Book Name:101 Madani Phool

پھر آخِر میں ایک سَلائی کو سُرمے والی کر کے اُسی کو باری باری دونوں آنکھوں میں لگایئے ۔  (انظر : شُعَبُ الْاِیمان ، ج ۵ ص ۲۱۸ ۔ ۲۱۹  دارالکتب  العلمیۃ بیروت) اس طرح کر نے سے  اِن شا ءَ اللہ تینوں پر عمل ہوتا رہے گا  میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! تکریم کے جتنے بھی کام ہوتے سب ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسیدھی جانب سے شرو ع کیا کرتے ، لہٰذا پہلے سیدھی آنکھ میں سُرمہ لگا یئے پھر بائیں آنکھ میں  ۔ طرح طرح کی ہزاروں سنّتیں سیکھنے کیلئے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ دو کُتُب بہارِ شریعت حصّہ16 (312صفحات ) نیز 120صَفَحات کی کتاب’’ سنّتیں اور آداب‘‘ ھدِیّۃً حاصِل کیجئے اور پڑھئے ۔ سنّتوں کی تربیّت کا ایک بہترین ذَرِیعہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافِلوں میں عاشِقانِ رسول کے ساتھ سنّتوں بھرا سفر بھی ہے ۔

صَلُّوا  عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بیان کو اِختِتام کی طرف لاتے ہوئے سنّت کی فضیلت اور چند سنّتیں اور آداب بیان کرنے کی سعادت حاصِل کرتا ہوں ۔ تاجدارِ رسالت ، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت ، مصطَفٰے جانِ رحمت، شمعِ بزمِ ہدایت ، نوشۂ بزمِ جنّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمانِ جنّت نشان ہے :  جس نے میری سنّت سے  مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سیمَحَبَّت کی وہ   جنّت  میں میرے ساتھ ہو گا ۔    (مِشْکاۃُ الْمَصابِیح ، ج۱ ص۵۵ حدیث ۱۷۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت  )

سینہ تری سنّت کا مدینہ بنے آقا  جنّت میں پڑوسی مجھے تم اپنا بنانا

صَلُّوا  عَلَی الْحَبِیب !  صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

’’کاش!جنّتُ الْبقیع ملے ‘‘ کے پندرہ حُرُوف کی

نسبت سے سونے ، جاگنے  کے 15 مَدَنی پھول

{1} سونے سے پہلے بستر کواچھی طرح جھاڑلیجئے تاکہ کوئی مُوذی کیڑا وغیرہ ہو تو نکل جائے {2}  سونے سے پہلے یہ دعا پڑھ لیجئے :    اَ للّٰھُمَّ بِاسْمِکَ اَمُوْتُ وَاَحیٰ ترجَمہ :  اے   اللہ  عَزَّوَجَلَّ  ! میں تیرے نام کے ساتھ ہی مرتا ہوں اور جیتا ہوں (یعنی سوتا اور جاگتا ہوں )( بُخارِی ج۴ص۱۹۶ حدیث ۶۳۲۵){3} عصر کے بعد نہ سوئیں عقل زائل ہونے کا خوف ہے ۔ فرمانِ مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   : ’’جو شخص عصر کے بعد سوئے اور اس کی عقل جاتی رہے تو وہ اپنے ہی کو ملامت کرے ۔ ‘‘  (مسند  ابی یعلی حدیث ۴۸۹۷ ج۴ ص۲۷۸){4} دوپہر کوقیلولہ ( یعنی کچھ دیر لیٹنا) مستحب ہے ۔  (عالَمگیری ج ۵ ص ۳۷۶ )  صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہحضرتِ  علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں  : غالِباً یہ ان لوگوں کے لیے ہوگا جو شبِ بیداری کرتے ہیں ، رات میں نمازیں پڑھتے ذکرِ الٰہی کرتے ہیں یا کُتب بینی یا مطالعے میں مشغول رہتے ہیں کہ شب بیداری میں جو تکان ہوئی قیلولے سے دَفع ہوجائے گی ۔ (بہارِشریعت حصّہ۶ا ص ۷۹ مکتبۃ المدینہ) {5} دن کے ابتدائی حصے میں سونا یا مغرب و عشاء کے درمیان میں سونا مکروہ ہے ۔  (عالَمگیری   ج ۵ ص ۳۷۶ ) {6} سونے میں



Total Pages: 16

Go To