Book Name:Siyah Faam Ghulam

لوگ میری وجہ سے آپَس میں  مَحَبَّتر کھتے ہیں  اور میری وجہ سے ایک دوسرے کے  پاس بیٹھتے ہیں  اور آپس میں  ملتے جُلتے ہیں  اور مال خرچ کرتے ہیں  اُن سے میری مَحَبَّتواجِب ہوگئی[1]؎ {3} اللہ تعالیٰ نے فرمایا :  جو لوگ میرے جلال کی وجہ سے آپَس میں   مَحَبَّترکھتے ہیں  اُن کیلئے نُور کے مِنبر ہو نگے ۔ انبیاء و شہداء اُن پر غِبطہ( یعنی رشک ) کریں  گے [2]؎ {4}دو شخصوں  نے اللہ کے لئے باہم مَحَبَّت کی اور ایک مشرِق میں  ہے دوسرا مغرِب میں  قِیامت کے دن اللہ تعالیٰ دونوں  کو جمع کریگا اور فرمائیگا یہی وہ ہے جس سے تو نے میرے لیے  مَحَبَّتکی تھی[3]؎ { 5 } جنّت میں  یاقوت کے سُتُون ہیں  اُن پر زَبَرجَد کے بالا خانے ہیں ، ان کے دروازے کھلے ہوئے ہیں  ، وہ ایسے روشن ہیں  جیسے چمکدار ستارے ۔ لوگوں  نے عرض کی :  یا رسولَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ !   ان میں  کون رہے گا؟ فرمایا :  وہ لوگ جو اللہ کے لئے آپَس میں   مَحَبَّت رکھتے ہیں  ، ایک جگہ بیٹھتے ہیں  ، آپس میں  ملتے ہیں [4]؎   {6} اللہ کیلئے  مَحَبَّت رکھنے والے عرش کے گِرد یا قوت کی کرسی پر ہوں  گے [5]؎  {7} جو کسی سے اللہ کے لیے  مَحَبَّت رکھے اللہ کے لیے دشمنی رکھے اور اللہ کے لیے دے اور اللہ کے لیے منع کرے اُ س نے اپنا ایمان کامِل کر لیا[6]؎ {8}  دو شخص جب اللہ (عَزَّ وَجَلَّ ) کے لیے باہم مَحَبَّت رکھتے ہیں  ، ان کے درمِیان میں  جُدائی اُس وَقت ہوتی ہے کہ ان میں  سے ایک نے کوئی گناہ کیا ۔ [7]؎یعنی اللہ  (عَزَّ وَجَلَّ  )  کے لیے جومَحَبَّت ہو اس کی پہچان یہ ہے کہ اگر ایک نے گناہ کیا تو دوسرا اس سے جدا ہو جائے ۔ (تفصیلی معلومات کیلئے پڑھئے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ بہارِ شریعت حصّہ16 صَفْحَہ 217 تا  222 )

یہ رِسالہ پڑھ کر دوسرے کودے د یجئے

            شادی غمی کی تقریبات ، اجتماعات ، اعراس اور جلوسِ میلاد وغیرہ میں  مکتبۃ المدینہ کے شائع کردہ رسائل اور مَدَنی پھولوں  پر مشتمل پمفلٹ تقسیم کرکے ثواب کمائیے  ، گاہکوں  کو بہ نیّتِ ثواب تحفے میں  دینے کیلئے اپنی دُکانوں  پر بھی رسائل رکھنے کا معمول بنائیے ، اخبار فروشوں  یا بچّوں  کے ذَرِیعے اپنے مَحَلّہ کے گھر گھر میں  ماہانہ کم از کم ایک عدد سنّتوں  بھرا رسالہ یا مَدَنی پھولوں  کاپمفلٹ پہنچاکر نیکی کی دعوت کی دھومیں  مچائیے  ۔   

دُرُود کی جگہ         ؐ  لکھناحرام ہے

          صَدرُ الشَّریعہ، بَدرُ الطَّریقہ حضرتِ  علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی   عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں  : عُمر میں  ایک مرتبہ دُرُودشریف پڑھنا فرض ہے اورہر جلسۂ ذِکر میں   دُرُودشریف پڑھنا واجِب خواہ خود نامِ اقدس لے یا دوسرے سے سنے ۔ اگر ایک مجلس میں  سو بار ذِکر آئے تو ہر بار  دُرُودشریف پڑھنا چاہئے  ۔ اگرنامِ اقدس لیا یا سنا تو دُرُودشریف اُس وَقت نہ پڑھا تو کسی دوسرے وَقت میں  اس کے بدلے کا



[1]    الموطا ج ۲ ص ۴۳۹ حدیث ۱۸۲۸ 

[2]    تِرمذی ج ۴ ص ۱۷۴حدیث ۲۳۹۷،

[3]    شعب الایمان ج۶ص۴۹۲  حدیث ۹۰۲۲

[4]    شعب الایمان ج۶ص۴۸۷  حدیث ۹۰۲۲

[5]    المعجم الکبیر ج ۴ ص ۱۵۰ حدیث ۳۹۷۳

[6]    ابو داوٗد  ج ۴ ص ۲۹۰ حدیث ۴۶۸۱ 

[7]    الادب المفرد ص۱۲۱حدیث ۴۰۶



Total Pages: 19

Go To