Book Name:101 Madani Phool

’’ محمد الیاس ۔ ‘‘ نام بتانے کے بجائے اس موقع پر’’ مدینہ! ‘‘، میں ہوں !‘‘ ’’دروازہ کھولو‘‘ وغیرہ کہنا سنّت نہیں {9} جواب میں نام بتانے کے بعد دروازے سے ہٹ کر کھڑے ہوں تا کہ دروازہ کھلتے ہی گھر کے اندر نظر نہ پڑے {10} کسی کے گھر میں جھانکنا ممنوع ہے  ۔ بعض لوگوں کے مکان کے سامنے نیچے کی طرف دوسروں کے مکانات ہوتے ہیں لہٰذا بالکونی وغیرہ سے جھانکتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ ان کے گھروں میں نظر نہ پڑے {11} کسی کے گھر جائیں تو وہاں کے انتِظامات پر بے جا تنقید نہ کیجئے اس سے اُس کی دل آزاری ہو سکتی ہے {12} واپَسی پر اہلِ خانہ کے حق میں دُعا بھی کیجئے اور شکریہ بھی ادا کیجئے اور سلام بھی اور ہو سکے تو کوئی سنّتوں بھرا رسالہ وغیرہ بھی تحفۃً پیش کیجئے ۔  طرح طرح کی ہزاروں سنّتیں سیکھنے کیلئے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ دو کُتُب بہارِ شریعت حصّہ 16 (312صفحات) نیز 120 صَفَحات کی کتاب’’ سنّتیں اور آداب‘‘ ھدِیّۃً حاصِل کیجئے اور پڑھئے ۔  سنّتوں کی تربیّت کا ایک بہترین ذَرِیعہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافِلوں میں عاشِقانِ رسول کے ساتھ سنّتوں بھرا سفر بھی ہے ۔

سیکھنے سنّتیں قافلے میں چلو                         لُوٹنے رَحمتیں قافلے میں چلو

ہو ں گی حل مشکلیں قافلے میں چلو                                پاؤ گے بَرَکتیں قافلے میں چلو

صَلُّوا  عَلَی الْحَبِیب !                  صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

   میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بیان کو اِختِتام کی طرف لاتے ہوئے سنّت کی فضیلت اور چند سنّتیں اور آداب بیان کرنے کی سعادت حاصِل کرتا ہوں ۔ تاجدارِ رسالت ، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت ، مصطَفٰے جانِ رحمت، شمعِ بزمِ ہدایت ، نوشۂ بزمِ جنّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمانِ جنّت نشان ہے :  جس نے میری سنّت سے  مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سیمَحَبَّت کی وہ   جنّت  میں میرے ساتھ ہو گا  ۔   (مِشْکاۃُ الْمَصابِیح ، ج۱ ص۵۵ حدیث ۱۷۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت  )

سینہ تری سنّت کا مدینہ بنے آقا  جنّت میں پڑوسی مجھے تم اپنا بنانا

’’ اِثمد ‘‘ کے چار حُرُوف کی نسبت سے

 سُرمہ لگانے  کے 4 مَدَنی پھول

{1}سُنَنِابن ماجہ کی روایت میں ہے ’’ تمام سُرموں میں بہتر سرمہ ’’اِثمد‘‘ (اِث ۔ مِد) ہے کہ یہ نگاہ کو روشن کرتا اور پلکیں اُگا تا ہے ۔ ‘‘(سُنَن ابن ماجہ ج۴ص ۱۱۵  حدیث ۳۴۹۷ ){2} پتھّر کا  سُرمہ استعمال کرنے میں حرج نہیں اور سیاہ سرمہ یا کاجل بقصدِ زینت (یعنی زینت کی نیّت سے )مرد کو لگانا مکروہ ہے اور زینت مقصود نہ ہو تو کراہت نہیں ۔  ( فتاوٰی عالمگیری ج۵ ص۳۵۹){3} سُرمہ سو تے وقت استِعمال کرنا سنت ہے ۔ (مراٰۃالمناجیح ، ج۶، ص۱۸۰) {4}سرمہ استعمال کرنے کے تین منقول طریقوں کاخلاصہ پیش خدمت ہے :  (۱)کبھی دونوں آنکھوں میں تین تین سَلائیاں (۲) کبھی دائیں (سیدھی ) آنکھ میں تین اور بائیں (الٹی) میں دو ، (۳)تو کبھی دونوں آنکھوں میں دو دو اور



Total Pages: 16

Go To