Book Name:Budha Pujari

مکّی مَدَنی میٹھے میٹھے مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے دنیا ہی میں جنّت کی بشارت عنایت فرما دی تھی ۔  میرے آقا اعلی حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :

وہ دَسوں جن کو جنّت کا مُثردہ ملا           اُس مبارَک جماعت پہ لاکھوں سلام

کاش ! ہم بھی نیکی کی دعوت دینے والے بنیں

        سبحٰنَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  ! سیِّدُنا صِدّیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کونیکی کی دعوت کا کس قَدر جذبہ تھا کہ دامنِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں پناہ ملتے ہی فوراً ًدوسروں کو بھی سرکارِ محترم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دامنِ کرم سے وابَستہ کرنے کی دُھن لگ گئی ۔   انہیں کتنا زبردست احساس تھا ،  کتنی قَدر تھی اسلام کی ،  اے کاش !  ہمارے دل میں بھی نیکی کی دعوت کی اَہَمّیَّت جاگُزیں ہو جائے ۔  کاش!  ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کی نعمتوں کے مظہر جنّت کی طرف اپنے ان بھولے بھالےاسلامی بھائیوں کو بھی لے چلنے کی کوششیں تیز تر کردیں جو گناہوں کی اندھیر ی وادیوں میں بھٹک رہے ہیں ۔   اے کاش! ہمیں بھی فِرنگی فیشن کی یلغار میں گھرے ہوئے مسلمانوں کو مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی میٹھی میٹھی سنّتوں کی طرف بلانے کا جذبہ نصیب ہوجائے ۔   اس مدنی کام یعنی  نیکی کی دعوت کو عام کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت بھی ہے ۔  دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں ہفتے میں ایک دن مخصوص کر کے دکانوں ،  گھروں وغیرہ پر نیکی کی دعوت پیش کی جاتی ہے۔  بعض اسلامی بھائی ہفتے میں دو بار ، تین بار بھی بلکہ روزانہ بھی دیتے ہیں اور بعض آقا کے دیوانے تو جب دیکھا تنہا ہی نیکی کی دعوت کی دھومیں مچاتے رہتے ہیں !  آیئے تنہا نیکی کی دعوت دینے یعنی  ’’انفرادی کوشش ‘‘  کرنے کے متعلق ایک ایمان افروز مدنی بہار سنتے چلیں چُنانچِہ

ایک ہیروئنچی کی آپ بیتی

        بابُ المدینہ کراچی کے علاقے’’ کورنگی ‘‘کے ایک اسلامی بھائی نے جو کچھ حلفیہ (یعنی بَقَسم)  بیان دیا اُس کا خلاصہ عرض کرتا ہوں : تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک  دعوتِ اسلامی کے کورنگی میں ہونے والے آخِری تین روزہ بینَ الاقوامی سنّتوں بھرے اجتماع کا واقِعہ ہے ۔   اس کے بعدیہ اجتماع مدینۃ الاولیاء  (ملتان شریف)  میں مُنتَقِل کر دیا گیا۔  ہم چند دوست رسمی طور پر اجتماع میں حاضِر تو ہو گئے مگر بیانات کی برکات چھوڑ کر رات اجتماع گاہ کے باہر ایک جگہ بیٹھ کر خوب سگریٹ کے کش اور گپ شپ لگانے میں مشغول ہوئے اسی میں جِنّ بھوت کے سنسنی خیز واقِعات بھی چِھڑ گئے ،  جس کی بِنا پر کچھ ڈراؤنا سا ماحول بن گیا۔  اتنے میں سبز عمامے والے ایک ادھیڑ عمر کے اسلامی بھائی نے قریب آ کر ہمیں سلام کیا اور فرمانے لگے: اگر اجازت ہو تو کچھ عرض کروں !  ہم نے کہا : فرمائیے! اُنہوں نے بڑے ہمدردانہ لہجے میں کہا :  آپ حضرات کے اجتماع میں شرکت کاانداز دیکھ کرمجھے اپنی پچھلی زندَگی یاد آگئی!  میں نے سوچا کہ اپنی آپ پیتی گوش گزار کروں کہ شاید آپ لوگوں کو اس میں کچھ عبرت کے مَدَنی پھول مل جائیں ۔  پھر انہوں نے اپنی داستانِ ہدایت نشان  بیان کرنی شروع کی : پہلے پہل میری سگریٹ نوشی کی عادت پڑی اور پھر



Total Pages: 12

Go To