Book Name:Siyah Faam Ghulam

الانُف ج۱ ص۲۹۹ دارالکتب العلمیۃ بیروت )

اِجابت کا سہر اعنایت کا جَوڑا         دُلہن بن کے نکلی دعائے محمد

اِجابت نے جُھک کر گلے سے لگایا    بڑھی ناز سے جب دعائے محمد

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                       صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

  والِدَینِ کریمَین توحید پر تھے

          ہمارے پیارے پیارے آقا مکی مَدَنی مصطَفٰیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ابھی اپنی اَمّی جان سیِّدتُنا آمِنہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے مبارَک پیٹ میں  تھے کہ سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے والدِ ماجِدحضرتِ سیِّدُنا عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دنیا سے پردہ فرمالیا اور جب مکّی مدنی سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کی عمر شریف 5یا 6 برس کی ہوئی تو والِدۂ ماجِدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بھی دنیا سے رخصت ہوگئیں  اورمحبوبِ ربِّ ذُوالجلال   ، صاحبِ جُودونَوال، سرکارِ خوش خِصال عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے چالیس سال کی عمر شریف میں  اعلانِ نُبُوَّت(نُ ۔ بُو ۔ وَت) فرمایا ۔ اِس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ سلطانِ دارین ، سروَرِ کونین  ، نانائے حَسَنَینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  و رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے والِدَینِ کریمین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَامعاذَ اللّٰہعَزَّ وَجَلَّ  َحالتِ کفرمیں  فوت ہوئے تھے او رعذابِ قبر میں  مبتَلاتھے اِس لئے سرکارِ دو جہانصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ان کوکلمہ پڑھا کر مسلمان کیا تاکہ عذاب سے نَجات پائیں   ۔ ہرگز ایسا نہیں  تھا بلکہ وہ دونوں  تَوحید پر قائم تھے اورزندگی میں  کبھی بھی اُنہوں  نے بُت پرستی نہیں  کی تھی ۔  محبوبِ ربُّ العزَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے انہیں  اپنی ا مّت میں  شامل کرنے کے لیے دوبارہ زندہ فرما کر کلمہ پڑھایا ۔

مجھ کو اب کلمہ پڑھا جا مِرے مدنی آقا

تیرا مجرِم شہا دنیا سے چلا جاتا ہے

یونُس عَلَیْہِ السَّلام  والی مچھلی جنّت میں  جائیگی

          حضرتِ سیِّدُنا اسماعیل حقّی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ’’ تفسیرِ روح ُالبیان ‘‘میں نقل فرماتے ہیں : ’’حضرتِ سیِّدُنا یونُسعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام تین دن یا سات دن یا چالیس دن مچھلی کے پیٹ میں  رہے  ۔ لہٰذا وہ مچھلی جنَّت میں  جائے گی ۔ ‘‘(روحُ البیان ، ج۵ ص۲۲۶، ۵۱۸، کوئٹہ)

والِدَینِ کریمَین  جنّتی ہیں                                              

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!غورفرمائیے ! جس مچھلی کے پیٹ میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نبی حضرتِ سیِّدُنا یونسعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام چند دن رہیں  وہ مچھلی جنَّت میں  جائے اور جس بطنِ آمِنہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا میں  حضرتِ سیِّدُنا یونُس عَلٰی



Total Pages: 19

Go To