Book Name:Budha Pujari

        22فروری    ۲۱۰ ؁ء کی وہ عظیم ساعت آئی جب اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ حسب ِمعمول غارِحراکو اپنی برکتوں سے نواز رہے تھے۔   اُس وقت حضرتِ سیِّدُنا جبرئیلِ امین عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامپہلی بار یہ آیاتِ مقدسہ بطور وحی لے کر حاضِرِخدمت ہوئے :

اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ (۱) خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍۚ (۲) اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُۙ (۳) الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِۙ (۴) عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْؕ (۵)  (پ۳۰ ، علق:  ۱۔  ۵)

ترجَمۂ کنزالایمان:  پڑھو اپنے رب  (عَزَّوَجَلَّ)  کے نام سے جس نے پیدا کیا آدمی کو خون کی پھٹک سے بنایا۔   پڑھو اور تمہارا رب  (عَزَّوَجَلَّ)  ہی سب سے بڑا کریم ہے جس نے قلم سے لکھنا سکھایا ۔   آدمی کو سکھایا جو نہ جانتاتھا۔ 

پھر کچھ عرصے کے بعد یہ آیات مقدسہ نازل ہوئیں ۔ 

یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ (۱) قُمْ فَاَنْذِرْﭪ (۲) وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْﭪ (۳) وَ ثِیَابَكَ فَطَهِّرْﭪ (۴) وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْﭪ (۵)   (پ۲۹ ، المدثر:  ۱۔  ۵)

ترجَمۂ کنزالایمان: اے بالاپوش اوڑھنے والے! کھڑے ہوجاؤپھر ڈر سناؤاوراپنےرب (عَزَّوَجَلَّ) ہی کی بڑائی بولواور اپنے کپڑے پاک رکھو اوربتوں سے دور رہو۔ 

آغاز دعوتِ اسلام

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اب اس حکم ’’ قُمْ فَاَنْذِرْ‘‘’’یعنی کھڑے ہوجاؤ پھر ڈر سناؤ‘‘سے سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پرلوگوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّسے ڈرانا اوران تک دعوتِ اسلام پہنچانا فرض ہوچکا تھا مگر ہُنوز علَی الاِْعلان دعوت الَی اللہعَزَّوَجَلَّ  (یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّکی طرف بلانے )  کا حکم نہ تھا۔   لہٰذا آمِنہ کے لال،  محبوب ِربِّ ذُوالجلال عَزَّوَجَلَّ  و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ورَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے فی الحال بااعتماد لوگوں میں چپکے چپکے سلسلۂ تبلیغ کا آغاز فرمایا۔   اَلْحَمْدُ للہ عَزَّوَجَلَّ نبیٔ آخِرالزَّمان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نیکی کی دعوت پر کئی مرد وعورت ایمان لے آئے ۔    مردوں میں سب سے پہلے حضرتِ سیِّدُنا ابوبکرصِدّیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  لڑکوں میں امیرُالْمُؤمِنِین حضرتِ مولائے کائنات،  علیُّ المُرتَضٰی شیرِ خدا  کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم خواتین میں اُمّ الْمُؤمِنِینخَدیجۃُ الکُبرٰی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا ،  آزادشُدہ غلاموں میں حضرتِ سیِّدُنازَید بن حارِثہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ   ، غلاموں میں حضرتِ سیِّدُنابِلال حبشی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ   ایمان لے آئے ۔ 

مسلمان ہوتے ہی نیکی کی دھوم

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیرُالْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدُنا ابو بکر صِدّیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ایمان لاتے ہی نیکی کی دعوت کی دھومیں مچانی شروع کر دی۔   آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی انفِرادی کوشش سے پانچ وہ حضرات مشرَّف بہ اسلام ہوئے جن کا شمارعشرۂ مُبَشَّرہ میں ہوتا ہے ۔   ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں :  {1}  حضرتِ سیِّدُناعثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  {2} حضرتِ سیِّدُناسعد بن ابی وقّاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  {3} حضرتِ سیِّدُناطَلحہ بن عُبَیدُاللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  {4} حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمن بن عَوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  {5} حضرتِ سیِّدُنازُبیر بن عَوّام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ۔   عشرۂ مُبَشَّرہ ‘‘ اُن دس صَحابۂ کِرام علیہم الرضوان کو کہتے ہیں جن کو ہمارے



Total Pages: 12

Go To