Book Name:Karbala Ka Khooni Manzar

کریمہ کی تفسیر یا حدیثِ پاک کی شَرح وغیرہ بیان نہ کرے  ۔  کیوں کہ تفسیر بِالرّائے ([1])حرام ہے  اور اپنی اٹکل کے مطابِق آیت سے استِدلال یعنی دلیل پکڑنا اور حدیثِ مبارَک کی شرح کرنا اگر چِہ دُرُست ہو تب بھی شرعاً اِس کی اجازت نہیں  ۔ فرمانِ مصطَفٰے صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم :  جس نےبِغیر علم قراٰن کی تفسیر کی وہ اپنا ٹھکانہ جہنَّم بنائے ۔ ( ترمذی ج ۴ ص۴۳۹ حدیث ۲۹۵۹ )غیر عالم کے بیان کے بارے میں رہنُمائی کرتے ہوئے میرے آقائے نِعمت،   اعلیٰ حضرت،   مجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں  : ’’میرے آقائے نِعمت،   اعلیٰ حضرت،   مجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں  : ’’جاہِل اُردو خواں اگر اپنی طرف سے کچھ نہ کہے بلکہ عالِم کی تصنیف پڑھ کر سنائے تو اِس میں حَرَج نہیں  ۔ (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۲۳ص۴۰۹)

مُبلِّغین کیلئے اَہَم ھدایت

سُوال : دعوتِ اسلامی کے بعض مبلِّغین و مبلِّغات مُنہ زبانی بھی بیانات کرتے ہیں اُن کیلئے آپ کی طرف سے کیا ھدایات ہیں؟

جواب :  اگر یہ عُلَماء یا عالِمات ہیں جب تو حَرَج نہیں  ۔  ورنہ غیر عالِم مُبلِّغین ومُبلِّغات کے لئے معروضات پیش کر دی گئیں کہ وہ صِرف عُلَماء کی تحریرات سے پڑھ کر ہی بیانات کریں  ۔ اگر کسی غیر عالِم کو سنّتوں بھرے اجتماع میں منہ زبانی بیان کرتا پائیں تو دعوتِ اسلامی کے ذمّہ داران اُس کو روک دیں  ۔  غیر عالِم مُبلِّغین ومُبلِّغات اور تمام غیرِ عالم مُقرِّرین کو چاہئے کہ وہ منہ زَبانی مذہبی بیان یا خطاب نہ کریں  ۔ میرے آقائے نِعمت،   اعلیٰ حضرت،   مجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں  : ’’جاہِل اُردو خواں اگر اپنی طرف سے کچھ نہ کہے بلکہ عالِم کی تصنیف پڑھ کر سنائے تو اِس میں حَرَج نہیں  ۔ مزید فرماتے ہیں  : جاہل خود بیان کرنے بیٹھے تو اُسے وعظ کہنا حرام ہے اور اُس کا وعظ سننا حرام ہے اور مسلمانوں کو حق ہے بلکہ مسلمانوں پرحق ہے کہ اُسے منبر سے اُتار دیں کہ اِس میں نہی منکر   ( یعنی بُرائی سے منع کرنا) ہے اور نہی منکر واجب  ۔ واللہ تعالٰی اعلم ۔ (فتاوٰی رضویہ ج۲۳ص۴۰۹)

کیا عورتV.C.D. میں مبلِّغ کا بیان سُن سکتی ہے؟

سُوال :  کیااسلامی بہنیں V.C.D.  یامدنی چینل کے ذریعے نامحرم مبلِّغ کا سنّتوں بھرا بیان سُن سکتی ہے؟ کیا یہ بے پردگی میں داخِل نہیں ؟

جواب :  بے پردَگی اور ہے اور V.C.D. میں اسلامی بہنوں کا نامحرم کو بیان کرتا دیکھنا سننا اور ۔ اسلامی بہنوں کیلئے پردے کی رعایات اور بعض شَرعی قُیُودات (پابندیوں ) کے ساتھ غیر مرد کو دیکھنے کے مُعامَلے میں کچھ گنجائش ہے ۔  مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ بہارِ شریعت حصّہ 16صَفْحَہ 86پر فتاوٰی عالمگیری  کے حوالے سے لکھا ہے ـ  :  ’’عورت کامردِ اجنبی (نامحرم شخص) کی



[1]    تفسیر بِالرّائے کرنے والا وہ کہلاتا ہے جس نے قراٰن کی تفسیر عقل اور قِیاس (اندازہ) سے کی جس کی نقلی(یعنی شرعی) دلیل و سند نہ ہو۔



Total Pages: 14

Go To