Book Name:25 christian Qaidiyon aur padri Ka Qabool e Islam

کی تعلیم دینے کے لئے ایک درجے کا آغاز ہوا۔ایک عیسائی قیدی بھی اس میں  داخلے کا خواہشمند ہوا تو مجلس نے مشاورت کے بعد اسے داخلہ دے دیا۔درجے کے ابتدائی معمولات میں  تلاوت ِقرآن ، نعت رسول مقبول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور اس کے بعد درسِ فیضان سنت کا سلسلہ ہوتا پھراس کے بعد کمپیوٹر کی تعلیم کا آغاز کر دیاجاتا۔ چند دن کی شرکت سے اس عیسائی نوجوان کی سوچ میں  تبدیلی آنا شروع ہوئی اور آہستہ آہستہ دینِ اسلام کی محبت اس کے دل میں  پیدا ہونے لگی۔ایک دن خود ہی مبلغِ دعوت اسلامی سے عرض کرنے لگا : آپ کا دین بہت پیارا ہے، آپ کے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی روشن تعلیمات سن کر میرا دل دین اسلام کی طرف مائل ہو چکا ہے۔ مجھے بھی اپنے دین میں  داخل کر کے دنیا و آخرت میں  سرخروئی حاصل کرنے کا موقع دے دیجئے۔‘‘ چنانچہ فورا انہیں  عیسائی مذہب سے توبہ کروا کے کلمہ پڑھا کر مسلمان کر لیا گیا۔ ا س نو مسلم قیدی نے مسلمان ہونے کے بعد اپنی نیت کا یوں  اظہار کیا : میں  رہائی پانے  کے بعد 

 اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ 30دن کے مَدَنی قافلے میں  سنتیں  سیکھنے کے لئے سفر کروں  گا۔    ؎

 اللہ کرم ایسا کرے تجھ پہ جہاں  میں

اے دعوتِ اسلامی تِری دُھوم مچی ہو

اللہ عَزَّوَجَلَّ کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی  اللہ تعالٰی علٰی محمَّد   

(8) میں امامت کرنے لگا

        سینٹرل جیل نارا حیدر آباد(باب الاسلام سندھ) میں  تلہار ضلع بدین کے رہائشی ایک قیدی کا بیان ہے کہ لڑائی جھگڑ اکرنا اور بات بات پہ غصے میں آ جانا میری عادت تھی۔ میری اسی بری عادت نے جیل کے اندر قیدی کی صورت میں  ایام زندگی پورے کرنے پر مجبور کردیا کیونکہ میں  نے غصے میں  آکر کسی کو قتل کرڈالا یوں  مجھے سزا ہو گئی۔ 6سال تک قید رہنے کے باجود اپنے غصے اور لڑائی جھگڑا کرنے کی عادت پر قابونہ پا سکا۔کئی بار عملہ اور قیدیوں  سے لڑائی ہوئی جس میں  ان کے سرپھاڑ دیتا۔ غصے کی حالت میں  خود کشی کی کوشش بھی کی لیکن زخمی حالت میں  مجھے بچا لیا گیا۔ایک دن سبز سبز عمامے شریف کا تاج سجائے سفید لباس میں  ملبوس چند اسلامی بھائی جیل میں ہماری تربیت کے لئے آئے۔ چہرے پر نورانی داڑھی، پیشانی پر عبادت کے آثار اور آنکھوں  سے جھلکتی حیا ، دل موہ لینے والی گفتار اور پاکیزہ کردار نے مجھے بے اختیار ان کے قریب کر دیا۔’’ عطرِ عطّار‘‘ سے معطر ان کی پاکیزہ زندگی کی خوشبوئیں  میرے مشامِ جاں  کو معطر کرنے لگیں ۔ ان کی صحبت کی برکت سے میں  نے دعوت اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہو کر اپنی اِ صلاح کی کوشش شروع کر دی۔   

 فرض نمازوں  کی پابندی کے علاوہ اشراق و چاشت کے نوافل ادا کرنے لگا۔لڑنے بھڑنے کی عادت نکل گئی ۔رمضان المبارک۱۴۲۹ھ میں  زندگی کا پہلا اعتکاف کرنے کی سعادت ملی اور تا دم تحریر جیل خانہ جات میں  ہونے والے تربیتی کورس میں  شرکت کی سعادت میسر ہے اور اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ     مسجد فیضان قرآن سینٹرل جیل جونائیل وارڈ حیدر آباد میں  دیگر قیدیوں  کو بطور امام نماز پڑھاتا ہوں ، اذان فجر دے کر صدائے مدینہ کے ذریعے قیدیوں  کو نماز فجر کے لئے جگاتا  ہوں ۔جیل سے آزاد ہو کر   اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  درس نظامی کروں  گا اورمَدَنی قافلوں  میں  نہ صرف خود سفر کروں  گا بلکہ اپنے ساتھ دیگر اسلامی بھائیوں  کو بھی مَدَنی قافلے میں  سفر کے لئے تیار کروں  گا۔    ؎

بندِ غم کاٹ دیا کرتے ہیں  تیرے اَبرو

پھیر دیتا ہے بلاؤں  کو اِشارہ تیرا

اللہ عَزَّوَجَلَّ کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی  اللہ تعالٰی علٰی محمَّد   

(9) خوابِغفلت سے بیداری

        سینٹرل جیل حیدر آباد (باب الاسلام سندھ) میں  قید قاضی احمد ضلع نواب شاہ کے رہائشی ایک اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ گناہوں  سے بچنے کا ذہن ، عبادت کا ذوق، والدین کا ادب ، بہن بھائیوں  کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی سوچ فراہم کرنے والی اور معاشرے کے بگڑے ہوئے انسانوں  کو ایک اچھا فرد بنانے والی پیاری مَدَنی تحریک دعوت اسلامی کے مَدَنی ماحول میں  رچنے بسنے سے قبل میں اپنے علاقے کے بگڑے ہوئے افراد میں  سر فہرست تھا۔ مجھے نمازوں  کا ہوش تھا نہ روزوں  کا خیال ، ماں باپ کو ستانا گویا کہ اپناحق سمجھتا تھا۔بہن بھائی میری بدسلوکی کے شاکی رہتے تھے۔آہ ! گناہوں  کی وادی میں  بھٹکتے بھٹکتے میں  جرائم کی دنیا میں  داخل ہو گیا۔ میرے دل و دماغ پر چھائے غفلت کے سائے اور گہرے ہوتے چلے گئے، انجامِ کار ایک مسلمان کو ناحق قتل کرنے کے بھیانک جرم کی پاداش میں  جیل کی مضبوط سلاخوں  میں  بند کر دیا گیا۔

دیکھے ہیں  یہ دن اپنے ہی ہاتھوں  کی بدولت

 سچ ہے کہ برے کام کا انجام برا ہے   

 



Total Pages: 9

Go To