Book Name:Siyah Faam Ghulam

شِکوہ نہ عاشِقوں  کی زَبانوں  پہ آ سکے

{9}دَ یو پَیکر اُونٹ

          مکّۂ مکرَّمہزادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً میں  ایک تاجِر آیا ۔  اس سے ابوجَہل نے مال خرید لیا مگر رقم دینے میں  پَس وپَیش کی ۔  وہ شَخص پریشان ہوکر اہلِ قُریش کے پاس آکر بولا :  آپ میں  سے کوئی ایسا ہے جو مجھ غریب اور مسافِر پر رحم کھائے اورابوجَہل سے میرا حق دلوائے ؟لوگوں  نے مسجِد کے کونے میں  بیٹھے ہوئے ایک صاحِب کی طرف اشارہ کر کے کہا :  ان سے بات کرو ، یہ ضَرور تمہاری مدد کریں  گے ۔ اہلِ قریش کے ’’ ان صاحِب‘‘ کے پاس بھیجنے کا منشا یہ تھا کہ اگریہ صاحِب ابوجَہل کے پاس گئے تو وہ ان کی توہین کرے گااوریہ لوگ(یعنی بھیجنے والے ) اس سے حَظ(یعنی لُطف ) اُٹھائیں  گے ۔ مسافِر نے اُن صاحِب کی خدمت میں  حاضر ہوکر سارا اَحوال سنایا ۔  وہ اٹھے اور ابوجَہل کے دروازے پر تشریف لائے اوردستک دی ۔   ابوجَہل نے اندرسے پوچھا  : کون ہے ؟جواب ملا :  محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ۔ ابوجَہل دروازے سے باہَر نکلا ، اُس کے چہرے پرہوائیاں  اُڑرہی تھیں  ۔ پوچھا  : کیسے آنا ہوا؟ بے کسوں  کے فریاد رَس محمدِعَرَبیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : اِس کا حق کیوں  نہیں  دیتا؟عرض کی : ابھی دیتاہوں ۔ یہ کہہ کر اندر گیا اوررقم لاکر مسافِر کے حوالے کردی اوراندر چلا گیا ۔ دیکھنے والوں  نے بعد میں  پوچھا : ابوجہل!تم نے بَہُت عجیب کا م کیا ۔  بولا : بس کیاکہوں   ، جب محمّدِعَرَبیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اپنا نام لیا تو ایک دم مجھ پر خوف طاری ہوگیا ۔  جُونہی میں  باہَر آیا تو ایک لرزہ خیز منظر میری آنکھوں  کے سامنے تھا  ، کیا دیکھتا ہوں  کہ ایک دیو پیکراُونٹ کھڑا ہے ۔ اتناخوف ناک اونٹ میں  نے کبھی نہیں  دیکھاتھا ۔ چُپ چاپ بات مان لینے ہی میں  مجھے عافیَّت نظر آئی ورنہ وہ اُونٹ مجھے ہَڑَپ کرجاتا ۔ (الخَصائِصُ الکُبْری لِلسُّیُوطِیّ ج۱ ص۲۱۲ ، دارالکتب العلمیۃ  بیروت)

  واللہ !وہ سن لیں  گے فریاد کو پہنچیں  گے

اِتنا بھی تو ہو کوئی جو ’’آہ! ‘‘کرے دل سے (حدائقِ بخشش شریف)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                 صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اَلْحَمْدُ لِلّٰہ ! عَزَّ وَجَلَّ میرے سردار ، میرے غمخوارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی شانِ حمایت نشان بھی کیاخوب ہے ! آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کس طرح دُکھیاروں  اور غم کے ماروں  کی اِمداد فرماتے اور مظلوموں  کے حُقُوق دِلواتے تھے ۔ اور اللہُ رَحمٰنعَزَّ وَجَلَّ  بھی اپنے مَحبوب پر کس قَدَر مہربان  ہے اوردشمن کے مقابَلے میں  کس طرح آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی مدد فرماتا ہے ! ابو جَہل جو کہ ا َزَلی کافِر اور سدا کیلئے ایمان سے مَحروم تھا ، اِتنا عظیمُ الشّان مُعجِزہ آنکھوں  سے دیکھنے کے باوُجُود بھی بے ایمان ہی رہا! بس نصیب اپنا اپنا    ؎

کوئی آیا پا کے چلا گیا کوئی عمر بھر بھی نہ پا سکا

 



Total Pages: 19

Go To