Book Name:Filmi Adakaar ki Tauba

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

فلمیں   ڈرامے دیکھنا چھوڑ دئیے

        باب المدینہ (کراچی) کی ایک اسلامی بہن کے بیان کاخُلاصَہ ہے کہ میں فلمیں ڈرامے شوق سے دیکھتی اور نمازیں  قضاکردیاکرتی تھی۔ ایک روز مجھے دعوت ِاسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ایک اسلامی بہن نے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے ہونے والے ’’مَدَنی مذاکرے‘ ‘ کی کیسٹ سننے کیلئے دی۔ میں نے مَدَنی مذاکرہ سنناشروع کردیا۔ایک سوال کے جواب میں  امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   نے قبر کی تنہائیوں  اور پریشانیوں  کا ایسا نقشہ کھینچا کہ میرا دل خوفِ خدا   عَزَّ  وَجَلَّ  سے لرز اٹھااورقبرکے وحشت ناک تصورنے میرے رونگٹے کھڑے کردیے۔ میں نے گھبراکر اسی وقت تمام گناہوں سے توبہ کی، اور نمازوں کی پابند بن گئی۔ اسی مَدَنی مذاکرے کی برکت سے فلموں ڈراموں کی نحوست سے بھی نجات مل گئی ہے۔   اَلْحَمْدُلِلّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ اب میں  نہ صرف خود دعوتِ اسلامی کے اسلامی بہنوں  کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں شریک ہوتی ہوں بلکہ دیگر اسلامی بہنوں  کو بھی اس کی دعوت دیتی ہوں ۔ تادمِ تحریرہفتہ وار اجتماع میں سنتیں  سکھانے کے حلقہ کی ذمہ داری نبھانے کی کوشش کر رہی ہوں ۔

اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

توبہ کا راز

        ضلع ٹانک(ڈیرہ اسمعیل خان) کے مُقِیم اسلامی بھائی کے بیان کاخُلاصَہ  ہے کہ میں پہلے بدعقیدہ لوگوں  سے وابستہ تھا۔دعوت اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستگی کا ذریعہ امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کا کیسٹ بیان’’ راہ تبلیغ کے پر سوز واقعات‘‘ بنا۔ ہوا یوں  کہ ایک دن میں کسی کام کی غرض سے جب ڈیرہ اسمعیل خان گیاتومیرا گزر ’’نیم والی‘‘ سے ہواجہاں میں نے دیکھا کہ دینی کتب و کیسٹوں  کابستہ (یعنی اسٹال) لگا ہوا ہے ، میں  اسٹا ل کے قریب گیا تو میری نظر ایک کیسٹ پر پڑی جس کا عنوان تھا’’راہ تبلیغ کے پر سوز واقعات‘‘، موضوع میرے مزاج کے مطابق تھا ۔چنانچہ میں  نے یہ کیسٹ ہدیۃً لے لی اور گھر جاکر جب رات کو سنناشروع کی توامیرِ اہلسنّتدَامت بَرَکاتُہُمُ العَالِیہکے بیان کردہ دردبھرے پرسوزواقعات نے میرے دل کی دنیاکوتبدیل کرکے رکھ دیا۔ دوسرے دن میں  پھر ڈیرہ اسمٰعیل خان گیا اور اسی بستے (یعنی اسٹال) سے امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے رسائل حاصل کیے، جنہیں پڑھ کرمیں  نے اپنے گناہوں  سے توبہ کی اور ڈیرہ اسمٰعیل خان میں  ہونے والے ہفتہ وار اجتماع میں  شرکت کرناشروع کردی ۔دعوتِ اسلامی سے اس قدرمحبت ہوچکی تھی میں  بین الاقوامی سنتوں بھرے اجتماع میں اکیلا ہی طویل سفر کر کے باب المدینہ کراچی جا پہنچا۔اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّ  وَجَلَّ  ا جتماع میں شرکت کی ، اجتماع کے اختتام پر امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  نے رات کو ملاقات فرمائی۔ تو میں  بھی ملاقات کیلئے رک گیا جب آدھی رات کے وقت میری ملاقات کی باری آئی توامیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  نے مجھ سے فرمایا ’’ :  آپ اکیلے ہی آگئے؟ (یعنی انفرادی کوشش کر کے مزید اسلامی بھائیوں  کو بھی ساتھ لاتے)‘‘تو میں  نے روتے ہوئے عرض کی : ’’ حضور !آپ دعا فرمادیجئے ۔‘‘ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  نے فرمایا :  ’’آپ کوشش کیجئے،   اِنْ شَآءَاللہ   عَزَّ وَجَلَّ  ََّّ اللّٰہ   عَزَّ  وَجَلَّ  کرم فرمائے گا۔‘‘امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کی دعا کی برکت یوں  ظاہرہوئی کہ جب بین الاقوامی سنتوں بھرا اجتماع ملتان شریف منتقل ہوا تواَلْحَمْدُلِلّٰہِ   عَزَّ  وَجَلَّ  ہمارے علاقے سے ایک بڑی کوچ اجتماع کیلئے آئی جسمیں  80اسلامی بھائی تھے۔اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّ وَجَلَّ تادمِ تحریر ہمارے گائوں  میں  ہفتہ وار اجتماع بھی شروع ہوچکاہے۔

اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 ویڈیو سینٹرسے نجات

       مرکزالاولیائ(لاہور)کے مُقِیم اسلامی بھائی کاکچھ اس طرح سے بیان ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے سے قبل میں  اپنے بھائی کے ساتھ ویڈیو سینٹر چلایاکرتاتھا، وڈیو سنٹر پر بیٹھنا اور فلمیں  دیکھنے سے بچنا کیونکر ممکن تھا چنانچہ میں  بڑے شوق سے فلمیں  دیکھا کرتا تھا ۔ایک اسلامی بھائی نے مجھے دعوت ِ اسلامی کے ہفتہ وارسنّتوں بھرے اجتماع کی دعوت دی۔میں ان کے اندازِ دعوت سے بہت متأثر ہوااوراجتماع میں  شریک ہو گیا۔میں  نے وہاں امیرِ اہلِسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کا بیان سنا جس کا نام تھا ’’اللّٰہ   عَزَّ  وَجَلَّ  دیکھ رہاہے۔‘‘ بیان سنتے ہی میرے دل میں مَدَنی انقلاب پیدا ہو گیااور میں  نے اسی اجتماع میں اپنے تمام گناہوں سے توبہ کی اورداڑھی شریف کی نیت کرکے عمامہ شریف کاتاج سجا لیا اورفلموں ڈراموں سے جان چھڑا کر دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہو گیا۔ کچھ عرصہ بعدہی میں نے لاہور میں  مدرسۃ المدینہ سے مدرس کورس کیا اور آٹھ سال سے مدرسہ المدینہ سے وابستہ ہو ں ۔

اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 پیغامِ فنا

        پنجاب (پاکستان)کی ایک اسلامی بہن کے تحریری بیان کا لبّ ِلُباب ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے سے قبل میں نمازیں  قضا کرنے،  بے پردگی ، فیشن پرستی کی آفت میں  گرفتار تھی ، اجنبی لڑکوں  سے دوستیاں کرنا میرا مشغلہ تھا۔ایک دن ایک اسلامی بہن نے مجھے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کا کیسٹ بیان ’’ پیغامِ فنا‘‘ سننے  کو دیا ۔ عنوان بہت دلچسپ تھا



Total Pages: 7

Go To