Book Name:Siyah Faam Ghulam

طیبہ (سرگودھا) کے رہنے والے تھے ۔ انہوں  نے میرے اوپر انفرادی کوشِش کی اور مجھے ہفتہ وار سنّتوں  بھرے اجتِماع میں  لے جانا شروع کردیا  ، اُن کے حُسنِ اَخلاق اور پیاری پیاری سُنّتوں  بھری باتوں  سیمُتأَثِّر ہوکر میں  نے سابِقہ تمام گناہوں  سے توبہ کرلی اور اب اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ مکمَّل طور پر مَدَنی ماحَول سے وابَستہ ہوں   ، 30 دن کے مَدَنی قافِلوں  میں  عاشقانِ رسول کے ساتھ سفر کی سعادت بھی ملی ہے  ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّ وَجَلَّ  یہ بیان دیتے وَقت ایک شُعبے کی عَلاقائی مشاوَرت کے نگران کی حیثیت سے نَمازوں  اور سنّتوں  کی دھومیں  مچا رہا ہوں  ۔

  نَیکوں  کی مَحَبَّت کب کارِثواب ہے !

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے !عاشقانِ رسول کی صحبت اوراچّھوں  کیمَحَبَّتنے ایک اَوباش آدمی کو کہاں  سے کہاں  پہنچا دیا! آپ بھی ہمیشہ اچّھی صُحبت اختیار کرنے اور اچّھوں  سے مَحَبَّترکھنے کا ذِہن بنالیجئے ،  مَدَنی قافِلے میں  سفر کرنے والے خوش نصیبوں  کو ان دونوں  نعمتوں  کے حُصول کا بہترین موقع نصیب ہو جاتا ہے ۔ اچّھوں  کی مَحَبَّتکے کیا کہنے ! مگر اِس  مَحَبَّت  سے مقصود صِرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا ہو ، دُنیا وی یا کاروباری مَفاد کی وجہ سے یا کسی کی دِلرُبا اداؤں  یا چٹپٹی باتوں  یاحُسن و جمال یا دولت و مال کی وجہ سے کی جانے والی  مَحَبَّت  اللہ کیلئے نہیں  کہلاتی یہاں  تک کہ صرف خونی رشتے کے جوش کے سبب ماں  باپ ، اولادیا کسی رِشتے دار سے مَحَبَّت کرنا بھی کارِ ثواب نہیں  ، جب تک رِضائے الہٰی عَزَّ وَجَلَّ  پانے کی نیَّت نہ ہو ۔   ’’ش  عَزَّ وَجَلَّ   کی مَحَبَّت ‘‘  کے مُتَعلِّق وَضاحت کرتے ہوئے مُفَسّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان فرماتے ہیں : کسی بندے سے صرف اس لیے مَحَبَّت کرے کہ رب تعالیٰ اِس سے راضی ہوجائے ، اِس(مَحَبَّت ) میں  دُنیاوی غَرَض(اور) رِیا ( یعنی دکھاوا)نہ ہو ۔ اِس مَحَبَّت میں  ماں  باپ ، اولاد (اور)اہلِ قَرابت (یعنی رشتے دار) مسلمانوں  سیمَحَبَّت سب داخِل ہیں  جب کہ رِضا ئے الہی (عَزَّ وَجَلَّ  ) کے لیے (یہ مَحَبَّتیں   ہوں  ۔ حضراتِ اَولیاء ( رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تعالٰی)، انبِیاء (عَلَیْہِم الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام )سے  مَحَبَّت سبحٰنَ اللّٰہ! یہ تو حُبّ فِی اللہ (اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں  مَحَبَّت )کا اعلیٰ دَرَجہ ہے ، خدا عَزَّوَجَلَّ  نصیب کرے  ۔ (مِراٰۃ ج ۶ ص ۵۸۴ )

"مَحَبَّتِ سول" کے آٹھ حروف کی نسبت سے اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  کیلئے مَحَبِّت رکھنے کے 8 فضائل

   {1} اللہ تعالیٰ قِیامت کے دن فرمائے گا :  کہاں  ہیں  جو میرے جلال کی وجہ سے آپس میں  مَحَبَّت رکھتے تھے ، آج میں  اُن کو اپنے سائے میں  رکھوں  گا ، آج میرے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں [1]؎ {2} اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے جو



[1]    مُسلِم ص ۱۳۸۸ حدیث ۲۵۶۶



Total Pages: 19

Go To