Book Name:Budha Pujari

بڑھتارہاتُوں تُوں کفّاربداطوارکے غیظ و غضب میں بھی اضافہ ہوتارہا۔  وہ ہر ساعت ماہِ رسالت  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کواَذیت پہنچانےکی

تاک میں رہتے تھے۔   

چادر کا پھندا

        کفّارِنابَکارایک بار کعبۂ پُرانوارکے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے اور سرکارِعالم مدار، دوجہاں کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  (مقام ابراہیم علیہ الصلوٰۃو السلام کے قریب)  مشغولِ نَمازتھے۔  عُقبہ بن اَبی مُعِیط نامی کافِر نے آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی گردن مبارَک میں چادرکاپھنداڈال کر سختی کے ساتھ آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا مُبارَک گلا گھونٹنا شروع کیا۔  حضرت ِسیِّدُناابوبکرصِدّیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  دوڑے آئے اور اسے  (یعنی عُقبہ بن ابی مُعِیط کو) پیچھے ہٹایااور آ پ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی مبارَک زَبان پر پارہ24 سورۃُ المُؤمِن کی آیت نمبر28جاری تھی :

اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰهُ وَ قَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْؕ-

  ( ترجَمۂ کنزالایمان : کیا ایک مرد کو اس پر مارے ڈالتے ہوکہ وہ کہتاہے کہ میرا رب اللہ  (عَزَّوَجَلَّ )  ہے اوربیشک وہ روشن نشانیاں تمہارے پاس تمہارے رب   (عَزَّوَجَلَّ )  کی طرف سے لائے ۔   )  (صَحِیحُ البُخارِیّ  ج۳صذ حدیث۴۸۱۵دارالکتب العلمیۃ بیروت)

         ایک روزدوجہاں کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنے کاشانہ ٔ اطہر سے باہَر تشریف لائے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو راستے میں جوبھی کافِر ملتا خواہ غلام ہوتا یا آزاد وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تکلیف دیتا۔    (اَلسِّیْرَۃُ النَّبَوِیَّۃ لابن ہَشّام ص ۱۱۳)  آہ! امامُ العابِدین،  سلطانُ السّاجِدین ، سیِّدُ الصّالِحین، سیِّدُ الْمُرسَلین،    خاتَمُ النَّبِیّین ، جنابِ رَحمۃٌ  لِّلْعٰلمِین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی داستانِ غم نشان پر دل خون روتاہے ۔   اِس قَدَر مظالِم سہنے کے باوُجُودبھی ولولۂ تبلیغِ اسلام اورنَمازوں کا اہتِمام اللہ! اللہ!      ؎

حَرم کی سرزمیں پر آپ پڑھتے تھے نَمازاکثر

ہمیشہ اُس گھڑی کی تاک میں رہتے تھے بدگوہر

کوئی آقا کی گردن گُھونٹتا تھا کَس کے چادر میں

کوئی بدبخت پتّھر مارتا تھا آپ کے سر میں

اونٹنی کا بچّہ دان 

    ایک دن حُضورسراپانور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کعبۂ معظمہزادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً  کے قریب نَماز پڑھ رہے تھے اورکفّارِ قریش ایک جگہ بیٹھے ہوئے تھے ۔   ان میں سے ایک نے کہا کہ تم ان کو دیکھ رہے ہو؟  پھر بولا: تم میں کون ایسا ہے جوفُلاں قبیلے سے ذَبح کردہ اونٹنی کا بچّہ دان اٹھا لائے اورجب یہ سَجدے میں جائیں تو ان کے کندھوں پر رکھ دے؟ اس پر بدبخت عُقبہ بِن اَبِی مُعِیط اٹھ کر چل دیااور بچّہ دان  (یعنی وہ کھال جس میں اونٹنی کا بچہ لپٹا ہوا ہوتا ہے)  لاکر رحمتِ عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دونوں مبارَک شانوں کے درمیان رکھ دی۔   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اسی حال میں رہے اورسرِ مبارَک سَجدے سے نہ



Total Pages: 12

Go To