Book Name:101 Madani Phool

سنئے ۔  اس کی بات کاٹ کراپنی بات شرو ع کر دینا سنّت نہیں {7} بات چیت کرتے ہوئے بلکہ کسی بھی حالت میں قہقہہ نہ لگائیے کہ سر کار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے کبھی قہقہہ نہیں لگایا  {8}زیادہ باتیں کرنے اور بار بار قہقہہ لگانے سے ہیبت جاتی رہتی ہے  {9 }سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکافرمان عالیشان ہے :  ’’جب تم کسی بندے کو دیکھو کہ اسے دُنیا سے بے رغبتی اور کم بولنے کی نعمت عطا کی گئی ہے تو اس کی قربت وصحبت اختیار کرو کیونکہ اسے حکمت دی جاتی ہے ۔ ‘‘(سُنَن ابن ماجہج۴ص۴۲۲حدیث ۴۱۰۱) {10 }

فرمانِ مصطفٰیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ :  ’’ جو چُپ رہا اُس نے نَجات پائی  ۔ ‘ ‘ (سُنَنُ التِّرْمِذِیّج۴ ص۲۲۵ حدیث ۲۵۰۹)  مراٰۃ المناجیح میں ہے  : حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سیِّدُنا امام محمدبن محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی فرماتے ہیں کہ :  گفتگو کی چار قسمیں ہیں : (۱) خالِص مُضِر(یعنی مکمَّل طور پر نقصان دِہ) (۲) خالِص مفید(۳) مُضِر (یعنی نقصان دِہ) بھی مفید بھی(۴) نہ مُضِر نہ مفید ۔  خالص مُضِر(یعنی مکمَّل نقصان دِہ ) سے ہمیشہ پرہیز ضَروری ہے ، خالِص مفید کلام(بات) ضَرور کیجئے ، جو کلام مُضِر بھی ہومفید بھی اس کے بولنے میں احتیاط کرے بہتر ہے کہ نہ بولے اور چوتھی قسم کے کلام میں وَقت ضائِع کرنا ہے  ۔ ا ن کلاموں میں امتیاز کرنا مشکل ہے لہٰذا خاموشی بہتر ہے ۔ (مراٰۃ المناجیح ج۶ ص۴۶۴) {11}کسی سے جب بات چیت کی جائے تو اس کا کوئی صحیح مقصدبھی ہونا چاہیے اور ہمیشہ مخاطب کے ظرف اور اس کی نفسیات کے مطابق بات کی جائے {12}بدزبانی اور بے حیائی کی با تو ں سے ہر وقت پرہیز کیجئے ، گالی گلوچ سے اجتناب کر تے رہئے اور یاد رکھئے کہ کسی مسلمان کو بِلا اجازتِ شَرعی گالی دینا حرام ِقَطعی ہے (فتاوٰی رضویہ، ج۲۱، ص۱۲۷) اور بے حیائی کی بات کرنے والے پر جنّت حرام ہے  ۔ حُضُور تا جدارِ مدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا :  ’’ اس شخص پر جنّت حرام ہے جو فُحش گوئی (بے حیائی کی بات ) سے کام لیتا ہے  ۔ ‘ ‘ ( کتابُ الصَّمْت مع موسوعۃالامام ابن ابی الدنیا، ج۷ص۲۰۴ رقم ۳۲۵ المکتبۃ العصریۃ بیروت)

 طرح طرح کی ہزاروں سنّتیں سیکھنے کیلئے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ دو کُتُب بہارِ شریعت حصّہ16 (312صفحات) نیز 120 صَفَحات کی کتاب’’ سنّتیں  اور آداب ‘‘ ھدِیّۃً حاصِل کیجئے اور پڑھئے ۔  سنّتوں کی تربیّت کا ایک بہترین ذَرِیعہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافِلوں میں عاشِقانِ رسول کے ساتھ سنّتوں بھرا سفر بھی ہے ۔

صَلُّوا  عَلَی الْحَبِیب !                 صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

   میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بیان کو اختتام کی طرف لاتے ہوئے سنّت کی فضیلت اور چند سنّتیں اور آداب بیان کرنے کی سعادت حاصِل کرتا ہوں ۔ تاجدارِ رسالت ، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت ، مصطَفٰے جانِ رحمت، شمعِ بزمِ ہدایت ، نوشۂ بزمِ جنّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمانِ جنّت نشان ہے :  جس نے میری سنّت سے  مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سیمَحَبَّت کی وہ   جنّت  میں میرے ساتھ ہو گا ۔ (مِشْکاۃُ الْمَصابِیح ، ج۱ ص۵۵ حدیث ۱۷۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت  )

 



Total Pages: 16

Go To