Book Name:Budha Pujari

مبارَک ہوکہ دَورِ راحت وآرام آپہنچا                     نَجاتِ دائمی کی شکل میں اسلام آپہنچا

مبارک ہوکہ ختم المرسلیں تشریف لے آئے            جناب رَحمۃُ لِّلعٰلمین تشریف لے آئے                                                   

 بَصَداندازِیکتائی بَغایَت شانِ زَیبائی

امیں بن کر امانت آمِنہ کی گود میں آئی

    دنیا میں تشریف لاتے ہی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے سجدہ کیا۔   اس وقت ہونٹوں پر یہ دُعاجاری تھی: رَبِّ ہَبْلِیْ اُمَّتِیْ یعنی پروردگار! میری اُ مّت مجھے ہِبہ کر دے ۔ 

رَبِّ ہَبْلِیْ اُمَّتِیْ کہتے ہوئے پیدا ہوئے

حق نے فرمایا کہ بخشا الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام

غارِ حِرامیں عبادت

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اہلِ عَرَب کی بھاری اکثریت کے حالات آپ سُن چکے ۔   ایسی وَحشی قوم میں رہتے ہوئے بھی ہمارے مکّی مَدَنی آقامیٹھے میٹھے مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکبھی کسی مجلسِ لَہو ولَعِب  (یعنی کھیل کود) میں شریک نہیں ہوئے اور سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذات سِتُودہ صِفات ہر قسم کی برائی سے دور ہی رہی۔   سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اَخلاقِ حمیدہ سے مُتَّصِف اورصِدق وامانت میں اس قَدَرمُتَعارِف ہوئے کہ خود آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی قوم آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ’’صادِق ‘‘ اور ’’امین‘‘ کے لقب سے یاد کرتی تھی۔  سرکار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم غارِحرا میں (جو مکّۂ مکرَّمہ     زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماًسے منیٰ شریف کو جاتے ہوئے بائیں طرف کو آتا ہے) قِیام فرماتے اوروہاں کئی کئی روز تک اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کی عبادت میں مشغول رہتے ۔   

اظہار نُبُوت

         شاہمکّۃُالمکرَّمہ ،  سلطانِ مدینۃ المنورہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی عمر شریف جب چالیس سال کی ہوئی اُس وقت اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طر ف سے آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اظہار ِنُبُوَّت کی اجازت ملی۔   ورنہ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تو اس وقت بھی نبی تھے جبکہ ابھی حضرت سیِّدُنا آدم صَفِیُّ اللّٰہعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکی تخلیق (یعنی پیدائش)  بھی نہ ہوئی تھی۔   چُنانچِہ نبیِّ محترم،  نُورِ مُجَسَّم ،  رسولِ مُحتَشَم، شاہِ بنی آدم،  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت سراپا عظمت میں عرض کی گئی: مَتٰی کُنْتَ نَبِیًّا یعنی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کب سے نبی ہیں ؟  فرمایا : وَاٰدمُ بَیْنَ الرُّوْحِ وَالجَسَد یعنی  (میں تو اس وقت بھی نبی تھاجبکہ ابھی )  آدم  (علیہ السلام) روح اورجسم کے درمیان تھے۔   (اَلْمُسْتَدْرَک لِلْحاکِم  ج۳ص۵۰۸حدیث۴۲۶۵دارالمعرفۃ بیروت)

آدم کا پتلا نہ بنا تھا، جب بھی وہ  دنیا میں نبی تھے

ہے اُن سے آغازِ رِسالت صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ

پہلی وحی

 



Total Pages: 12

Go To