Book Name:Siyah Faam Ghulam

یہ بڑے کرم کے ہیں  فیصلے یہ بڑے نصیب کی با ت ہے

  {9}شَیر آگئے !

          اللہُ مُجیبعَزَّ وَجَلَّ  کے پیارے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے ایک اور عظیمُ الشّان مُعجِزے اور بد نصیب ابوجَہل کی کَورباطِنی یعنی باطنِ کے اندھے پن کی حِکایت سَماعت فرمایئے : ہمارے میٹھے میٹھے آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   چُونکہ لوگوں  کو نیکی کی دعوت ارشاد فرمایا کرتے تھے لہٰذا کفّارِ قریش آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    کے دشمن ہوگئے تھے اورآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    کو طرح طرح سے ایذائیں  پہنچاتے تھے ۔ ایک بار شَہَنشاہ ابرارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  وادِیٔ حَجُونکی طرف تشریف لے گئے ۔ موقع پاکر ایک دشمنِ ستمگرنَضر(نامی کافِر) آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کو شہید کرنے کے ارادے سے آگے بڑھا ۔ جونہی وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کے قریب پہنچا ایک دم خوف زدہ ہوکر پلٹا اور سرپر پاؤں  رکھ کر شہر کی طرف بھاگ کھڑا ہوا ۔ جب ابوجَہل نے یہ حالت دیکھی تو ماجرادریافت کیا ۔  کہنے لگا : ’’میں  نے آج بَاِرادۂ قتل محمّد ِعَرَبی محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی

  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کاپیچھا کیا تھا  ، جب میں  قریب پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں  کہ مُنہ کھولے  ، دانت کچکچاتے ہوئے چندشَیر میری طرف بڑھے چلے آرہے ہیں  ! لہٰذا  بھاگتے ہی بنی ۔ اتنا عظیمُ الشّان معجِزہ سن کر بھی بدنصیب ابوجَہل بولا  : یہ بھی محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کے جادو ہی کا کارنامہ ہے  ۔ مَعاذَاللّٰہعَزَّ وَجَلَّ ۔ ‘‘ (الخَصائِصُ الکُبْری  لِلسُّیُوطِیّ ج۱ص۲۱۵)

اُف رے مُنکِر یہ بڑھا جوشِ تَعَصُّب آخِر

بِھیڑمیں  ہاتھ سے کمبخت کے ایمان گیا(حدائقِ بخشش شریف)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                 صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

{10}اپنے والِدَ ینِ کریمَین کو زندہ کیا

            ہر ایک کو اپنے ماں  باپ پیارے ہوتے ہیں  پھر ہمارے آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو کیوں  پیارے نہ ہوں  گے ! اپنے والِدَینِ کریمَین کو اپنی پیاری اُمّت کے ساتھ شُمُولیّت کی خاطِر عطائے ربِّ قادِرعَزَّ وَجَلَّ  سے کیسا عظیمُ الشّان مُعجِزہ دکھایا ۔  آپ بھی سنئے اور جھومئے : اِمام ابوالقاسِم عبدُالرَّحمٰن سُہَیْلِی ( مُتَوَفّٰی581ھجری)’’ اَلرَّوْضُ الْاُنُف‘‘ میں نَقل کرتے ہیں  کہ اُمُّ الْمُؤمِنِین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائِشہ صِدّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا رِوایَت کرتی ہیں  ، سرکارِمدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے دعامانگی : ’’یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ میرے ماں  باپ کو زندہ کردے  ۔ ‘‘ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی دعا کوشَرَفِ قَبولیَّت بخشتے ہوئے دونوں  کوزندہ کردیا اوروہ دونوں  سلطانِ دو جہانصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لائے اورپھر اپنے اپنے مزاراتِ طیِّبات میں  تشریف لے گئے  ۔ (الرَّوضُ



Total Pages: 19

Go To