Book Name:Siyah Faam Ghulam

نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے آقا ، محمدمصطَفٰیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کئی ماہ تک تشریف فرمارہیں  وہ بی بی آمِنہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا معاذَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ   کُفر پر دنیا سے جائیں  اورعذابِ قبر میں  مبتَلارہیں  یہ کیوں  کر ہوسکتاہے ۔ یقینا سلطانِ کونَینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کے والِدَین کریمینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکی حیات ِطیِّبہ کا ہر لمحہ توحید پر گزرااوروہ جنّتی ہیں  ۔ بلکہ ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے تمام آباؤ اجداداہلِ حق تھے  ۔ تفصیلی معلومات کیلئے  فتاوٰی رضویہ جلد30  صَفْحَہ267 تا305کامُطالَعہ فرمایئے  ۔

خدا نے کیاان کو بے مِثل پیدا       نہیں  دو جہاں  میں  مثالِ محمد

خدا اور نبی کا ہے اُس پہ تو سایہ               جسے ہر گھڑی ہے خیالِ محمد

{11}مُردہ بکری زندہ ہوگئی

          حضرتِ سیِّدُنا جابِر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ایک بار نبیوں  کے سردار، سرکارِ ذی وقارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کے دربار ِ گہر بارمیں  حاضِر ہوئے تو مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کے چہرۂ پُرانوار پربھوک کے آثار دیکھے  ۔ گھر آکر زوجۂ محترمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے پوچھا  : گھر میں  کچھ کھانے کے لیے بھی ہے ؟عرض کی :  گھر میں  ایک بکری اورتھوڑے سے جَو کے دانوں  کے علاوہ کچھ بھی نہیں  ۔ بکری ذَبح کردی گئی  ، جَوپیس کر روٹیاں  پکاکرسالن میں  بھگوکر ثَرِید تیّار کیا گیا ۔  سیِّدُنا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : میں  نے وہ ثَرید کا برتن اٹھا کرمدینے کے تاجور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کی بارگاہِ انور میں  پیش کردیا ۔

 رحمت عالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے مجھے حکم دیا :  ’’اے جابِر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ!جاؤ لوگوں  کو بُلا لاؤ ۔ ‘‘جب صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان حاضرہوگئے تو ارشاد ہوا : میرے پاس تھوڑے تھوڑے بھیجتے جاؤ  ۔ چُنانچِہ صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان حاضر ہوتے اورکھانا تناوُل فرما کر چلے جاتے ، جب سب کھاناکھاچکے تو میں  نے دیکھا کہ برتن میں  ابتِداء ًجتنا کھانا تھا اُتنا ہی اب بھی موجود ہے ۔ نیز سرکارِعالی وقارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کھانے والوں  کو فرما رہے تھے کہ ہڈّی مت توڑنا ۔  سرکار دو جہاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے سب ہڈّیا ں جمع کر نے کا حکم فرمایا ۔  جب ہڈّیاں  جمع ہوگئیں  توسرورِکائنات  ، شَہَنشاہ ِموجوداتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اپنا دست مبارَک ہڈیوں  پر رکھ کر کچھ پڑھا ۔ ہڈیوں  میں  حَرَکت پیداہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے بکری کان جھاڑتی ہوئی اُٹھ کھڑی ہوئی ۔ سرکارمدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے فرمایا : اے جابِر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ !اپنی بکری لے جاؤ ۔ میں  بکری لے کر جب گھر آیاتو زوجۂ محترمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے پوچھا :  یہ بکری کہاں  سے لائے ؟ میں  نے جواب دیا :  خدا عَزَّ وَجَلَّ  



Total Pages: 19

Go To