Book Name:Abu Jahal ki maut

پرنازتھا اور مسلمانوں کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ  اور اس کے پیارے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر بھر و سا ۔  مجاہِدین میں جذبۂ شہادت کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا اور مسلمانوں کا بچّہ بچّہ شوقِ شہادت سے سرشارتھا ۔ چُنانچِہ

جو روتا ہے اُس کا کام ہوتا ہے

            مشہورصَحابی حضرتِ سیِّدُناسعدبن ابی وَقّاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے چھوٹے بھائی حضرت سیِّدُناعُمَیر بن ابی وَقّاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ جوابھی نَوعُمرہی تھے غزوئہ بدر کے موقع پرفوج کی تیّاری کے وَقْت اِدھراُدھرچُھپتے پھررہے تھے ۔  حضرتِ سیِّدُنا سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  : میں نے تَعَجُّب سے پوچھا :  کیوں چُھپتے پھررہے ہو؟کہنے لگے :  کہیں ایسا  نہ ہوکہ مجھے سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ دیکھ لیں اورچھوٹا سمجھ کرجِہادپرجانے سے مَنْع فرما دیں ۔ بھیّا!مجھے راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ  میں لڑنے کابڑا شوق ہے ، کاش !مجھے شہادت نصیب ہوجائے ۔  آخِرِکار سرکارِ نامدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی توجُّہ شریف میں آہی گئے اور ان کوکم عُمری کی وجہ سے مَنْع فرمادیا ۔  حضرتِ سیِّدُناعُمَیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  غَلَبۂ شوق کے سبب رونے لگے ، ’’جو روتا ہے اُس کا کام ہوتا ہے ‘‘کے مِصداق ان کاآرزوئے شہادت میں رونا کام آگیا اور تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اجازت مرحَمت فرما دی ۔ جنگ میں شریک ہوگئے اوردوسری آرزوبھی پوری ہوگئی کہ اُسی جنگ میں شہادت کی سعادت بھی نصیب ہوگئی ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کے بڑے بھائی حضر تِ سیِّدُنا سعدبن ابی وَقّاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں  : میرے بھائی عُمَیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  چھو ٹے تھے اور تلوار بڑی تھی لہٰذا میں اس کی حمائل کے تَسموں میں گِرہیں لگاکر اُونچی کرتا تھا ۔  (کتاب المغازی للواقدی ج ۱ ص۲۱)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھاآپ نے !چھوٹاہویابڑاراہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ میں جان قربان کرناہی ان کی زندگی کا مقصدِوحیدتھا، لہٰذاکامیابی خودآگے بڑھ کر ان کے قدم چومتی تھی ۔ حضرتِ سیِّدُناعُمَیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کاجذبۂ جِہاداورشوقِ شہادت آپ نے مُلاحَظہ فرمایا اور بڑے بھائی سیِّدُناسعدابنِ ابی وقّاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کے تعاوُن کے بارے میں بھی آپ نے سنا ۔ بیشک آج بھی بڑابھائی اپنے چھوٹے بھائی کااورباپ اپنے بیٹے کا تعاوُن کرتا ہے مگرصِرْف دُنیوی مُعاملات میں اورفَقَط دُنیوی مستقبِل روشن کرنے کی غَرَض سے ۔  افسوس!ہمارے پیشِ نظرصِرْف دنیاکی چندروزہ زندَگی کاسِنگھارہے جبکہ صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی نگاہو ں میں آخِرت کی زندگی کی بہارتھی ۔ ہم دُنیوی آسائشوں پر نثار ہیں ا و ر وہ اُخروی راحتوں کے طلبگارتھے ۔ ہم دنیاکی خاطِرہرطرح کی مصیبتیں جَھیلنے کیلئے تیّار رہتے ہیں اوروہ آخِرت کی سُرخروئی کی آرزومیں ہرطرح کی راحتِ دنیا کو ٹھوکر مار کرسخت مصائب وآلام اورخون آشام تلواروں تلے بھی مسکراتے رہے  ۔

ربِّ کعبہ کے پَرَستار وہ مردانِ جلیل!                     پاسبانِ حرم، وارثِ ایمانِ خلیل!

وہ سرِفرشِ زمیں عزّتِ حوّا کا ثُبوت                       وہ تہِ چرخِ بریں عَظَمتِ آدم کی دلیل

 



Total Pages: 14

Go To