Book Name:Abu Jahal ki maut

’’ یاربَّ العباد! مکّے مدینے کی زیارت عطا فرما ‘ ‘  کے بتیس

حُروف کی نسبت سے سفر  کے 32 مَدَنی پھول

          ٭شَرعاً مسافِروہ شخص ہے جو تین دن کے فاصلے تک جانے کے ارادے سے اپنے مقامِ اِقامت مَثَلاً شہریاگاؤں سے باہَرہوگیا ۔  خشکی میں سفرپرتین دن کی مَسافت سے مُراد ساڑھے سَتاوَن میل (یعنی تقریباً 92 کِلو میٹر )  کا فاصِلہ ہے (فتاوٰی رضویہمُخَرَّجہ ج ۸ ص۲۴۳، ۲۷۰) ٭ شرعی سفر کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ سفر کے ضروری پیش آمدہ یعنی سفر میں پیش آنے والے اَحکام سیکھ چکا ہو ۔ (مکتبۃُ المدینہ کا رسالہ’’ مسافر کی نماز‘‘ کا مُطالَعَہ نہایت مفید ہے )٭ جب سفر کرنا ہو توبہتر یہ ہے کہ پیر ، جمعرات یا ہفتے کو کرے (مُلَخَّص ازفتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ  ج۲۳ ص ۴۰۰) ٭سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے سیِّدُنا جُبَیربِن مُطْعِم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کو سفر میں اپنے سب رُفَقا سے زیادہ خوشحال رہنے کیلئے روانگی سے قبل یہ وِردپڑھنے کی تلقین فرمائی : {۱} سُورَۃُ  الکفرون{۲} سُورَۃُ  النصر{۳} سُورَۃُ الْاِخْلَاص{۴}  سُورَۃُ  الفلق{۵}  سُورَۃُ  الناس ۔ ہر سورت ایک ایک بار اور ہر ایک کی ابتِدا میں بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اور سب سے آخِر میں بھی ایک بار بِسمِ اللّٰہ پوری پڑھ لیجئے ، ( اِس طرح سورتیں پانچ ہو ں گی اوربِسمِ اللّٰہ شریف چھ بار)سیِّدُنا جُبَیربِن مُطْعِم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  فرماتے ہیں  : میں یوں توصاحبِ مال تھا مگر جب سفر کرتا تو(سب رُفقا سے ) بدحال ہو جاتا، مذکورہ سورتیں سفر سے قبل ہمیشہ پڑھنی شروع کیں ان کی بَرَکت سے واپَسی تک خوشحال اور دولت مند رہتا(ابو یعلی ج۶ص۲۶۵حدیث۷۳۸۲)٭ چلتے وقت سب عزیزوں دوستوں سے ملے اور اپنے قُصُورمُعاف کرائے اور اب اُن پر لازِم ہے کہ دل سے مُعاف کردیں (بہارِ شریعت جلد اول ص۱۰۵۲)  ٭لباسِ سفر پہن کر گھر میں چاررَکعت نَفْل اَلْحَمْدُ اور قُلْ(ھُو اللّٰہ کی پوری سورۃ)سے پڑھ کر باہَر نکلے ۔  وہ رَکعتیں واپَس آنے تک اُس کے اَہل و مال کی نگہبانی کریں گی(ایضاً) ٭دو رَکعت بھی پڑھی جا سکتی ہیں ، حدیثِ پاک میں ہے :  ’’کسی نے اپنے اہل کے پاس اُن دو رکعتوں سے بہتر نہ چھوڑا، جو بوقتِ ارادۂ سفر ان کے پاس پڑھیں ‘‘   (مصنّف ابن ابی شیبۃ ج۱ ص۵۲۹) ٭سفر میں تین یا اِس سے زیادہ اسلامی بھائی ہوں تو ایک کو’’ امیر‘‘ بنا لیں کہ سنّت ہے  ۔ جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے  : ’’جب سفر میں تین شخص ہوں تو ایک کو اپنا امیر بنالی‘‘ (ابو داؤدج۳ص۵۱ حدیث۲۶۰۹)٭اس (یعنی امیر بنانے )میں کاموں کا انتِظام رَہتا ہے ، سردار(یعنی امیر) اُسے بنائیں جو خوش خُلق (یعنی با اَخلاق)عاقِل دیندار ہو، سردار (یعنی امیر)کو چاہیے کہ رفیقوں کے آرام کو اپنی آسائش پر مُقدَّم رکھے  (بہارِ شریعت ج۱ص۱۰۵۲) ٭ آئینہ، سرمہ، کنگھا، مسواک ساتھ رکھے کہ سُنّت ہے  (ایضاًص۱۰۵۱)٭ ذِکرُ اللّٰہسے دل بہلائے کہ فِرِشتہ ساتھ رہے گا، نہ کہ (بُرے )شِعر و لَغوِیات (یعنی بے ہودہ باتوں )سے کہ شیطان ساتھ ہوگا (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۱۰ ص۷۲۹٭اگردشمن یا ڈاکو کا خوف ہوتو سو رۂ’’ لِاِیْلٰف‘‘پڑھ لیجئے ، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ    وَجَلَّ  ہر بلاسے اَمان ملے گی ۔ یہ عمل مُجرَّب ہے (الحصن الحصین ص۸۰) ٭ سفر ہو یا حَضَر (یعنی قِیام )جب بھی کسی غم یا پریشانی کا سامنا ہو لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللّٰہط اور حَسْبُنَا اللّٰہُ وَ نِعْمَ ا لْوَکِیْل بکثرت پڑھئے ۔  اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ    وَجَلَّ    مشکل آسان ہو گی  ٭



Total Pages: 14

Go To