Book Name:Abu Jahal ki maut

راستے کی چڑھا ئی کی طرف یا سیڑھیوں پرچڑھتے ہوئے نیز بس وغیرہ جب سڑک کی اُونچی جانِب جارہی ہوتو ’’اَللّٰہُ اَکْبَر‘‘ او ر سیڑھیوں یا ڈَھلوان سے اُترتے ہوئے سُبحٰنَ اللہ کہئے ٭ اگر کوئی شخص سفر پر جارہا ہوتو اس (مسافر)سے مُصافحہ کرے یعنی ہاتھ ملائے اور اُس کے لیے یہ دُعامانگے :  اَسْتَوْدِعُ اللّٰہَ دِیْنَکَ وَاَمَانَتَکَ وَخَوَاتِیْمَ عَمَلِکَ  ترجَمہ :  میں تیرے دین ، تیری امانت اور تیرے عمل کے خاتِمے کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سُِپرد کرتا ہوں (ایضاً ص۷۹) ٭ مقیم کے لیے مُسافِر یہ دُعا پڑھے :   اَسْتَوْدِعُکَ اللّٰہَ الَّذِیْ لَایُضِیْعُ وَدَائِعَہٗ ۔  ترجَمہ : میں تمہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سُِپرد کرتا ہوں جو سو نپی ہوئی امانتو ں کو ضائع نہیں فرماتا( ابن ماجہ حدیث۲۸۲۵ج۳ص۳۷۲)٭ منزِل پر اُترتے وقت یہ  پڑھئے : اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِنْ  شَرِّمَا خَلَقطتر جَمہ : میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے کامِل کلمات کے واسطے سے ساری مخلوق کے شَر سے پناہ مانگتا ہوں ۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ    وَجَلَّ  ہر نقصان سے بچے گا (الحِصنُ الحَصین ص۸۲) ٭ مُسافِر کی دُعا قَبول ہوتی ہے ، لہٰذا اپنے لیے ، اپنے والِدَین و اَہل وعِیال اور عام مسلمانوں کے لیے دعائیں کیجئے ٭سفر میں کوئی شخص بیمار ہوگیا یا بیہوش ہوگیا تواس کے ساتھ والے اُس مریض کی ضَروریات  میں اُس کا مال بِغیر اجازت خَرچ کرسکتے ہیں (رَدُّالْمُحتار ج ۹ ص ۳۳۴ ، ۳۳۵، بہارِ شریعت ج۳ ص۲۲۲)٭مُسافِرپر واجِب ہے کہ نَماز میں قَصْر( قَصْ ۔ رْ) کرے یعنی چار رَکعَت والے فرض کو دوپڑھے اِس کے حق میں دو ہی رَکْعَتیں پوری نَماز ہے (بہارِ شریعت ج۱ ص ۷۴۳، عالمگیری ج۱ص۱۳۹)٭مغرِب اور وِتر میں قَصْر نہیں ٭سنّتوں میں قَصْرنہیں بلکہ پوری پڑھی جائینگی، خوف اور رَوارَوی( یعنی گھبراہٹ) کی حالت میں سنّتیں مُعاف ہیں اور امن کی حالت میں پڑھی جائینگی (عالمگیری ج۱ص۱۳۹)٭کوشِش کرکے ہوائی جہاز یا ریل یا بس میں

ایسے وَقت سفر کیجئے کہ بیچ میں کوئی نَماز نہ آئی٭سونے کے اَوقات میں ہر گز ایسی غفلت نہ ہو کہ مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ نَماز قضا ہو جائی٭دورانِ سفر بھی نَماز میں ہرگزکوتاہی نہ ہو، خُصوصاً ہوائی جہاز، ریل گاڑی اور لمبے روٹ کی بس میں نَماز کیلئے پہلے ہی سے وُضو تیّار رکھئی٭راستے میں بس خراب ہو جائے تو ڈرائیور یا مالِکان بس وغیرہ کو کوسنے اور بک بک کر کے اپنی آخِرت داؤپر لگانے کے بجائے صَبرسے کام لیجئے اورجنَّت کی طلب میں ذِکرو دُرُود میں مشغول ہو جایئی٭ریل، بس وغیرہ میں دیگرمُسافِروں کے حقِّ پڑوس کا خیال رکھتے ہوئے اُن کے ساتھ خوب حُسنِ سُلوک کیجئے ، بے شک خود تکلیف اُٹھا لیجئے مگر اُن کو راحت پہنچا یئی٭بس وغیرہ میں چلّا کر باتیں کر کے اور زور سے قہقہے لگا کر دوسرے مسا فِروں کو اپنے آپ سے بدظن مت کیجئی٭ بھیڑ کے موقع پر کسی ضعیف یا مریض کو دیکھیں تو بہ نیتِ ثواب اُس کو بس وغیرہ میں بَاِصرار اپنی نِشَست پیش کر دیجئے ٭حتَّی الامکان فلموں اور گانے باجوں سے پاک بس اور ویگن وغیرہ میں سفر کیجئے ٭سفر سے واپَسی پر گھر والوں کے لئے کوئی تحفہ لیتے آئیے کہ فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے : ’’جب سفر سے کوئی واپَس آئے تو گھر والوں کے لئے کچھ نہ کچھ ہَدِیَّہ(یعنی تحفہ) لائے ، اگر چِہ اپنی جھولی میں پتّھر ہی ڈال لائے ‘‘(اِبنِ عَساکِر ج۵۲ص۲۳۰)٭شرعی سفر سے واپَسی میں مکروہ وَقت نہ ہو تو سب سے پہلے اپنی مسجِد میں اور جب گھر پہنچے تو گھر پر بھی دو رَکعت نَفل پڑھئے ۔  

         ہزاروں سنتیں سیکھنے کے لئے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ دو کتب (۱) 312 صَفْحات پر مشتمل کتاب ’’بہارِ شریعت‘‘حصّہ16 اور(۲) 120صفحات کی کتاب’’ سنتیں اور آد ا ب ‘ ‘  ہد یَّۃً حاصل کیجئے اور پڑھئے ۔  سنتوں کی تربیّت کا ایک بہترین ذَرِیعہ دعوت اسلامی کے مَدَنی



Total Pages: 14

Go To