Book Name:Filmi Adakaar ki Tauba

          شیخو پورہ (پنجاب) کی ایک اسلامی بہن کاکچھ اسطرح بیان ہے کہ تبلیغ قراٰن و سنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوت اسلامی کے مشکبار مہکے مہکے مَدَنی  ماحول سے وابستگی سے قبل فیشن پرستی اور بے پردگی کے مرض میں  گرفتار،  فلمیں  ڈرامے دیکھنے کے گناہ کی شکار تھی۔ میں  اگرچہ کالج کی طالبہ تھی لیکن اپنے عزیز و اقارب سے زیادہ گفتگو نہ کرتی تھی اور نہ ہی ان سے بے تکلف تھی ۔ میرے بھائی دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ تھے اورانفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے اسلامی بہنوں  کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اِجتماع میں  شرکت کی دعوت دیتے رہتے تھے مگر میں  ٹال  دیا  کرتی

 تھی ۔بالآخر ایک مرتبہ میں نے اپنے بھائی کے ساتھ دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے اسلامی بہنوں  کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اِجتماع میں  شرکت کی سعادت حاصل کر ہی لی۔اجتماع میں  ہونے والے شیخِ طریقت ،  امیر اہلسنّت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے سنتوں  بھرے بیان’’ حضرت بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   کا واقعہ‘‘ نے میرے دل کی دنیاکوتہہ وبالاکرکے رکھ دیا، رہی سہی غفلت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کی پر سوز رقت انگیز دعا سے کافورہوگئی اور اَلْحَمْدُلِلّٰہِ   عَزَّ  وَجَلَّ  میں  اپنے گناہوں  سے تائب ہوکر دعوت ِاسلامی کے مشکبار مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوگئی۔

اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

ایمان کی حفاظت  کی فکر جاگ اٹھی

        واہ کینٹ (پنجاب) کے ایک اسلامی بھائی کاکچھ اس طرح بیان ہے کہ   میں  پی او ایف واہ کینٹ میں  ٹی۔ٹی۔آئی کے ادارے میں  ٹریننگ حاصل کررہا تھا۔ اسی دوران وہاں  پر دعوتِ اسلامی کے تحت مدرسۃ المدینہ کا آغاز ہوگیاجس کی وجہ سے اسلامی بھائیوں  سے میری واقفیت ہوگئی ۔ایک اسلامی بھائی نے مجھے  امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کاکیسٹ بیان بنام’’قبر کاامتحان‘‘سننے کیلئے پیش کیا،  جب میں نے اس بیان کو سننا شروع کیا تو اس فکر میں  مبتلاء ہوگیا کہ ’’مرنے کے بعد میرا کیا بنے گا؟‘‘ جب بیان کے اختتام پر امیرِ اہلسنّت دَامت بَرَکاتُہُمُ العَالِیہرو رو کر رقت انگیز اشعار پڑھ رہے تھے۔ تو اس وقت قلب پر ایسی رقت طاری ہوئی کہ بیان نہیں  کرسکتا ۔ اس بیان کی برکت سے میرے دل میں ایمان کی حفاظت کی فکر پیدا ہوئی ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ    عَزَّ  وَجَلَّ   مجھے عمامے کا تاج بھی نصیب ہوگیا ، تادم تحریر دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوکر نیکی کی دعوت عام کرنے کے لئے کوشاں  ہوں ۔

اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !               صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

 مد نی بر قع پہن لیا

        پنجاب (پاکستان ) کی ایک اسلامی بہن کاکچھ اسطرح بیان ہے کہ گھر میں  مذہبی ماحول ہونے کے باوجود میں  بے پردگی کے گناہ میں  مبتلا تھی۔ ایک دن اسکول میں  میری ایک دوست نے مجھے ایک کیسٹ ’’قبر کا امتحان ‘‘سننے کے لئے دی۔میں  نے وہ کیسٹ سننا شروع کی ،  امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  درد بھرے انداز میں  قبر کے امتحان کی اہمیت کا احساس دِلا رہے تھے ۔ دُنیاوی امتحان کی تیاری میں  کس قدر مشقت اٹھانی پڑتی ہے اس کا تو مجھے اندازہ تھا ، بیان سن کر پتا چلا کہ قبر کے امتحان کے لئے تو میں  نے کوئی تیاری کی ہی نہیں  ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ    عَزَّ  وَجَلَّ   اس بیان کی برکت سے میں  نے گناہوں  سے توبہ کی اور شیخِ  طریقت ، امیرِ اہلسنّت حضر ت علا مہ مو لا نا محمد الیا س عطا رقادری رضوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے ذریعے بیعت ہو کر سلسلہ قادر یہ رضویہ عطاریہ میں  بھی شا مل ہو گئی۔اللّٰہ   عَزَّ  وَجَلَّ  کامزیدکرم اس طرح ہواکہ انہی اسلامی بہن کی انفرادی کوشش سے اَلْحَمْدُلِلّٰہ    عَزَّ  وَجَلَّ   میں  نے مدرستہ المدینہ (للبنات)  میں  داخلہ لے لیا ۔  اَلْحَمْدُلِلّٰہ    عَزَّ  وَجَلَّ    ََّ  مد نی بر قع میرے لباس کاحصہ بن چکا ہے ۔ تادمِ تحریر دعوت ِاسلامی کے مَدَنی ماحول میں علاقہ ذمہ دار ہ کی حیثیت سے سنتوں  کی خد مت کی سعادت حاصل کر رہی ہوں  ۔

اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                 صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

شبہات دورہوگئے

        جدہ (عرب شریف) کے ایک اسلامی بھائی کاکچھ اس طرح بیان ہے کہ پہلے میں  دعوت اسلامی کے متعلق کچھ نہیں  جانتا تھا ۔ میرے پڑوس میں  رہنے والا میرا ہمسایہ مجھے ایک مرتبہ اپنے ساتھ کسی جگہ لے گیا وہاں  پر کچھ بدعقیدہ لوگوں  نے دعوتِ اسلامی والوں  کے سبز عمامے پر تنقید کی۔ اس کے دو تین دن بعد ہی میری ملاقات ایک مبلغِ دعوتِ اسلامی سے ہو ئی ۔ میں  نے ان پر اپنے شبہات کا اظہار کیا تو انہوں  نے مجھے امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے بیان کی کیسٹ   ’’ٹی وی کی تباہ کاریاں ‘‘ سنائی جیسے جیسے میں  وہ بیان سنتا گیا میرا دل ولی کامل کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کی برکت سے صاف ہوتا گیا اور جب آخر میں  اچھی اچھی نیتوں  پر   اِنْ شَآءَاللہ   عَزَّ وَجَلَّ  َّ کے نعرے لگائے گئے تو اس وقت میں  اپنے تمام گناہوں  سے توبہ کرچکا تھا۔اس بیان کی برکت سے میں    مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوگیا ۔پھر مزید کرم ہوا اور تین ماہ بعد ہی شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  بھی غالباًحج کے لئے تشریف لے آئے تو میں  آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کے دستِ مبارک پر بیعت کر کے عطّاری بھی ہوگیا ۔   اَلْحَمْدُلِلّٰہ   عَزَّ  وَجَلَّ  میں  نے مَدَنی قافلہ کورس بھی کیا اور َتادمِ تحریرمَدَنی قافلہ ذمہ دار کی حیثیت سے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کام کے لئے کوشاں  ہوں  ۔

اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

 



Total Pages: 7

Go To