Book Name:Karbala Ka Khooni Manzar

تک عمل کرتی رہے گی آپ کو بھی برابر اس کا ثواب ملتا رہے گااور اگر ا س نے کسی اور تک آپ سے سُنی ہوئی کوئی سنّت پہنچائی تو اس کا ثواب اس پہنچانے والی کو بھی ملے گا اور آپ کو بھی  ۔  اس طرح  اِن شاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کا ثواب بڑھتا ہی چلاجائے گا ۔  اگر نیکی کی دعوت کاآخِرت میں ملنے والا ثواب بندہ دنیا ہی میں دیکھ لے تو پھر شاید کوئی لمحہ بھی بیکار نہ جانے دے بس ہر وقت ہی نیکی کی دعوت کی دھوم مچاتا رہے ۔

           شیطان کے وسوسوں کو تو قریب بھی نہ پھٹکنے دیں کہ وہ تو ایسے حالات پیدا کرے گا ہی کہ آپ نیکی کی دعوت کے اس عظیم کام کو چھوڑدیں  ۔ فیضانِ سُنت سے درس دینا بھی دعوتِ اسلامی کا ایک مَدَنی کام ہے  ۔  وقت مقرَّر کر کے روزانہ  درس کے ذَرِیْعے خوب خوب سُنتوں کے مَدَنی پھول لُٹائیے اور ڈھیروں ثواب کمائیے ۔

درسِ فیضانِ سُنَّت  کے  مَدَنی پھول

(یہ طریق کار اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں سبھی کیلئے مفید ہے)

(1)فرمانِ مصطَفٰے صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم :  جو شخص میری اُمّت تک کوئی اِسلامی بات پہنچائے تا کہ اُس سے سُنَّت قائم کی جائے یا اُس سے بد مذھبی دُور کی جائے تو وہ جنتَّی ہے ۔   (حِلْیَۃُ الْاَوْلِیاء ج۱۰ص۴۵رقم ۱۴۴۶۶دارالکتب العلمیۃ بیروت)

(2)سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’اللہ تعالٰی اسکو ترو تازہ رکھے جو میری حدیث کو سنے ،   یاد رکھے اور دوسروں تک پہنچائے  ۔  ‘‘(سُنَنُ التِّرْمِذِیّ ج۴ ص۲۹۸حدیث ۲۶۶۵ دارُالفکر بیروت)

(3) حضرتِ سیِّدُنااِدریس عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے نام ِمبارَک کی ایک حِکمت یہ بھی ہے کہ کُتُب الہٰیہ کی کثرتِ درس وتدریس کے باعث آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکا نام اِدریس  ہوا ۔

( تفسیرکبیر ج ۷ ص ۵۵۰ ،   داراحیاء التراث العربی بیروت،   تفسیر الحسنات ج۴ص۱۴۸ ضیاء القرآن پبلی کیشنز مرکز الاولیاء لاہور)

(4)حُضورِغوثِ اعظم علیہ رَحْمَۃُ اللہ الاکرم فرماتے ہیں  :  دَرَسْتُ الْعِلْمَ حتّٰی صِرْتُ قُطْباً(یعنی میں نے عِلْم کادرس لیایہاں تک کے مقامِقُطْبِیَّت    پر فائز ہوگیا)(قصیدۂ غوثیہ)

(5)فیضانِ سنَّتسے روزانہ کم از کم دودرس دینے یا سننے کی سعادت حاصِل کیجئے  ۔  پارہ28 سورۃُ التَّحْرِیم کی چھٹی آیت میں ارشاد ہو تا ہے : ؎

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ

تَرجَمۂ کنزالایمان : اے ایمان والو  !  اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اُس آگ سے بچاؤجس کے ایندھن آدَمی اور پتَّھر ہیں  ۔

          اپنے آپ کو اور اپنے گھروالوں کو دوزخ کی آگ سے بچانے کا ایک ذَرِیْعہ فیضانِ سُنَّت کادرس بھی ہے ۔  درس دینے کے علاوہ ممکن ہو تو مکتبۃ المدینہ کی جاری کردہ سنّتوں بھرے بیان یا مَدَنی مذاکرہ کا ایک کیسٹ بھی روزانہ یاہفتہ میں ایکبار گھر والوں کو سنایئے ۔

 



Total Pages: 14

Go To