Book Name:Budha Pujari

ساتھ اس بھینٹ  (یعنی انسان یا اونٹ جو بھی ہو) پر پہلا وار کرتااور اس کا کچھ خون پیتا ۔   اس کے بعدحاضِرین اُس سفید اونٹ یا انسان پر ٹوٹ پڑتے اور اس کی تِکّہ بوٹیاں کر کے اس کو کچّاہی کچّاکھاڈالتے !  اَلغرض عَرَب میں ہر طرف وَحشت وبَربَریت کا دَور دَورہ تھا ۔   لڑائیوں میں آدمیوں کو زندہ جلا دینا ،  عورَتوں کا پیٹ چیرڈالنا، بچّوں کوذَبح کرنا،  ان کو نیزوں پر اُچھال دینا ان کے نزدیک مَعیوب نہ تھا۔ 

دنیا کی بَدحالی

        یہ حالت صرف عَرَب کے ساتھ ہی مخصوص نہ تھی بلکہ تقریباً پوری دنیا میں تاریکی چھائی ہوئی تھی ۔   چُنانچِہ اہلِ فارس  (یعنی اِیرانی) اکثرآگ کی پوجا کرنے اوراپنی ماؤں کے ساتھ وَطی کرنے میں مشغول تھے ۔   بکثر ت تُرک شب وروز بستیاں اجاڑنے اورلُوٹ مارکرنے میں مصروف تھے اوربت پرستی اورلوگوں پر ظلم وجفاان کا وَتِیرہ تھا ۔   ہندوستان کے کثیرافراد بتوں کی پوجاپاٹ اور خود کو آگ میں جلا دینے کے علاوہ کچھ نہ جانتے تھے ۔   بَہَرکَیف ہر طرف کفر وظلمت کا گھٹا ٹو پ اندھیرا چھایا ہوا تھا ۔  کافِر انسان بدتر ازحیوان ہوچکا تھا۔   چُنانچِہ

آقا کی ولادت ہو گئی

         اِس عالمگیر ظلمت میں نور کے پیکر ،  تمام نبیوں کے سرور، دوجہاں کے تاجور، سلطان بحروبر، آمِنہ کے پِسَر، حبیب داورعَزَّوَجَلَّ  و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ و رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کل جہاں کے لئے ہادی ورہبربن کر واقعۂ اصحابِ فیل کے پچپن  (55)   دن کے بعد12ربیعُ النُّوربمطابق20اپریل  571؁ء ([1]) بروزِپیر صُبحِ صادِق کے وَقت کہ ابھی بعض ستارے آسمان پرٹِمٹِما رہے تھے ، چاند سا چہرہ چمکاتے ،  کستُوری کی خوشبومہکاتے ، خَتنہ شُدہ،  ناف برِیدہ ، دونوں شانوں کے درمیان مُہرِ نُبُوَّت دَرَخشاں ، سُرمَگیں آنکھیں ، پاکیزہ بدن دونوں ہاتھ زمین پر رکھے ہوئے ،  سرِپاک آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے دنیا میں تشریف لائے۔   (اَلْمَوَاہِبُ اللَّدُنِّیَّۃ  لِلْقَسْطَلَّانِیّ ج۱ ص۶۶۔  ۷۵ وغیرہ دارالکتب العلمیۃ بیروت)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!           صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ربیعُ الاول اُمیدوں کی دنیا ساتھ لے آیا          دعاؤں کی قَبولیَّت کو ہاتھوں ہاتھ لے آیا

خدا نے ناخُدائی کی خود انسانی سفینے کی               کہ رحمت بن کے چھائی بارہویں شب اس مہینے کی

جہاں میں جشنِ صبحِ عید کا سامان ہوتا تھا           اُدھر شیطان تنہا اپنی ناکامی پہ روتا تھا

صدا ہاتف نے دی اے ساکنانِ خِطّۂ ہستی!        ہوئی جاتی ہے پھرآباد یہ اُجڑی ہوئی بستی

مبارَکباد ہے ان کیلئے جو ظلم سہتے ہیں          کہیں جن کو اماں ملتی نہیں بربادرہتے ہیں

مبارکباد بیواؤں کی حسرت زا نگاہوں کو             اثر بخشاگیا نالوں کو فریادوں کو آہوں کو

ضعیفوں بیکسوں آفت نصیبوں کو مبارَک ہو          یتیموں کو غلاموں کو غریبوں کو مبارک ہو

مبارَک ٹھوکریں کھا کھا کے پَیہم گرنے والوں کو     مبارَک دشتِ غُربت میں بھٹکتے پھرنے والوں کو

 



[1]    تفصیلی معلومات کے لیےفتاوٰی رضویہ مُخَرَّج جلد 26 صفحہ،414 ملاحضہ فرمالیجیئے۔



Total Pages: 12

Go To