Book Name:Budha Pujari

اٹھایا اوروہ سب کے سب قَہقَہے مار کر ہنستے رہے ، یہاں تک کہ خاتونِ جنّت سیِّدہ فاطِمۃُ الزَّہرا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  (جن کی عمر اُس وقت بمشکل آٹھ سال تھی )  آئیں اورانہوں نے  حبیبِ اکبرعَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی پُشتِ اطہر سے اس گندگی کو اُٹھا کر پھینکا ۔   تب سرکارِ نامدار  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنا سرِاقدس اٹھایا اور اپنے  پروردگار عَزَّوَجَلَّ  کے دربار میں عرض گزار ہوئے۔   یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  ! ان قُریشیوں کو پکڑ۔  یا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ !     تُوابوجہل بن ہشّام ،  عُتبہ بن رَبیعہ،  شَیبہ بن ربیعہ ،  ولید بن عُتبہ،  اُمَیّہ بن خَلف اورعُقبہ بن اَبی مُعِیط کو پکڑ ۔   اس حدیثِ پاک کے راوی حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ   فرماتے ہیں : میں نے ان کو بدر کے روز مقتول (یعنی قتل شدہ)  دیکھا۔   وہ بدر کے کنویں میں اوندھے منہ گرے ہوئے تھے۔   (صَحِیحُ البُخارِیّ ج ۱ص ۱۰۲ حدیث ۲۴۰ )  

نہ اٹھ سکے گا قیامت تلک خدا عَزَّوَجَلَّ  کی قسم

کہ جس کو تم نے نظر سے گرا کے چھوڑ دیا

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  بیان کو اِختِتام کی طرف لاتے ہوئے سنّت کی فضیلت اور چندسُنّتیں اور آداب بیان کرنے کی سعادت حاصِل کرتا ہوں ۔   تاجدارِ رسالت ،  شَہَنْشاہِ نُبُوَّت ،  مصطَفٰے جانِ رحمت،  شمعِ بزمِ ہدایت ، نَوشَۂ بزمِ جنّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ جنّت نشان ہے:  جس نے میری سنّت سے  مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سیمَحَبَّت کی وہ جنّت  میں میرے ساتھ ہو گا ۔   (مِشْکاۃُ الْمَصابِیح ، ج۱ ص۵۵ حدیث ۱۷۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت  )

سُنّتیں عام کریں دین کا ہم کام کریں

نیک ہو جائیں مسلمان مدینے والے

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 ’’یانبیَّ ا للّٰہ‘‘ کے نو حُرُوف کی نسبت سے ناخُن کاٹنے کے9 مَدَنی پھول

 {1} جُمُعہ کے دن ناخن کاٹنا مُستَحَبہے۔   ہاں اگر زیادہ بڑھ گئے ہوں تو جُمُعہ کا اِنتظار نہ کیجئے   (دُرِّمُختارج۹ص۶۶۸) صدرُ الشَّریعہ،  بدرُ الطَّریقہ مولیٰنا امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ القویفرماتے ہیں : منقول ہے: جو جُمُعہکے روز ناخُن تَرَشوائے  (کاٹے) اللہ تعالٰی اُس کو دوسرے جُمعے تک بلاؤں سے محفوظ رکھے گا اور تین دن زائد یعنی دس دن تک۔   ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ جو جُمُعہ کے دن ناخُن تَرَشوائے  (کاٹے)  تو رَحمت آئیگی اور گُناہ جائیں گے (دُرِّمُختار،  رَدُّالْمُحتَارج۹ص۶۶۸،  بہارِشریعت حصّہ۱۶ ص ۲۲۵، ۲۲۶)  {2}  ہاتھوں کے ناخُن کاٹنے کے منقول طریقے کاخُلاصہ پیشِ خدمت ہے:  پہلے سیدھے ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے شُرو ع کر کے ترتیب وار چھنگلیا  (یعنی چھوٹی انگلی )  سَمیت ناخن کاٹے جائیں مگر انگوٹھا چھوڑدیجئے ۔  اب اُلٹے ہاتھ کی چھنگلیا  (یعنی چھوٹی انگلی )  سے شروع کرکے تر تیب وار انگوٹھے سَمیت ناخن کاٹ لیجئے۔  اب آخِرمیں سیدھے ہاتھ کے انگوٹھے کا ناخن کاٹا جائے۔   (دُرِّمُختارج۹ص۶۷۰،  اِحْیائُ الْعُلُوم  ج ۱ ص ۱۹۳)  {3}  پاؤں کے ناخُن کاٹنے کی کوئی ترتیب منقول نہیں ،  بہتر یہ ہے کہ سیدھے پاؤں کی چھنگلیا  (یعنی چھوٹی انگلی) سے شُروع کر کے تر تیب وار انگو ٹھے سَمیت ناخُن کاٹ لیجئے پھر اُلٹے پاؤں کے انگو ٹھے سے شُرو ع کر کے چھنگلیاں سَمیت ناخن کاٹ



Total Pages: 12

Go To