Book Name:Abu Jahal ki maut

مسلمانوں کا سامانِ جنگ

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ابوجہل غزوئہ بدرمیں قتل ہواتھا ۔ غزوئہ بدرکا واقِعہ17رَمَضانُ المبارَک  ۲ ھ مقامِ بدرمیں پیش آیا ۔ اِس میں مسلمانوں کی تعداد بَہُت کم یعنی صِرْف313تھی، ان کے پاس صِرْف دو گھوڑے ، 70 اُونٹ ، شِکَستہ کمانیں ، ٹوٹے پھوٹے نیزے اورپُرانی تلواریں تھیں  ۔ مگران کا جذبۂ ایمانی بے مثال تھا ۔ انہیں سامانِ جنگ پرنہیں اللہ و رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپربھروسا تھا  ۔

 کُفّار کا سامانِ جنگ

            ایک طرف مسلمانوں کی بے سَروسامانی کایہ عالَم ہے تودوسری طرف دشمنانِ خداومصطَفٰے کی تعداد ایک ہزارہے ، ان کے پاس 100 بَرق رفتارگھوڑے ہیں جن پر 100 زِرَہ پوش جنگجوسُوار ہیں ، 700 اعلیٰ نَسل کے اُونٹ ہیں ، کھانے پینے کے ذَخائر کے انْباراٹھانے والے باربَردار جانور مزید برآں ، نونو، دس دس اُونٹ روزانہ ذَبح کرکے لشکرِکُفّار کی پُرتکلُّف دعوت کا اہتمام ہوتاہے ، ہرشب بزمِ عَیش ونَشاط برپاکی جاتی ہے جس میں شراب کے جام لُنڈھائے جاتے ہیں ، خوبصورت کنیزیں اپنے ناچ اور سِحر انگیز نَغمات سے اُن کی آتَشِ غَیظ وغضب بھڑکاتی رَہتی ہیں ۔ اس کے باوُجُودغلامانِ مصطَفے کے چِہروں پرتسکین واطمینان کا نُور برس رہاہے ان کے دِلوں میں ایمان ویقین کی شمع فَروزاں ہے ، شرابِ وَحدت کے نَشے میں سرشاراپنے پروَردَگار عَزَّ وَجَلَّ  کا نام مبارک بُلند کرنے کیلئے اور اُس کے پیارے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاکیز ہ دین کاپرچم اُونچا لہرانے کے شوق میں سر دھڑکی بازی لگانے کاعَزم بِالجزم کئے رِضائے الٰہی کی منزِل کی طرف مَستانہ واربڑ ھے چلے جارہے ہیں ، انہیں اپنی تعدادکی کمی، سامانِ جنگ کی قِلَّت اور دشمن کی کثیر تعدا د اورسامانِ حَرب کی کثرت کی کوئی پرواہ نہیں ، باطل کے سنگین قَلعوں کو پاؤں کی ٹھوکروں سے رَیزہ رَیزہ کردینے کا عزم انہیں ماہیِ بے آب(یعنی بِغیر پانی کی مچھلی) کی طرح تڑپارہا ہے ، شوقِ شہادت انہیں بے چین کئے دیتاہے ، جاں نثارانِ بَدرکی عظمت و شان کا بیا ن کرتے ہوئے شاعِرکہتاہے :

وہاں سینوں میں کینہ تھا شَقاوت تھی عدوات تھی                    یہاں ذوقِ شہادت اور ایماں کی حَلاوت تھی

مجاہِدجن کو وعدے یاد تھے آیاتِ قراں کے                         کھڑے تھے صبح سے ڈ ٹ کرمقابِل فوجِ شیطاں کے

جوغیرت مندراہِ حق میں تھے مصروفِ جانبازی                     اَبَد تک نام ان کا ہوگیا اللہ کے غازی

غَزاحق کیلئے حق کیلئے ان کی شہادت تھی                یہ جینا بھی عبادت تھا یہ مرنا بھی عبادت تھی

شہادت کا لَہو جن کے رُخوں کا بن گیا غازہ              کُھلا تھا ان کی خاطر دائمی جنّت کا دروازہ

شہادت اعلیٰ منزِل ہے مُسلمانی سعادت کی             وہ خوش قسمت ہیں مِل جائے جنہیں دولت شہادت کی

شہادت پاکے ہستی زندۂ جاوِید ہوتی ہے                 یہ رنگیں شام، صبحِ عید کی تمہید ہوتی ہے

شہید اس دارِفانی میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں              زمیں پر چاند تاروں کی طرح تابِندہ رہتے ہیں

اِسی رنگت کو ہے ترجیح اس دنیا کی زینت پر             خدا رحمت کرے ان عاشقانِ پاک طِینَت پر

 



Total Pages: 14

Go To