Book Name:Siyah Faam Ghulam

          حضرت ِسیِّدَ تُنااُنَیْسَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں  : مجھے میرے والدِ محترم نے بتایا : میں  بیمار ہوا تو سرکارِ عالی وقارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    میری عِیادت کے لئے تشریف لائے دیکھ کر فرمایا :  تمہیں  اس بیماری سے کوئی حرج نہیں  ہو گا لیکن تمہاری اُس وقت کیا حالت ہو گی جب تم میرے وِصال کے بعد طویل عمر گزار کر نابینا ہو جاؤ گے ؟یہ سن کر میں  نے عرض کی :  یارسولَ اللہ عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    !میں  اس وقت حُصولِ ثواب کی خاطِرصَبْر کروں  گا ۔ فرمایا : اگر تم ایسا کرو گے توبِغیر حساب کے جنَّت میں  داخِل ہوجاؤگے  ۔ چُنانچِہ صاحِبِ شیریں  مَقال ، شَہَنشاہ خوش خِصال، محبوبِ ربِّ ذوالجلال عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ظاہِری وصال کے بعد ان کی بینائی جاتی رہی  ، پھر ایک عرصہ کے بعد اللہ عَزَّوَجَلّنے ان کی بینائی لوٹا دی اور ان کا انتِقال ہو گیا ۔

(دَلَائِلُ النُّبُوَّۃ لِلْبَیْہَقِیّ ج۶ص۴۷۹ ، دارالکتب العلمیۃ بیروت)

اے عَرَب کے چاند چمکا دے مِری لوحِ جَبیں

ہو ضِیاء کو پھر مدینے میں  نظارہ نور کا

 صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!           صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے ! اللہ کے مَحبوب  ، دانائے غُیُوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوبعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    اپنے پرودگار عَزَّ وَجَلَّ  کی عطا سے اپنے غلاموں  کی عُمر وں  سے بھی باخبر ہیں  اوران کے ساتھ جو کچھ پیش ہونے والا ہے اسے بھی جانتے ہیں  ۔ قرآنِ پاک کی بے شمار آیاتِ مبارَکہ سے سرکارمدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے علمِ غیب کا ثُبوت ملتاہے  ۔ یہاں  صرف ایک آیتِ کریمہ پیش کی جاتی ہے چُنانچِہ پارہ 30سورۃُ التَّکویر کی آیت نمبر24میں  ارشاد خدواندی ہے :  

وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍۚ(۲۴) ۳۰  التکویر۲۴)

ترجَمۂ کنزالایمان : اوریہ نبی( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ )غیب بتانے میں  بخیل نہیں   ۔

سرِ عرش پر ہے تری گزر دلِ فرش پر ہے تری نظر

ملکوت و مُلک میں  کوئی شے نہیں  وہ جو تجھ پہ عِیاں  نہیں  (حدائقِ بخشش)

بیان کردہ روایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب کوئی مصیبت آئے یا مسلمان معذور ہوجائے تو اسے صَبْر کر کے اَجر کا حقدار بننا چاہئے  ۔ چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا اَنَس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے رِوایت ہے کہ نبیِّ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  فرماتے ہیں  کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہے :  ’’جب میں  اپنے بندہ کی آنکھیں  لے لوں  پھر وہ صَبْر   کر   ے ، تو آنکھوں  کے بدلے اُسے جنَّت دوں  گا ۔ ‘‘(صَحِیحُ البُخارِیّ ج۴ ص۶ حدیث ۵۶۵۳ ، دارالکتب العلمیۃ بیروت)

  ہے صبر تو خزانۂ فِردوس بھائیو!

 



Total Pages: 19

Go To