Book Name:25 christian Qaidiyon aur padri Ka Qabool e Islam

        دعوتِ اسلامی کی اس مبلِّغہ کے اندازِ گفتگو نے مجھے اپنا ایسا گرویدہ کر لیا کہ میں  روزانہ ان کی منتظر رہنے لگی، جب وہ تشریف لے آتیں  تو میں  اپنا زیادہ وقت ان کے ساتھ ہی گزارنے کی کوشش کرتی ۔ان کا پاکیزہ کردار دیکھ کر سوچتی کہ اسلام اپنے ماننے والوں  کو عفت و حیاء کا کیسا پیار ادرس دیتا ہے جو کسی اور مذہب میں  نظر  نہیں  آتا۔ ان کی صحبت اور انفرادی کوشش کی برکت سے میرے دل میں  اسلام سے محبت کی شمع روشن ہونے لگی ۔ بالآخر میں  نے مسلمان ہونے کا پختہ ارداہ کر لیا۔ دوسرے دن جب وہ مبلغہ تشریف لائیں  تو میں  نے ان سے وفور شوق میں  بے قرار ہو کر کہا : آپ کے پاکیزہ کردار اور روشن گفتار نے مجھے بہت متاثر کیا ہے۔اسلام ایسا پیارا دین ہے ، میں  نے سوچا بھی نہ تھا۔اس کی روشن تعلیمات کا کھلی آنکھوں  سے مشاہدہ کر چکی ہوں ۔اس کے بعد میں  نے مسلمان ہونے کی خواہش کا اظہار کیا  انہوں  نے فوراً مجھے توبہ کروا کر کلمہ پڑھادیا : ’’لا الہ الا  اللہ   محمد رسول  اللہ   ‘‘

        یہ دیکھ کر وہاں  موجود دیگر اسلامی بہنیں  اشکبار ہو گئیں  اور مجھے گلے مل مل کر مسلمان ہونے کی خوشی میں  مبارک باد دینے لگیں ۔اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ   میں  نے دعوت اسلامی کے پاکیزہ مَدَنی ماحول سے وابستہ ہو کر اسلامی تعلیمات پر عمل کی کوشش شروع کر دی اور شیخ طریقت امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ذریعے سلسلہ قادریہ عطاریہ میں  داخل ہو کر ’’عطاریہ‘‘ بھی بن گئی۔اسلام قبول کرنے کے بعد میں  نے اپنے شوہر پر انفرادی کوشش شروع کر دی۔اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ   دو ماہ بعد وہ بھی جمادی الثانی  ۱۴۲۷  ھ میں  سایۂ اسلام میں  آ گئے۔    ؎

تو نے اسلام دیا تو نے جماعت میں  لیا

تو کریم اب کوئی پھرتا ہے عطیہ تیرا

اللہ عَزَّوَجَلَّ کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                 صلَّی  اللہ تعالٰی علٰی محمَّد   

(5) خطرناک ڈاکو کی توبہ

        بابُ الاسلام سندھ(پاکستان)کے شہرحیدرآبادکی جیل کے ایک سزا یافتہ قیدی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ پہلے پہل میں  ایک خطرناک ڈاکو تھا۔لوگوں  پر میری دہشت طاری تھی ۔میں  بہترین فائٹر تھا اور کئی پولیس مقابلے بھی کرچکا تھا ۔ بالآخر پولیس نے مجھے گرفتار کر ہی لیا ۔جیل میں  رہ کر بھی جرائم کے نت نئے منصوبے بناتا رہتا ۔ رہائی کے بعد شاید میں  پھر سے جرائم کے راستے پر چل نکلتا مگر میری خوش قسمتی کہ مجھے جیل میں  دعوت اسلامی کی مجلس فیضانِ قرآن کے اسلامی بھائیوں  کی صحبت نصیب ہوگئی ۔مبلِّغِ دعوتِ اسلامی کی انفرادی کوشش کی برکت سے میں  نے اپنے پچھلے تمام گناہوں  سے توبہ کرلی اور نیک بننے کی نیت کی ۔جیل میں  ہی مجھے مدرسہ فیضان قراٰن میں  مکمل قراٰن پاک سیکھنے کا موقع ملا ۔ میں  نے ’’نماز‘‘ پڑھنا سیکھی ، اس کے ساتھ ساتھ’’ 6کلمے ‘‘، ’’ایمان مفصل‘‘ ، ’’ایمان مجمل ‘‘اور آخری دس سورتیں  بھی یاد کرلیں ۔اب میں  ایک نئی زندگی شروع کرچکا ہوں  جس میں  جرائم کے لئے کوئی جگہ نہیں ۔مجھے یہ کہنے دیجئے کہ مجھ جیسے پاپی وگناہ گار کوپولیس کی دردناک مار توسدھارنہ سکی مگر دعوت اسلامی کے مَدَنی ماحول اور اسلامی بھائیوں  کی شفقت نے میرے سوئے ہوئے ضمیر کو جگا دیااورمیرے سدھرنے کا سامان کردیا ۔

شہا! ایسا جذبہ پاؤں  کہ میں  خوب سیکھ جاؤں

تیری سنتیں  سکھانا مَدَنی مدینے والے

اللہ عَزَّوَجَلَّ کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی  اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(6) تاش کے پَتّے پھاڑ ڈالے

        بابُ ا لاسلام سندھ(پاکستان)کے شہر دادو کی جیل کے ایک ذمہ دار اسلامی بھائی کے بیان کا لب لباب ہے کہ25نومبر2006ء ڈسٹرکٹ جیل میں  دعوتِ اسلامی کا عظیم الشان اِجتماع ذکرونعت ہوا جس میں  دعوت اسلامی کے مبلغ نے شکر کے موضوع پر بیان کیا۔تمام قیدی ہمہ تن گوش سنتے رہے آخر میں  جب مبلغ نے اپنے بیان کو سمیٹتے ہوئے کہا : ’’ آخر کیا وجہ ہے آج ہم   اللہ    عَزَّ وَجَلَّ    کی نعمتوں  کو پانے کے باوجود اس کا شکر نہیں  کرتے؟وہ کونسی چیز ہے جو ہمیں  شکر سے روکتی ہے ؟اس کی عبادت سے روکتی ہے؟‘‘یہ جملے سن کر ایک قیدی اٹھ کھڑا ہوا اورکہنے لگا : ’’تاش کے پتوں  نے مجھے نمازوں  سے روک رکھا ہے۔‘‘ اور جیب سے تاش کی گڈی نکال کر پھاڑی اور فضا میں  پھینکتے ہوئے بڑے جوش سے بآواز بلندکہا : ’’آج کے بعد میں  نماز میں  سستی نہیں  کروں  گا۔‘‘اس کے یہ جذبات دیکھ کر دوسرے قیدیوں  نے بھی کھڑے ہوہو کر اپنی توبہ کا اظہار کیا اور نمازوں  کی ادائیگی کی نیت کی ۔عجیب کیف آور گھڑیاں  تھیں  ، فضا نعرۂ تکبیر ’’ اللہ   اکبر‘‘اور نعرۂ رسالت’’یا رسول  اللہ  ‘‘کے فلک شگاف نعروں  سے گونج اٹھی۔

اللہ عَزَّوَجَلَّ کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                صلَّی  اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(7) مجھے بھی مسلمان کر لیجئے

        ڈسٹرک جیل سردار آباد(فیصل آباد، پنجاب ، پاکستان) میں  جیل انتظامیہ کی خواہش پر دعوتِ اسلامی کے  ڈویژن مشاورت کے نگران کی اجازت سے شعبان المعظم ۱۴۲۷ھ کو کمپیوٹر



Total Pages: 9

Go To