Book Name:25 christian Qaidiyon aur padri Ka Qabool e Islam

          اللہ    عَزَّ وَجَلَّ    شیخ طریقت امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ پر اپنی کروڑوں  رحمتوں  کا نزول فرمائے، جن کی بنائی ہوئی مَدَنی تحریک دعوتِ اسلامی  نے معاشرے کے بگڑے ہوئے انسانوں  کی دنیا میں  انجام گاہ ’’جیل خانہ جات‘‘ میں  بھی مَدَنی کام کا آغاز فرمایا۔مدرسہ فیضان قرآن کے ذریعے ان افراد کو اپنی اصلاح کا موقع فراہم کیا جنہیں  قیدو بند کی صعوبتیں  راہ جرم سے ہٹا نہ سکیں ۔خوبیٔ قسمت سے مجھے بھی اسی مدرسہ میں  پڑھنے کا موقع مل گیا، بھائی چارے کے اسلامی جذبے سے سرشار، عاملینِ سنن سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صحبت نے میری زندگی میں  مَدَنی انقلاب برپا کر دیا۔میں  نے رو رو کر  اللہ    غفار  عَزَّ وَجَلَّ   سے اپنے گناہوں  کی معافی مانگی، روٹھے ہوئے والدین اور ناراض بہن بھائیوں  کو منایا۔شیخ طریقت امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے دامن سے وابستہ ہو کر اپنے آقا مدینے والے مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیاری پیاری سنتوں  پر عمل کو حرزِ جاں  بنا لیا اور اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ  اب جیل میں  دعوت اسلامی کے مَدَنی کاموں  کی دھومیں  مچانے میں  مصروف عمل ہوں ۔   

اللہ عَزَّوَجَلَّ کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی  اللہ تعالٰی علٰی محمَّد   

(10) جب میں  نے رسالہ ’’قبر کا امتحان ‘‘ پڑھا…

 سینٹرل جیل حیدر آباد(باب الاسلام سندھ) میں ضلع سانگھڑ کے رہائشی ایک قیدی کی تحریر کا لب لباب کچھ یوں  ہے کہ میں  زندگی کے قیمتی ایام اپنے خالق ومالک   اللہ    عَزَّ وَجَلَّ   کی نافرمانیوں  میں  بسر کر رہا تھا۔ اس کے احکامات کی بجا آوری میں  سستی میری عادت بن چکی تھی۔لذتِ گناہ میں  مخمور ، گندی فلمیں  اور ڈرامے دیکھتے دیکھتے میں  جرائم کی دنیا میں داخل ہو گیا۔شب و روز دشت ِجرم میں  بھٹکتا رہتا۔ آخر کار ایک دن مجھے کسی جرم کی پاداش میں  25سال قید کی سزا سنا دی گئی ۔ جیل میں  آنے کے بعد بھی میں  نہ سدھر سکا یہاں  تک کہ زندگی کے11سال مزید گزر گئے۔

        پھر میرے سُدھرنے کا سامان ہوہی گیا ، اس کی ترکیب کچھ یوں  بنی کہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ چند باعمامہ اسلامی بھائی ہماری بیرک میں نیکی کی دعوت دینے کیلئے تشریف لاتے اور شیخ طریقت امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے مَدَنی رسائل بھی تحفۃً  تقسیم کیا کرتے۔ایک مبلغ دعوت اسلامی نے مجھے ایک رسالہ’’قبر کا امتحان‘‘ پڑھنے کے لئے دیا۔ جب میں  نے اس میں  منکر نکیر کے سوالات کے وقت کی کیفیات ، قبر کا اپنے اندر آنے والوں  سے سلوک اور قبر کے دیگر معاملات کے بارے میں  پڑھاتو خوف خداوندی  عَزَّ وَجَلَّ   سے لرزاُٹھا، اپنے گناہوں  کو یاد کر کے بہت نادم ہوا اور عزم  مصمم کر لیا کہ اب اپنا دامن گناہوں  کی کانٹے دار شاخوں  سے حتی المقدور بچاؤں  گا اور نیکی کے راستے پر چلوں  گا۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ    میں  نے توبہ کر لی اور پنج وقتہ نماز کی پابندی کے ساتھ ساتھ نماز تہجد کی عادت بھی بنا لی، چہرے پر داڑھی شریف سجا لی اور دعوت اسلامی کے مدرسہ فیضان قرآن میں  علم دین حاصل کرنا شروع کر دیا۔میری توبہ کی برکتیں  ظاہر ہونا شروع ہو گئیں  ، کیس کی مشکلات خود بخود ختم ہوتی چلی گئیں  اور اب  اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ   میں  آزاد ہونے والا ہوں ۔میری نیت ہے کہ جیل سے رہائی کے بعد ان شاء   اللہ    عَزَّ وَجَلَّ     سنتیں  سیکھنے کے لئے راہ ِخد  عَزَّ وَجَلَّ   میں  سفر کرنے والیعاشقانِ رسول کے ساتھ دعوتِ اسلامی کے  مَدَنی قافلوں  کا مسافر بنوں  گا۔‘‘

کھڑے ہیں  منکر نکیر سر پر نہ کوئی حامی نہ کوئی یاور

بتا دو آکر مرے پیمبر کہ سخت مشکل جواب میں  ہے

خدائے قہار غضب پر کھلے ہیں  بدکاریوں  کے دفتر

بچا لو آ کر شفیع محشر تمہارا بندہ عذاب میں  ہے

اللہ عَزَّوَجَلَّ کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                     صلَّی  اللہ تعالٰی علٰی محمَّد   

(11) شجرہ ٔ عطاریہ کے وظائف کی برکت

        ڈسٹرکٹ جیل دادو(باب الاسلام سندھ) کے ایک سابقہ قیدی کا بیان کچھ اس طرح ہے کہ اسلامی تعلیمات اور نیک ماحول سے دوری کی وجہ سے مجھے پے درپے ہونے والے گناہوں  کا کوئی احساس تھا نہ نیکی سے محرومی پر کوئی افسوس۔ بُری صحبت کی وجہ سے میں  جرائم کے راستے پر چل نکلا اورایک جُرم کے نتیجے میں  مجھے جیل کی سزا سنا دی گئی۔جیل میں  چند ایسے اسلامی بھائیوں  سے شناسائی ہوئی جن کا حلیہ مَدَنی آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنتوں  کا آئینہ دار تھا۔ انہوں  نے مجھ پر انفرادی کوشش کرتے ہوئے قرآن پاک پڑھنے کے لئے مدرسہ فیضان قرآن میں  بیٹھنے کی ترغیب دی تو میں  ان کی پر خلوص دعوت کو ٹھکرا نہ سکا اور مدرسے میں  بیٹھنا شروع کر دیا۔ چند دن کی حاضری اور نیک لوگوں  کی صحبت کی برکت ظاہر ہونا شروع ہوئی۔میں  نے گناہوں  سے رشتہ توڑ کر نیکیوں  کو اپنانے کا فیصلہ کر لیا ۔مجھے بارگا ہ الہٰی  عَزَّ وَجَلَّ   میں  سچی توبہ کرنا نصیب ہوگیا۔میں  شیخ طریقت امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے شرف بیعت حاصل کر کیعطّاری بھی بن گیا اور  شجرہ ٔ عطاریہ قادریہ کے وظائف کو اپنے معمولات میں  شامل کرلیا۔  اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ  شجرہ شریف کی برکت سے کچھ ہی دنو ں  بعد ۱۴۲۷ ھ میں  مجھے قید سے رہائی مل گئی ۔    ؎

بد سہی، چور سہی، مجرم و ناکارہ سہی

ہے وہ کیسا ہی سہی ہے توکریما تیرا

 



Total Pages: 9

Go To