Book Name:Abu Jahal ki maut

دوکم سِن مُجاہِد ین

             حضرتِ سیِّدُناعبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : غزوۂ بَدْرکے دن جب میں مُجاہِدین کی صَف میں کھڑاتھا، میں نے اپنے دائیں بائیں دو کم سِن انصاری لڑکے دیکھے ۔ اِتنے میں ایک نے آہِستہ سے مجھ سے کہا : یاعَمُّ! ھَلْ تَعْرِفُ اَبَا جَھْل؟ چچا جان! آ پ ابوجَہْل کوپہچانتے ہیں ؟میں نے جواب دیا :  ہاں لیکن تمہیں اس سے کیا کام ہے ؟ اُس نے کہا : مجھے معلوم ہواہے وہ گستاخِ رسول ہے ، خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم! اگر میں اُس کودیکھ لوں  تواس پرٹوٹ پڑوں یاتواس کو مار ڈالوں یا خود مرجاؤں  ۔ دوسرے لڑکے نے بھی مجھ سے اِسی طرح کی گفتگوکی ۔ (شاعِر ان دونوں نوعمرلڑکوں کے جذبات کی عَکّا سی کرتے ہوئے کہتا ہے )      ؎    

قسم کھائی ہے مرجائیں گے یاماریں گے ناری کو

سنا ہے گالیاں دیتاہے یہ محبوبِ باری کو

      حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمن بن عو ف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ مزیدفرماتے ہیں  : اچانک میں نے دیکھا کہ ابو جَہْل اپنے سپاہیوں کے درمیان کھڑا ہے ۔  میں نے ان لڑکوں کو ابو جہل کی طرف اشارہ کردیا ۔ وہ تلواریں لہراتے ہو ئے اُس پرٹوٹ پڑے اور پے دَرپے وار کر کے اُسے پچھاڑ دیا ۔ پھر دونوں اپنے پیارے اورمیٹھے میٹھے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی خدمت میں حاضِر ہوگئے اورعرض کی :  یارَسُوْلَ اللہ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ہم نے ابوجہل کو ٹھکانے لگادیا ہے ۔ سرکارِعالی وقار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    نے اِستِفسار فرمایا :  تم میں سے کس نے اسے قتل کیا ہے ؟ دونوں ہی کہنے لگے :  میں نے ۔  شَہَنْشاہِ نامدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    نے فرمایا :  کیا تم نے اپنی خون آلودہ تلواریں صاف کر لی ہیں ؟دونوں نے عرض کی :  جی نہیں  ۔ میٹھے میٹھے مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    نے ان تلواروں کومُلاحَظہ کر کے فرمایا :  کِلَاکُمَا قَتَلَہٗیعنی تم دونوں نے اسے قتل کیا ہے ۔        ( بُخاری ج۲ ص۳۵۶ حدیث۳۱۴۱)

دونوں مُنّوں کابھی حملہ خوب تھا بو جَہْل پر

بَدر کے ان دونوں ننّھے جاں نثاروں کو سلام

یہ نوعمر کون تھے ؟

     میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ اسلام کے شاہین صِفَت کم سِن مجاہِدین جِنہوں نے لشکرِ قریش کے سِپہ سالار، دشمنِ خداومصطَفے اوراس امّت کے سنگ دل وسَرکش فِرعون ابوجَہْل کو موت کے گھاٹ اُتارا ان کے اسمائے گرامی ہیں : مُعاذ اور مُعَوِّذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا ۔ یہ دونوں سگے بھائی تھے ۔ ان کے عشقِ رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر صد ہزار تحسین و آفرین اوران کے ولولۂ جہاد پر لاکھوں سلام کہ اس لڑکپن اورکھیلنے کودنے کے ایّام میں ہی انہوں نے اپنی زندَگیوں کو مَدَنی رنگ میں رنگ لیااورراہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں



Total Pages: 14

Go To