Book Name:Siyah Faam Ghulam

پھینک دیا ۔  وہ کہنے لگے کہ یہ محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ) اور ان کے ساتھیوں  نے کیا ہوگا ، کیونکہ یہ ان کے پاس سے بھاگ کر آیا تھا ، اس لیے ہمارے ساتھی کی قَبْر کھود ڈالی ۔  دوسری مرتبہ انہوں  نے اس کے لیے اور گہرا گڑھا کھودا ، لیکن صبح وہ پھر باہَر زمین پر پڑا ہوا تھا ، کہنے لگے :  یہ محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ) اور ان کے ساتھیوں  نے کیا ہوگا ، کیونکہ یہ ان کے پاس سے بھاگ کر آیا تھا ، لہٰذا ہمارے ساتھی کیقَبْر کھود ڈالی ۔  تیسری دَفعہ اُنہوں  نے اس کے لیے جتنا گہرا کھود سکتے تھے اتنا گہراگڑھا کھودا ، لیکن صُبح کے وَقت اسے زمین کے اُوپر پڑا ہوا پایا ۔  اب اُنہوں  نے جانا کہ ان کے ساتھ یہ سُلوک انسانوں  کی جانب سے نہیں  ہے ، پھر اُنہوں  نے اُس کواسی طرح باہَر پڑا ہوا چھوڑ دیا ۔ ( صَحِیحُ الْبُخارِیّ ج۲ ص۵۰۶حدیث ۳۶۱۷دار الکتب العلمیۃ بیروت ، صَحِیح مُسلِم ص۱۴۹۷حدیث۲۷۸۱ دار ابن حزم بیروت )

نہ اُٹھ سکے گا قِیامت تلک خدا کی قسم

کہ جس کو تُونے نظرسے گِرا کے چھوڑدیا

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                       صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

عِلمِ مصطَفٰے پر اِعتِراض میں  ہَلاکت ہے

           میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے ؟اُس بدقسمت نے کائنات کی سب سے بہترین صُحبت کی قَدْر نہ کی اوربدبختی کے سبب مُرتَدہوکر اپنے رَحمت والے مُشفِق ومہربان آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے علمِ شریف پر اعتِراض کیا ۔  اورنتیجۃً وہ ایسا تباہ وبربادہوا کہ اُسے زمین نے بھی قَبول نہیں  کیا ۔  یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ کے محبوب  ، دانائے غُیُوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے عِلمِ مبارَک پر اعتِراض کرنا دونوں  جہاں میں  باعثِ ہلاکت ہے ۔ مومِن شانِ رسالت اور علمِ مصطَفٰے علیہ التَّحِیَّۃُ وَ الثَّناء پر ہرگز اعتِراض نہیں  کر سکتا یہ مُنافِقِین ہی کا حصّہ ہے ۔ کسی نے سچ ہی کہا ہے :  اَلنِّفاقُ یُوْرِثُ الْاِعتِراض یعنی مُنافَقَت اِعتِراض کو جَنم دیتی ہے ۔

کریں  مصطَفٰے کی اِہانتیں  کھلے بندوں  اِس پہ یہ جُرأَتَیں

کہ  میں  کیا نہیں  ہوں  محمّدی! ارے ہاں  نہیں ! ارے ہاں  نہیں !

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                       صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بیان کو اِختِتام کی طرف لاتے ہوئے سنّت کی فضیلت اور چند سنّتیں  اور آداب بیان کرنے کی سعادت حاصِل کرتا ہوں  ۔ تاجدارِ رسالت  ، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت  ، مصطَفٰے جانِ رحمت ، شمعِ بزمِ ہدایت ، نَوشَۂ بزمِ جنّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ جنّت نشان ہے :  جس نے میری سنّت سے  مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سیمَحَبَّت کی وہ جنّت  میں  میرے ساتھ ہو گا  ۔

                                (مِشْکاۃُ الْمَصابِیح ، ج۱ ص۵۵ حدیث ۱۷۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت  )

 



Total Pages: 19

Go To