Book Name:Filmi Adakaar ki Tauba

پہلے اسے پڑھ لیجئے

      اَلْحَمْدُلِلّٰہ  عَزَّ  وَجَلَّ  شیخ طریقت امیر اہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطاؔر قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کی ذاتِ مبارکہ پر اللّٰہو رسول   عَزَّ  وَجَلَّ  و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا خاص کرم ہے۔ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کی شخصیت میں  ربّ  عَزَّ وَجَلَّ نے ایسی کشش عطا فرمائی ہے کہ کئی گناہ گار صرف آپ کے نورانی چہرے اور سراپأ سنت پیکر کے دیدار کی برکت سے تائب ہو کر نیکیوں  پر گامزن ہو جاتے ہیں  ،  نیکو کاروں  کی رقت قلبی میں  اضافہ ہو تا ہے۔ آ پ کی صحبت اصلاحِ اعمال کا ذریعہ بنتی ہے ۔چونکہ صالحین کے واقعات میں  دلوں  کی جِلا،  روحوں  کی تازگی اورنظر و فکر کی پاکیزگی پِنْہاں  ہے۔ لہٰذا امّت کی اصلاح و خیر خواہی کے مقدس جذبے کے تَحتمجلس المدینۃ العلمیۃ نے امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کی حیاتِ مبارکہ کے روشن ابواب مثلاًآپ کی عبادات،  مجاہَدات،  اخلاقیات و دینی خدمات کے واقعات کے ساتھ ساتھ آپ کی ذاتِ مبارَکہ سے ظاہر ہونے والی بَرَکات و کرامات اور آپ کی تصنیفات و مکتوبات ،  بیانات و ملفوظات کے فُیُوضات کو بھی شائع کرنے کا قَصْد کیا ہے۔

      اس سلسلے میں  امیرِ اَہلسنّت کے بیانات کی مَدنی بہاریں  (حِصہ3) ’’فلمی اداکار کی توبہ ‘‘ پیشِ خدمت ہے۔(پہلا رسالہ ’’امیرِ اَہلسنّت کے بیانات کے کرشمے‘‘جبکہ دوسرا رسالہ ’’بدنصیب دُولہا‘‘کے نام سے مکتبۃ المدینہ سے شائع ہوچکا ہے)۔اِنْ شَآءَ اللہ   عَزَّ  وَجَلَّ  اس کا بغور مطالَعَہ’’اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں  کی اصلاح کی کوشش کی مَدَنی سوچ پانے کا سبب بنے گا۔‘‘

شعبہ  امیرِ اَہلسنّت   (مد ظلہ العالی)   مجلسِ اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیّہ (دعوتِ اسلامی) 

                                                                                                                                                                                                                                                                            ۸ ذوالحجۃ  الحرام۱۴۲۹ ھ،  7دسمبر 2008ء       

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

                                                دُرُودِ پاک کی فضیلت

        شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوت ِاسلامی حضرتِ علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّارؔ قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  اپنے رسالے ’’بریلی سے مدینہ‘‘میں نقْل فرماتے ہیں  کہ سرکارِمد ینۂ منوّرہ ،  سردارِ مکۂ مکرمہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    کافرمان ِدلنشین ہے : ’’فرض حج کروبے شک اس کا اَجْر بیس غزوات میں شرکت کرنے سے زیادہ ہے اور مجھ پر ایک مرتبہ دُرُودِپاک پڑھنا اس کے برابرہے  ۔‘ (فردوس الاخبا رج۲ ص ۲۰۷ حدیث ۲۴۸۴ دا رالکتاب العربی بیروت )

صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

فلمی اداکارکی توبہ

        بمبئی ( ھند) کے مُقِیم اسلامی بھائی کاکچھ اس طرح بیان ہے کہ میں ایک ایکٹر(ادا کار) تھا۔ کئی ٹی وی ڈراموں  اوربڑے بڑے تھیٹروں میں کام کرچکاتھا۔ بدقسمتی سے ہمارے خاندان کے اکثر لوگ فلم انڈسٹری سے وابستہ تھے ، ’’خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے‘‘ کے مصداق بچپن سے مجھ پر ایک ہی دُھن سوار تھی کہ مجھے بہت بڑافلمی اداکار بنناہے ۔مجھ جیسے اور بھی کئی لوگ اس شوقِ بد میں  مبتلا تھے مگر ہر ایک کوچانس کہا ں  ملتا ہے؟ لہٰذا مقابلہ سخت تھا ۔ان حالات میں  شاید میرافلمی ایکٹربننے کا جذبہ کم پڑجاتا لیکن میرے والدین نے (اللّٰہ  تَعَالٰی  ان کو معاف فرمائے) میری پیٹھ تھپکی اور ہمت بندھائی جس سے میرے ناپاک ارادے مزید پختہ ہوگئے ۔ نفس وشیطٰن نے مجھے فلم انڈسٹری کی رنگینیوں  میں  گُم رکھا ، میں  مسلسل کوششیں  کرتا رہا اور فلمی دُنیا میں  اچھی خاصی جان پہچان پیدا کر لی تھی اورکسی فلم میں  چانس ملنے کا یقین ہوچلا تھا۔ شاید میں  فِلمی دنیا کی بے حیائیوں  میں  مبتلا ہو کر خوابِ غفلت میں  سویا رہتا اور اسی حالت میں  موت کے گھاٹ اُتر جاتا مگر میرے ربّ  عَزَّ وَجَلَّ  نے مجھے بچا لیا اور مجھے دعوتِ اسلامی کے پاکیزہ مُشکبار مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے کی سعادت مل گئی ۔ ہوا یوں  کہ رمضان المبارک کا مُقَدَّس مہینہ تشریف لایا تو میں  نے ساری فلمی مصروفیات چھوڑ چھاڑ کر روزے رکھنے شروع کردئیے۔روزے رکھنے کی برکت سے میں  نماز پڑھنے کے لئے مسجدمیں  آنے جانے لگا ۔ایک دن مغرب کی نمازکے بعدسفید لباس میں  ملبوس بارِیش (یعنی داڑھی والے)اسلامی بھائی جن کے سر پر سبز عمامہ بھی تھا ، نے کھڑے ہوکراعلان کیا  : ’’ دعوتِ اسلامی کاہفتہ وارسنتوں  بھرا اجتماع بائکلہ میں ہوگا ، جس کے لیے بس کی ترکیب ہے ، تمام اسلامی بھائی اس اجتماع میں شرکت فرمائیں  ،  اِنْ شَآءَاللہ     عَزَّ  وَجَلَّ   سحری کی بھی ترکیب ہو گی۔ ‘‘میری نگاہیں  تو فلمی دُنیا میں  بے حیا اداکاراؤں  کی نیم عُریاں  اداؤں  کو دیکھنے کی عادی تھیں  ،  جب میں  نے اعلان کرنے والے کے پاکیزہ وسُتھرے حلئے کو دیکھا تو مجھے اپنی آنکھوں  میں ٹھنڈک سی محسوس ہوئی ۔اُن کی دعوت کانوں  کے راستے میرے دل میں  تو اُتری مگر میں  دینی معلومات میں  کَورا تھا اس لئے نہیں  جانتا تھا کہ ہفتہ وار اجتماع کیا ہوتاہے ؟ میں اُسی وقت گھرگیااوروالدہ سے کچھ باتیں  پوچھیں  اور اجتماع میں  جانے کے لئے مشورہ کیا ، اللّٰہ تَعَالٰی  انہیں  جزائے خیر دے کہ انہوں  نے بھی مجھے ہفتہ واراجتماع میں شرکت کی ترغیب دے دی کہ تمہیں  اجتماع میں  ضرورشرکت کرنی چاہئے۔ میں نے اجتماع میں شرکت کی۔وہاں  پر تلاوت ، نعت ، سنّتوں  بھرابیان ، ذکر اور رقت آمیز دُعا مجھے پسند تو بہت آئی مگر میری آنکھوں  پر بندھی غفلت کی پٹی پوری طرح کھُل نہ سکی اور میں  رمضان کا مہینہ رخصت ہونے کے بعد حسبِ سابق فلم کی اندھیر نگر ی میں  جاگھسا ۔ افسوس!دوبارہ اجتماع میں  بھی نہ جاسکا یہاں  تک کہ پورا سال گزر گیااوررمضان المبارک تشریف لے آیا ۔یہ 1993ء کی بات ہے۔ میں  نے پھر چھٹیاں  لیں اورروزے رکھنا شروع کر دئیے ۔نمازوں  کا سلسلہ پھر سے شروع ہوگیا ۔ایک دن میں  نے مسجد کے باہر لگنے والے بستے پر بیان کی ایک کیسٹ دیکھی جس کا نام ’’جَہَنَّم کی تباہ کاریاں ‘‘ تھا، بیان کرنے والے کا نام شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت حضرت علامہ مولانا محمدالیاس عطّار قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ تھا ۔مجھے یہ عنوان بہت دلچسپ لگا ، میں  نے اس کیسٹ کو خرید لیا اور گھرآ کرسنناشروع کردی۔ شیخِ طریقت ، امیرِاہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے فکرِ آخرت سے معموراندازِبیان نے میرے رونگٹے کھڑے کردئیے۔ کیسٹ ختم ہوچکی تھی مگر میرے کانوں  میں  ابھی تک امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے ناصِحانَہ الفاظ گونج رہے تھے ، دل پر عذابِ جَہَنَّم کا خوف طاری تھا اورآنکھوں  سے پشیمانی کے آنسو رَواں  تھے ۔رحمت خداوندی کی مجھ پر برسات ہوئی اور میں  نے اپنے تمام گناہوں  سے توبہ کر لی اور فِلمی دنیا کو چھوڑنا اگرچہ بہت مشکل دکھائی دیتا ہے مگر میرا ذہن بنا کہ اسے چھوڑنے سے نقصان پہنچا تو دنیا ہی کو پہنچے گا لیکن  اِنْ شَآءَاللہ   عَزَّ وَجَلَّ   میری آخرت سنور جائے گی ، لہٰذا میں  نے فلم انڈسٹری کوچھوڑنے کا عزمِ مُصَمَّم  (یعنی پختہ ارادہ) کر لیا ۔اپنی زندگی میں  مَدَنی انقلاب برپا کرنے والے اس بیان کو میں  نے بعد میں  بھی بیسیوں  بار سُنا ۔  

 



Total Pages: 7

Go To