Book Name:Filmi Adakaar ki Tauba

        جب میں  نے گھر والوں  کے سامنے فلم انڈسٹری کوہمیشہ کے لیے چھوڑنے کا اعلان کیا تو ان کے پیروں  تلے سے زمین نکل گئی، کیونکہ سب کی یہی خواہش تھی کہ میں بہت بڑا ایکٹر (اداکار)بنوں  مگرمیں نے یہ اعلان کر کے اُن کی  ’’ امیدوں  پے پانی پھیر دیا‘‘ تھا ۔خاندان بھر میں  گویا بھونچال آگیا ، میری مخالفت شروع ہوگئی۔ مجھے نرمی سے ، گرمی سے دوبارہ فلمی دنیا کا رُخ کرنے کے لئے آمادہ کیا گیا مگر میں  نے صاف اِنکار کردیا ۔ بات یہاں  تک بڑھی کہ مجھے گھرسے نکال دیا گیا۔کوئی ٹھکانا تو تھا نہیں  ، میں  کئی دن تک گھرسے باہربے یارو مدد گار گھومتا رہا۔ اب بھی گھر والے جہاں  ملتے بحث وتکرار شروع ہوجاتی ۔بالآخر مجھے دعوتِ اسلامی کے ذمہ داراسلامی بھائیوں نے سمجھایاکہ آپ زبان کا قفلِ مدینہ لگالیجئے اورکسی سے بحث نہ کریں ، اللّٰہ  تَعَالٰی  نے چاہاتو بہتری کی کوئی صورت نکل آئے گی۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ قفلِ مدینہ لگانے کی برکت سے کچھ دن بعدہی والدین نے مجھے گھرواپس بلالیااور غیر اعلانیہ طور پر اپنے مطالبے سے بھی دستبردار ہوگئے ۔   

        میں مسلسل سنّتوں بھرے اِجتماعات میں شرکت کرتارہا ۔دعوتِ اسلامی نے میرے کردار کو غلاظتوں  سے پاک کرکے مجھے سُتھرا کردیا ۔میں  فرائض وواجبات پر عمل کے ساتھ ساتھ سنَّتوں  اور مستحبات پر عمل کے لئے بھی کوشاں  ہوگیا۔ مَدَنی ماحول نے مجھ پر جو رنگ چڑھا یا اسے دیکھ کر کچھ ہی عرصے میں  نہ صرف میرے چھوٹے بہن بھائی بلکہ میرے والدین بھی دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوکر سنّتوں کے عامل بن گئے ۔اللّٰہ  تَعَالٰی  امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  پر کروڑوں  رحمتیں  نازل فرمائے ، جن کے ایک بیان نے ہمارے فلمی گھرانے کو مَدَنی گھرانے میں  تبدیل کردیا ۔دعوتِ اسلامی کا مَدَنی کام کرنے کی مختلف ذمہ داریاں  نبھانے کی کوشش کرتے کرتے اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ تادمِ تحریر دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں ڈویژن مُشاورت کے خادم(نگران)کی حیثیت سے سنّتوں  کی خدمت کی سعادت حاصل کررہاہوں ۔

اے عشق ترے صدقے جلنے سے چھٹے سَستے

جو آگ بجھا دے گی وہ آگ لگائی ہے

اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

چہرے پرداڑھی شریف سجا لی

        بہاول نگر(پنجاب، پاکستان) کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کاخُلاصَہ ہے کہ میں  روزگارکے سلسلے میں  حیدرآباد میں رہائش پذیرتھااور ایک فیکٹری میں  لیبر آفیسرکے طورپرملازمت کرتاتھا۔ ایک دن میری ملاقات دعوتِ اسلامی کے ایک مبلغ سے ہوئی جو مدرسۃ المدینہ(دعوتِ اسلامی) کے ناظم بھی تھے۔انہوں  نے بڑی شفقت اور محبت سے مجھے نیکی کی دعوت پیش کی ۔ مجھے ان کا انداز بہت پسند آیا ۔ ملاقات کے اختتام پرانہوں  نے مجھے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے بیان ’’حضرت بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کا عشق ِرسول ‘‘کاکیسٹ تحفۃً پیش کیا ۔ گھر آکر میں نے اُس بیان کو سنناشروع کیا ۔امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے عشقِ رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی چاشنی سے لبریز اندازِ بیان نے میرے کانوں  میں  رس گھولنا شروع کردیا ۔جوں  جوں  بیان سنتاجا رہاتھامیرے دل میں  عشقِ مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کی شمع فروزاں  ہوتی چلی جارہی تھی۔نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے وصال ظاہری کے بعد حضرت سیِّدُنا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کے اذان دینے کی حکایت سن کر روتے روتے میری ہچکیاں  بندھ گئیں  ۔ بیان ختم ہوا تو میرے دل میں  یہ خواہش بیدار ہوئی کہ کاش !مجھے بھی اپنے میٹھے میٹھے آقا ، مدینے والے مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کا دیدار نصیب ہوجائے ۔

دیدار کے قابل توکہاں  میری نظر ہے

یہ تیری عنایت ہے کہ رخ تیرا ادھر ہے

        یہ بیان سن کر میں  امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  سے بھی متأثر ہوچکا تھا ،  جنہوں  نے مجھے عشقِ رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کی مٹھاس سے رُوشناس کرایا تھا ۔ بیان کا کیسٹ تحفے میں  دینے والے اپنے محسن اسلامی بھائی سے دوبارہ ملاقات ہوئی تو میں  نے ان کے سامنے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کی زیارت کے شوق کا اظہار کیا ۔ انہوں  نے مجھے امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  سے عام ملاقات کی تفصیل بتائی کہ فلاں  دن آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  عام ملاقات فرمائیں  گے ۔مجھے اور کیا چاہیے تھا ، اِنہی اسلامی بھائی کے ساتھ باب المدینہ( کراچی)حاضر ہو گیا۔  

       اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ میں  نے زیارتِ امیرِاہلسنّت کاشرف حاصل کیااور سلسلہ قادریہ عطاریہ میں  داخل ہوگیا۔اس ملاقات کی مجھے ایسی برکتیں  نصیب ہوئیں  کہ داڑھی شریف اور عمامہ شریف کا تاج سجا کر دعوتِ اسلامی کے مشکبارمَدَنی ماحول سے وابستہ ہوگیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ  عَزَّ  وَجَلَّ  کچھ ہی دن میں  میرے گھر میں بھی مَدَنی ماحول قائم ہو گیا۔اَلْحَمْدُلِلّٰہ    عَزَّ  وَجَلَّ   میری بڑی بیٹی قراٰن پاک کی حافظہ ہے اور عالمہ کورس بھی کررہی ہے اور بیٹا بھی مدرسۃ المدینہ میں  حفظ کررہا ہے۔ یہ سب برکتیں  مجھے امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کا کیسٹ بیان سننے کے ذریعے نصیب ہوئی ہیں  ۔

اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

گھر میں مَدَنی ماحول کیسے بنا؟

        تحصیل پنڈ دادن خان (پنجاب)کے ایک اسلامی بھائی بیان کرتے ہیں  کہ مجھے ایک اسلامی بھائی نے ایک کیسٹ (کور کے بغیر)یہ کہہ کر پیش کی کہ یہ ایک سنّی عالم صاحب کا بیان ہے ، ضرورسنیے گا۔میں نے گھر آکر شوق شوق میں  بیان سننا شروع کردیا ۔وہ امیرِ اہلسنّت حضرت علامہ مولاناابوبلال محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کا کیسٹ بیان ’’بے نمازی کی سزائیں ‘‘تھا۔ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے پرسوز اندازِ بیان کی وجہ سے مجھ پررِقَّت طاری ہوگئی اورمیں گناہوں سے تائب ہوکردعوتِ اسلامی کے مَدَ نی ماحول سے وابستہ ہوگیا۔

 



Total Pages: 7

Go To