Book Name:25 christian Qaidiyon aur padri Ka Qabool e Islam

         اَلْحَمْدُ للہ  عَزَّ وَجَلَّ    میں  نے اپنے گناہوں سے سچی توبہ کر لی اور شیخ طریقت امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا مرید یعنی عطّاری بھی بن گیا۔میں  نے ہاتھوں  ہاتھ یہ نیت بھی کی کہ اگر مجھے جلد رہائی مل گئی تو میں  تین دن کے مَدَنی قافلے میں  سفر کروں  گا۔ایسا لگتا ہے کہ سچی توبہ، شیخ طریقت امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے نسبت اور مَدَنی قافلے میں  سفر کی نیت میرے کام آ گئی اور حیرت انگیز طور پر دوسرے ہی دن مجھے رہائی مل گئی۔میں  سیدھا مَدَنی مرکز فیضان مدینہ سکھر پہنچا اور شکرانے کے نوافل ادا کرنے کے بعد ہاتھوں  ہاتھ مَدَنی قافلے کا مسافر بن گیا۔ مَدَنی قافلے میں  سفر کی برکت سے یہ مَدَنی ذہن بن گیا کہ  اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ   میری بقیہ زندگی دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں  گزرے گی ۔ میرا ان تمام قیدیوں  کو مَدَنی مشورہ ہے جو برسوں  سے سلاخوں  کے پیچھے سڑ رہے ہیں  گناہوں  سے سچی توبہ کر کے مَدَنی قافلے میں  سفر کی نیت کر لیں ، کیا عجب ! کسی طرح ان کی بھی جلد رہائی کا سامان ہوجائے ۔    ؎

دعوتِ اسلامی کی قَیّوم دونوں  جہاں  میں  مچ جائے دُھوم

اس پہ فدا ہوبچہ بچہ یا اللہ   (  عَزَّ  وَجَلَّ ) میری جھولی بھر دے

اللہ عَزَّوَجَلَّ کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                  صلَّی  اللہ تعالٰی علٰی محمَّد   

(3) قاتل کی توبہ

        سینٹرل جیل نارا حیدر آباد(باب الاسلام سندھ) میں  لطیف آباد کے رہائشی ایک قیدی کی تحریر کا خلاصہ ہے کہ میں  بری صحبت میں  رہنے کے سبب فلمیں  ڈرامے دیکھنے اور گانے سننے کا شوقین تھا۔ نماز و روزہ سے کوسوں  دور اور گناہ کی دلدل میں  اتنا دھنس چکا تھا کہ مجھ سے قتل جیسا سنگین جرم تک ہو گیاجس کی سزا میں  مجھے جیل بھیج دیا گیا۔سات سال تک جیل میں  بھی گناہوں  کا سلسلہ جاری رہا۔

        گناہ کے گھنے بادل چھٹنے کی صورت کچھ اس طرح بنی کہ جیل میں  دعوت اسلامی کی مجلس فیضانِ قرآن کے چند اسلامی بھائیوں  کی صحبت نصیب ہو گئی۔ ان کے تقویٰ و طہارت اور سنتوں  پر عمل کے جذبے نے بہت متأثر کیا ۔دل میں  اپنے گناہوں  پر ندامت محسوس ہونے لگی اور میں  نے خود سے مخاطب ہو کر کہا کہ تُو نے اپنی زندگی کا ایک عرصہ اپنے ربّ  عَزَّ وَجَلَّ   کی نافرمانی میں  گزار دیا، میدانِ محشر میں  اپنے اعمال کا حساب کس طرح دے سکے گا! نجات چاہتا ہے تو ان نیک لوگوں  کی صحبت اختیار کر لے۔ دل پر لگنے والی یہ چوٹ مجھے گناہوں  سے دُور اور نیکیوں  کے قریب کر گئی۔ نمازوں  کی پابندی شروع کردی، رمضان شریف کے روزے رکھنے کے علاوہ نفلی روزے رکھنے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا۔ زندگی میں  پہلی بارجیل کے اندر ( مسجدمیں ) اعتکاف کرنے کی سعادت ملی، لڑائی جھگڑے کی عادت ختم کر کے اب ہر ایک سے نرمی سے بات کرتا ہوں ۔ تا دم تحریر جیل میں  تربیتی کورس کرنے کے ساتھ ساتھ مسجد فیضان قرآن سینٹرل جیل جونائیل وارڈ میں  اذان دینے کی خدمت بھی میسر ہے۔ او ر اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ  انفرادی کوشش کے ذریعے دیگر بیرکوں  سے قیدیوں  کو مَدَنی ماحول سے وابستہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔   ؎

قسمت میں  لاکھ پیچ ہوں  سو بَل ہزار تَج

یہ ساری گُتھّی اِک تیری سیدھی نظر کی ہے

اللہ عَزَّوَجَلَّ کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !               صلَّی  اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(4) کرسچین عورت کا قبول اسلام

        سینٹرل جیل سکھر2(باب الاسلام سندھ) میں  قید ایک خاتون کے بیان کاخلاصہ کچھ اس طرح ہے کہ مسلمان ہونے سے پہلے میں  عیسائی مذہب سے تعلق رکھتی تھی۔کسی جرم کی پاداش میں  مجھے قید کی سزا ہوئی اور سینٹرل جیل سکھر منتقل کر دیا گیا۔ہماری بیرک میں  ایک باپردہ اسلامی بہن، قیدی خواتین کوقرآن پاک کی تعلیم دینے اور ضروری شرعی مسائل سکھانے کے لئے آتی تھیں ۔ ان کا سنتوں  کے سانچے میں  ڈھلا کرداراور چہرے سے تقدس کا جھلکتا نور دیکھ کر مجھے ان میں  عجیب کشش محسوس ہوئی، انہیں  دیکھ کر مجھے حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  یاد آجاتیں ۔ میں  نے جب ان سے ملاقات کی تو انہوں  نے اپنا تعارف کچھ یوں  کروایا : میرا تعلق دعوت اسلامی کے مَدَنی ماحول سے ہے۔دعوت اسلامی تبلیغ قرآن و سنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ہے جس کے بانی شیخ طریقت ، امیر اہلسنّت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ہیں ۔انہوں  نے ہمیں یہ مَدَنی مقصد عطا فرمایا ہے کہ ’’مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں  کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے۔‘‘اسی عظیم مقصد کو پورا کرنے کی کوشش کے لئے دعوت اسلامی کے تحت جہاں  دیگر مجالس قائم ہیں  وہیں  ایک مجلس ’’فیضان قرآن‘‘ کے نام سے بھی ہے جو پاکستان بھر کے جیل خانہ جات میں  دعوتِ اسلامی کا مَدَنی کام کرنے کی سعی میں  مصروف ہے۔ میں  اسی مجلس کی اجازت سے یہاں  قیدی خواتین کی اصلاح کی کوشش کا جذبہ لے کر آتی ہوں ۔ اللہ کرے میری کوششیں  کامیاب ہو جائیں  اور یہاں  موجود اسلامی بہنیں  نیک بن جائیں ۔   ؎

میری جس قدر ہیں  بہنیں  سبھی کاش برقع پہنیں

انہیں  نیک تم بنانا مَدَنی مدینے والے

 



Total Pages: 9

Go To