Book Name:101 Madani Phool

صَلُّوا  عَلَی الْحَبِیب !                 صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بیان کو اِختِتام کی طرف لاتے ہوئے سنّت کی فضیلت اور چند سنّتیں اور آداب بیان کرنے کی سعادت حاصِل کرتا ہوں ۔ تاجدارِ رسالت ، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت ، مصطَفٰے جانِ رحمت، شمعِ بزمِ ہدایت ، نوشۂ بزمِ جنّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمانِ جنّت نشان ہے :  جس نے میری سنّت سے  مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سیمَحَبَّت کی وہ جنّت  میں میرے ساتھ ہو گا  ۔   (مِشْکاۃُ الْمَصابِیح ، ج۱ ص۵۵ حدیث ۱۷۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت  )

سینہ تری سنّت کا مدینہ بنے آقا

جنّت میں پڑوسی مجھے تم اپنا بنانا

صَلُّوا  عَلَی الْحَبِیب !                 صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

’’ہاتھ ملانا سنّت ہے ‘‘ کے چودہ حُرُوف کی

نسبت سے ہاتھ ملانے کے 14 مَدَنی پھول

       {1}دومسلمانوں کابوقتِ ملاقات سلام کر کے دونوں ہاتھوں سے مُصافَحَہکرنا یعنی دونوں ہاتھ ملانا سنّت ہے {2} رخصت ہوتے وَقت بھی سلام کیجئے اورہاتھ بھی ملا سکتے ہیں {3}نبی مُکَرَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ارشادِ معظَّم ہے : ’’جب دو مسلمان ملاقات کرتے ہوئے مُصافَحہکرتے ہیں اور ایک دوسرے سے خیریت دریافت کرتے ہیں تو   اللہ  عَزَّوَجَلَّ  ان کے درمیان سو رحمتیں نازل فرماتاہے جن میں سے ننانوے رحمتیں زیادہ پرتپاک طریقے سے ملنے والے اور اچھے طریقے سے اپنے بھائی سے خیریت دریافت کرنے والے کے لئے ہوتی ہیں  ۔ ‘‘( اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط لِلطَّبَرَانِیّج۵ ص ۳۸۰ رقم ۷۶۷۲) {4} ’’جب دودو ست آپس میں ملتے ہیں اور مُصافَحَہ کرتے ہیں اور نبی( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) پردُرُود پاک پڑھتے ہیں تو ان دونوں کے جدا ہونے سے پہلے پہلے دونوں کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں ۔ ‘‘  (شُعَبُ الْاِیْمَان لِلْبَیْہَقِیّ حدیث ۸۹۴۴ ج ۶ ص ۴۷۱ دارالکتب العلمیۃ بیروت){5}ہاتھ ملاتے وقت درود شریف پڑھ کر ہو سکے تو یہ دعا بھی پڑھ لیجئے :  ’’یَغفِرُ اللہ لَنَا وَ لَکُم‘‘( یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ  ہماری اور تمہاری مغفِرت فرمائے ) {6}دو مسلمان ہاتھ ملانے کے دَوران  جو دعا مانگیں گے اِن شا ءَ اللہ قَبول ہوگی ہاتھ جدا ہونے سے پہلے پہلے دونوں کی مغفرت ہو جائے گی اِن شا ءَ اللہ عَزَّوَجَل (مُسنَد اِمام احمد بن حَنبل ج۴ ص۲۸۶ حدیث ۱۲۴۵۴ دارالفکر بیروت) {7} آپس میں ہاتھ ملانے سے دُشمنی دُور ہوتی ہے {8} فرمانِ مصطَفٰیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے : جو مسلمان اپنے بھائی سے مُصافَحہ کرے اورکسی کے دل میں دوسرے سے عداوت نہ ہو تو ہاتھ جدا ہونے سے پہلے اللہ تَعَالٰی دونوں کے گزَشتہ گناہوں کو بخش دے گا اورجو کوئی اپنے مسلمان بھائی کی طرف مَحَبَّت بھری نظر سے دیکھے اور اُس کے دل یا سینے میں عداوت نہ ہو تو نگاہ لوٹنے سے پہلے دونوں کے پچھلے گناہ بخش دیئے



Total Pages: 16

Go To