Book Name:Filmi Adakaar ki Tauba

   

 اَلْحَمْدُلِلّٰہ    عَزَّ  وَجَلَّ   اسی کیسٹ بیان کی برکت یوں بھی ظاہرہوئی کہ میرا پورا گھر بھی مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوگیا ،  بہنوں  نے شرعی پردہ شروع کردیا ۔

        اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  تادم تحریر میں  ،  میرے والد صاحب اور تمام بھائی پابندی کے ساتھ ہرماہ راہِ خدا  عَزَّ وَجَلَّ میں  سفر کرنے والے عاشقانِ رسول کے ہمراہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافلوں  میں  سفر کرتے ہیں  ۔

اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

گانے سننے کی عادت جاتی رہی

       باب المدینہ(کراچی) کی ایک اسلامی بہن کے بیان کاخُلاصَہ ہے کہ میں  دعوت اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے سے پہلے گانے بہت شوق سے سنا کرتی تھی اسی پربس نہیں بلکہ نمازیں  بھی قضاکردیاکرتی ۔میں نے اپنی اصلاح کیلئے معلمہ کورس میں  داخلہ لیا لیکن اس میں  دل نہ لگتا تھا،  میرے والد صاحب مجھے مُبَلِّغہ دیکھناچاہتے تھے ، چنانچہ انہوں نے مجھے امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے کیسٹ بیانات سننے کی ترغیب دی۔میں  نے والد صاحب کے حکم پرعمل کرتے ہوئے ، امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کا بیان بنام ’’خاموش شہزادہ‘‘ سنناشروع کردیا،  جیسے ہی ولیٔ کامل امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کی میٹھی میٹھی آواز کانوں میں  داخل ہوئی ۔ دل سے گناہوں  کا زنگ دور ہونا شروع ہوگیا اور میں  نے اپنے تمام گناہوں سے توبہ کی اورپنجگانہ نمازکی پابندی کے ساتھ ساتھ مَدَنی بُرْقَع  بھی اپنالیا۔

اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

نفرت محبت میں  بدل گئی

        باغ (آزادکشمیر) کے ایک اسلامی بھائی کاکچھ اس طرح بیان ہے کہ  میں  سنی گھرانے سے تعلق رکھتا تھا مگر شُعُور  نہ ہونے کی وجہ سے میں  تقریباً ڈیڑھ سال تک بد مذہبوں کے مدرسے میں  تعلیم حاصل کرتا رہا ہوں ۔ میں  چونکہ اسی مدرسہ میں مُقِیم تھاجس کی وجہ سے اکثروبیشتربدمذہب مقررین کی کیسٹیں سنتارہتا ۔ان کی تقاریر سننے کے نتیجے میں  مجھے اہلِ حق کی تحریک دعوت ِ اسلامی سے نفرت ہوچلی تھی ۔ ایک دن اتفاقاً میری ملاقات پرانے کلاس فیلو (یعنی ہم جماعت)سے ہوگئی جو دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوچکے تھے اور دعوتِ اسلامی کے تحت رمضان المبارک میں  ہونے والے اجتماعی اعتکاف کی بھی سعادت حاصل کرچکے تھے۔ انہوں  نے جب میری حالتِ زار دیکھی تھی تو نہایت ہمدردانہ لہجے میں مجھے سمجھایااورکہاکہ میں آپ کو ایک ایسے عالِم دین کی کیسٹ سناتا ہوں  کہ جنہوں  نے لاکھوں نوجوانوں کونہ صرف فرائض وواجبات بلکہ سنتّوں  پر عمل کرنے کا جَذْبَہ  دیا ہے، لندن و پیرس کے سپنے دیکھنے والوں کومیٹھے مدینے کادیوانہ بنادیاہے ۔وہ میرے پرانے دوست تھے ان کی یہ باتیں سن کر میرے دل میں  بیان سننے کی تڑپ بڑھتی چلی گئی ۔انہوں  نے مجھے امیرِاہلسنّت،  بانی ٔ دعوتِ ِاسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمدالیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے بیان’’ قبر کی پہلی رات‘‘ کا کیسٹ سنایا،  جسے سن کرمیں  بہت متأثر ہوا اور دعوتِ اسلامی سے نفرت محبت میں  بدل گئی ۔بدمذہب اور ان کا مدرسہ میرے دل سے اتر گئے ، میں  نے اس مدرسہ کو چھوڑ دیا اور اسلام آباد میں  اہلِسنّت کے ایک مدرسہ میں  داخلہ لے لیا۔ شیخِ طریقت ،  امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے دستِ مبارک پر بیعت ہو کر غوثِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کے مریدوں  میں شامل ہو کر عطّاری بھی ہو گیا ۔اللّٰہ   عَزَّ  وَجَلَّ  سے دعا ہے کہ مجھے اپنے مرشد کریم کا مریدِصادق مُطیع و فرمانبردار بنا ئے۔اور ہر قسم کی بے ادبی سے بچائے۔

اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

پُل صِراط کی دہشت

         قصور(پنجاب)کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے کہ بہت سے نوجوانوں  کی طرح میں  بھی متعدد اخلاقی برائیوں  میں  مبتلا تھا ۔فلمیں ڈرامے دیکھنا، کھیل کود میں  وقت برباد کرنا میرا محبوب مشغلہ تھا ۔ایک مرتبہ رمضان المبارک تشریف لایا تو مجھ گناہ گار کو بھی نمازوں  کے لئے مسجد میں  حاضری کی سعادت ملنے لگی ۔وہاں  دعوتِ اسلامی کے ایک ذمہ دار اسلامی بھائی فیضانِ سنت سے درس دیتے تھے ۔درس کے بعد وہ بڑی ملنساری سے ملاقات کیا کرتے ، ان کا حسنِ اخلاق دیکھ کر میں  بہت متأثر ہوا ۔بالخصوص اُن کا’’میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو‘‘کہنا کافی دیر تک میرے کانوں میں رس گھولتارہتا ۔ ایک دن میری اُن سے ملاقات ہوئی تو وہ بڑے پُرتپاک انداز میں  ملے اور جمعرات کو ہونے والے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت پیش کی ،  میں نے شرکت کی نیت کرلی ۔ جمعرات آنے سے پہلے ہی مجھے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کے بیان کا کیسٹ بنام ’’پُل صراط کی دہشت‘‘ کہیں  سے میسّر آگیا۔ میں نے نہایت توجہ سے بیان سننا شروع کیا۔’’پل صراط‘‘ کانام تو میں  نے پہلے بھی سن رکھا تھا مگر پل صراط عُبُور کرنے کا مرحلہ اتنا دہشت ناک ہے ، اس کا پتا مجھے یہ بیان سن کر چلا ۔ جب میں  نے اپنے گناہوں ‘ پھرناتواں  بدن کی طرف نظر کی تو میری آنکھوں  میں  آنسو آگئے کہ میں  پل صراط کیونکر پار کرسکوں  گا ۔چنانچہ میں نے اپنے ربّ   عَزَّ  وَجَلَّ  کی نافرمانیوں  سے توبہ کرکے سدھرنے کا پختہ ارادہ کرلیا ۔  اَلْحَمْدُلِلّٰہ   عَزَّ  وَجَلَّ  دعوت ِاسلامی کے سنتوں بھرے مَدَنی ماحول کی برکت سے سنت کے مطابق داڑھی شریف ، عمامہ اور سفید لباس میرے بدن کاحصہ بن چکے ہیں ۔  

اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

بے پردگی سے توبہ

 



Total Pages: 7

Go To