Book Name:Filmi Adakaar ki Tauba

، میں  نے بڑے شوق سے بیان سننا شروع کردیا۔امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کا رقت انگیز پُر سوز بیان سن کر میرے جسم پر لرزہ طاری ہوگیا۔جونہی بیان ختم ہوا میں  نے فوراًاپنے تمام گناہوں سے توبہ کی اور نماز اداکرناشروع کردی۔اسی ہفتے قریبی شہرمیں ہونے والے دعوتِ اسلامی کے اسلامی بہنوں  کے سنتوں  بھرے ہفتہ وار اجتماع میں  شرکت کی سعادت حاصل کی۔اس اجتماع میں  شریک ہوکر مجھے بہت رُوحانی سکون ملا بالخصوص رقت انگیزدعا نے میر ے دل پرگہرا اثر کیا اور میں  نے اپنی زندگی دعوتِ  اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ رہ کر گزانے کا عزمِ مصمم کر لیا ۔  اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّ وَجَلَّ

 تادمِ تحریر دعوتِ اسلامی کا مَدَنی کام کرتے کرتے تحصیل ذمہ دارہ کی حیثیت سے سنتوں  کی خدمت کی سعادت حاصل کر رہی ہوں ۔اللّٰہ   عَزَّ  وَجَلَّ  مجھے مَدَنی ماحول میں  استقامت عطافرمائے ۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

اصلاح کاراز

        عطّار نگر(ننکانہ ، شیخوپورہ)کے ایک اسلامی بھائی کابیان ہے کہ مَدَنی ماحول میں  آنے سے پہلے شب و روز گانے باجے سننا، فلمیں  ڈرامے دیکھنا میرا معمول تھا ۔ تاش کھیلنے کا میں  بہت شوقین تھا۔ایک دن میرے محلے کے اسلامی بھائی نے امیرِ اہلِسنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے بیان کی کیسٹ ’’پیغامِ فنا‘‘ سننے کے لئے دی ۔ کیسٹ سن کر میں  متأثر تو بہت ہوا مگر غفلت کی نیند شاید بہت گہری تھی لہٰذا میں  بیدار نہ ہوسکا ۔ کچھ دن بعد ایک اور کیسٹ سننے کو ملی جس کا نام’’نیرنگی ٔدنیا ‘‘تھا ۔یہ بیان سن کر کافی ذہن تبدیل ہوا اور اس پیارے پیارے مبلغ یعنی امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  ( جن کے بیانات نے خیالات میں  ہلچل مچا دی تھی) کی زیارت کاشوق پیدا ہوا ۔

        کچھ ہی دنوں  کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ دعوتِ اسلامی کا بین الاقوامی اجتماع کراچی میں  ہو رہا ہے(اب بین الاقوامی سنّتوں  بھرااجتماع مدینۃ الاولیاء ملتان شریف میں ہوتا ہے )۔میری خوش نصیبی کہ میں  بھی پنجاب سے اس اجتماع میں  شریک ہوا ۔ اس اجتماع میں  رقّت انگیز اختتامی دُعا کے موقع پر میں  پھوٹ پھوٹ کر رویا،  زندگی میں  کبھی بھی اس طرح کی دعا میں  نے سنی تھی نہ دیکھی تھی ۔ میں  نے اپنے تمام گناہوں  سے سچے دل سے توبہ کر لی۔اسی اجتماع میں  امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کی غلامی اختیار کرتے ہوئے عطاری بھی بن گیا ۔ چہرے پر داڑھی شریف،  سر پر عمامہ شریف سجانے کی نیت کی ۔ میرا حُسنِ ظن ہے کہ پیرو مرشد حضرت عطّار دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کے صدقے  اِنْ شَآءَاللہ   عَزَّ وَجَلَّ  َّ دونوں  جہانوں  میں  بیڑا پار ہو جائیگا۔

اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

دل کی دنیا ہی بدل گئی

         بابُ المدینہ ( کراچی ) کے مُقِیم اسلامی بھائی کی تحریر کا خُلاصَہ ہے کہ میں  ایک ماڈرن لڑکاتھا۔ایک مرتبہ اتفاقاًمیں  گلزار ِحبیب مسجد میں ہونے والے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وارسنّتوں بھرے اِجتماع میں جا پہنچا۔اجتماع سے میں نے ایک کیسٹ بنام ’’ دنیا کا اصل روپ ‘‘اسٹال سے خریدا اورواپسی پربس ڈرائیورکو بیان کاکیسٹ چلانے کوکہا، ڈرائیورنے میری بات مانتے ہوئے بیان چلادیا۔شیخِ طریقت ، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کی پُر تاثیر آواز کیا سنائی دی ، ساری گاڑی میں  ایسی خاموشی چھا گئی گویاگاڑی میں  کوئی موجودہی نہیں ہے ۔   

 میں جُوں  جُوں  بیان سنتا جارہا تھا میری قلبی کیفیت بدلتی جارہی تھی۔ دوران ِ بیان ہی میں نے نیّت کرلی کہ سنّت کے مطابق داڑھی رکھوں  گا۔بیان کے اختتام پر میں  نے اپنے گناہوں سے توبہ کی اور دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوگیا ۔ اب توذہن یہ بن چکاہے کہ زندگی کا اصل لطف تو دعوت اسلامی کے مشکبار مَدَنی ماحول میں  ہے کہ جہاں  عشق ِمصطفیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے جام پلائے جاتے ہیں  ،  اس سے پہلے کہ سانس کی مالا ٹوٹے،  ہر مسلمان کو آخرت کی تیاری کے لئے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوجاناچاہیے ۔ یا اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ ! تیرے اچھوں  کا تصدق ہماری پیا ر ی تحریک دعوت اسلامی کو دن گیارہوں  رات بارہویں  ترقی عطافرما۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

اصلاح کاانوکھاذریعہ

       کوئٹہ(بلوچستان)کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کالُبِ لُباب ہے کہ ایک مرتبہ مجھے اپنے چند دنیا دار دوستوں  کے ساتھ سیرو تفریح کیلئے مری،  پنڈی ،  لاہور جانے کا اتفاق ہوا ۔پنڈی میں  قیام کے دوران ایک روز سڑک کے کنارے ایک اسلامی بھائی کتب ورسائل کابستہ (اسٹال)لگائے بیٹھے تھے ۔میں نے ان سے نعت کی کیسٹ طلب کی تو انہوں  نے امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کا کیسٹ بیان ’’قبر کا امتحان ‘‘ دے دی اور کہا کہ اس میں  نعت بھی ہے اور بیان بھی،  آپ بیان سن لیجئے اگر پسند نہ آئے تو کیسٹ واپس دے جائیے گا۔میں نے کیسٹ خریدلی۔ پہلے تو ہوٹل میں  ٹیپ ریکارڈر پر گانے سننے کا معمول تھامگررات مری سے واپسی پر جب ہوٹل پہنچے تو خلافِ معمول میں نے امیرِاہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کا بیان سننا شروع کردیا، پرتاثیربیان سن کرسب دوستوں پررقت طاری ہو گئی۔اس بیان کی برکت سے بالآخر میں  دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہو گیا۔

اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

 



Total Pages: 7

Go To