینے کا علم نہ تھا ۔ سرکارِ بغدادرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے سب کی دعوت قبول فرمالی۔ جب اِفطار کا وقت ہوا تو سب کے گھر تشریف لے گئے اور ایک ہی وقت  میں سب کے ساتھ  اِفطار فرمایا اور مدرسے میں بھی افطار فرمایا۔ جب بغداد میں یہ خبر مشہور ہوئی تو خادِموں میں سے ایک خادم کے دل میں خیال آیا کہ سرکار تو مدرسے سے کہیں نہیں گئے تھے،سب کے گھر جانا اور ایک ساتھ سب کے ساتھ افطار کرنا کیونکر ہوا؟ تو غوثِ اعظم  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْاَکْرَم اس کی طرف متوجِّہ ہوئے اورتصدیق کرتے ہوئے فرمایا:’’ وہ سب سچے ہیں ، میں نے سب کی دعوت قَبول کی اور ان کے گھروں میں جاکر کھانا کھایاتھا۔ ‘‘(برکاتِ قادریت،ص۴۹)

گئے اِک وقت میں ستّر مریدوں کے یہاں حضرت

سمجھ میں آ نہیں سکتا مُعمّا غوثِ اعظم کا

  اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی  اُن پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو   اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

تاجِر کی دَ سْتْگِیری

         سرکارِ بغداد حُضُورسَیِّدُنا غوثِ پاک رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ۵۵۳ ھ بغداد شریف میں اپنے مدرَسے میں بیان فرما رہے تھے ۔ شرکائے اِجتماع میں اَبوُ الْمَعَالی محمد بن احمد نام کا ایک بغدادی تاجِر بھی شامل تھا۔بیان کے دوران ہی اس کو حاجتِ ضَروریہ نے  ایسا تنگ کیا کہ مزید بیٹھنا دُشوار ہوگیا ۔اِجتماع کثیر تھا ،لہٰذا باہَر نکلنے کی کوئی صورت بھی نظر نہ آتی تھی ۔ اس تاجر نے دل ہی دل میں اپنی فریاد غوثِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْاَکْرَم کی بارگاہ میں پیش کردی ۔اُس نے سر کی آنکھوں سے دیکھا کہ حضور غوثِ پاک رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ اپنے منبر کی سیڑھی سے نیچے اُتر آئے۔ پہلی سیڑھی پر’’ ایک سر‘‘ آدمی کے سر کی طرح ظاہر ہوا، پھر اور نیچے اتر ے تو کندھے اور سینہ ظاہر ہوا۔آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ اسی طرح سیڑھی بہ سیڑھی اُترتے گئے یہاں تک کہ کرسی پر ایک صورت سرکارِ غوث پاک رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی طرح ظاہر ہو گئی جو لوگوں کے سامنے آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی ہی آوازوانداز میں کلام جاری رکھے ہوئے تھی۔ اِس بات کو سوائے اس شخص کے اور جس کو خدا نے چاہا ،اور کوئی نہ دیکھتا تھا۔ آپ ہجوم کو چیرتے ہوئے اُس تاجر کے پاس پہنچے اور اس کے سر کو اپنے رومال سے ڈھانپ دیا۔تاجر کا بیان ہے کہ میں ایک دم بہت بڑے جنگل میں پہنچ گیا جس میں ایک نہر بہہ رہی تھی۔ وہاں مجھے ایک درخت دکھائی دیا،میں نے اپنی چابیاں اس درخت میں لٹکا دیں اور خود حاجت ضروریہ سے فارغ ہوا،اس نہر سے وُضو کیا اور دو رکعت نفل پڑھے۔ جب میں نے سلام پھیرا تو غوث پاک رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنے رومال کومیرے سر سے اُٹھالیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ میں اسی مجلس میں بیٹھا ہوں اور میرے اعضائے وضو پانی سے تر ہیں ، پیٹ کی گِرانی  

بھی ختم ہوچکی تھی،سامنے دیکھا تو حضور غوثِ پاک رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ منبر شریف پر ہی تشریف فرماہیں گویا کہ وہاں سے اُترے ہی نہیں ۔میں چپ رہا اور کسی سے اس بات کا ذکر نہ کیا مگر مجھے میری چابیاں نہیں مل رہی تھیں ۔ پھر ایک مُدّت بعد مجھے سفر درپیش ہوا ۔ بغداد سے 14 دن تک چلنے کے بعد ہمارا قافِلہ ایک جنگل میں اُترا۔وہاں قریب ہی ایک نَہَر تھی۔میں لوگوں کی نگاہوں سے دُور جنگل میں قضائے حاجت کے لئے گیا تو یہ جنگل مجھے اُسی جنگل سے اورنَہَراُسی نَہَر سے مشابہ محسوس ہوئی ۔ جب میں نے آس پاس دیکھا تو قریب ہی ایک درخت پر میری گمشدہ چابیاں لٹکی ہوئی مل گئیں ۔پھر جب میں بغداد لَوٹا تو غوثِ پاک رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی بارگاہ میں حاضِر ہوا تاکہ سارا ماجرا عرض کر سکوں مگر آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے میرے بولنے سے پہلے ہی کان میں فرمایا: ’’ اے ابو المعالی! میری زندگی میں کسی سے یہ بات ذکر نہ کرنا۔‘‘ میں آپ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی خدمت میں مصروف ہوگیا حتّٰی کہ آپ وِصال فرما گئے ۔

(بہجۃُالاسرار،ص۱۰۴)

اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی  اُن پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو   اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد   

 



Total Pages: 8

Go To