Book Name:Karbala Ka Khooni Manzar

        آہ  ! نَنَّھا علی اصغررضی اللہ تعالٰی عنہ  ! اِس مدینے کے حقیقی مُنّے کے پیاسے گلے پر جب تیر لگا ہوگااور یہ شدّتِ کَرب سے اپنے باباجان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی گود میں تڑپا ہوگا اور پھر جُھر جُھری لے کر دَم توڑا ہوگا اُس وقت جگرگوشۂ بَتول رضی اللہ تعالٰی عنہا  نواسۂ رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم سیّدُنا امامِ عالی مَقام  حضرتِ امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کے رَنج و اَلَم کا کیا عالَم ہوگا ۔   ؎

دیکھا جو یہ نظارہ کانپا ہے عرش سارا

اصغر کے جب گلے پر ظالم نے تیر مارا

اور  ۔  ۔  ۔ اور ۔  ۔  ۔ جب ننّھے مُنّے علی اصغررضی اللہ تعالٰی عنہ کا خون میں لِتھڑا ہواننّھا سا لاشہ ان کی امّی جان سیِّدہ شہربانورضی اللہ تعالٰی عنہا نے دیکھا ہوگا تو ان پر اُس وقت کیسی قِیامت قائم ہوئی ہوگی ۔   ؎

اے زمینِ کربلا یہ تو بتا کیا ہوگیا !

ننّھا علی اصغر تِری گودی میں کیسے سوگیا !

امامِ پاک کی رخصتی

          میری مَدَنی بیٹی !  ذرا سوچئے تو سہی  ! اُس وقت سیِّدہ زَینب و سیِّدہ سکینہ  اور دیگر بیبیوں رضی اللہ عنہن اجمعین پر کیا گزر رہی ہوگی جب سیِّدُالشُّھداء امامِ عالی مَقام ،   امامِ عرش مقام،   امامِ تِشنہ کام،  امامُ الہُمام،   سیِّدُنا امامِ حسینرضی اللہ تعالٰی عنہ اپنے جگر پاروں علیہم الرضوان کو تلواروں سے کٹوانے کے بعد خود جامِ شہادت نوش کرنے کے لئے خَیمے سے رخصت ہورہے ہوں گے !   ؎

فاطِمہ کے لاڈلے کا آخِری دیدار ہے

حشر  کا ہنگامہ برپا ہے میانِ  اَہلِ بیت

وقتِ رخصت کہہ رہا ہے خاک میں مِلتا سُہاگ

لو سلامِ آخِری اے بَیوَگانِ اَہلِ بیت

کربلا کا تاراج کارواں

          اور پھر  ۔  ۔  ۔ پھر ۔  ۔  ۔ صرف عابِدِ بیمار اور فَقَط خواتینِ عِفَّت مآب رہ جائیں ،   سارے خَیمے سُنسان ہوجائیں  ۔ باہَرہر طرف خاندانِ عالی شان کے نوجوان اور بچّوں کی لاشیں بِکھری پڑی ہوں  ۔  اِس پر ستم بالائے سِتم یہ کہ یزیدی دَرِندوں کی طرف سے لُوٹ مارمَچے،   خَیمے جَلادئے جائیں ،   سب کو قیدی بنادیا جائے،   سَرہائے شُہدائے کِرام علیہم الرضوان نیزوں پر بُلند کرکے ساراتا راج کارواں ظالمین ہانک چلیں  ۔  اِ س کا تَصوُّر ہی کس قَدَر دردناک ہے ۔  ان لرزہ خیزمَناظِر کو یاد کرکے ہمارا دل خون روتا اور کلیجہ مُنہ کو آتا ہے ۔  میری مَدَنی بیٹی !  اس منظر کو یاد کرینگی تو اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّاپنی معمولی سی تکلیف کے اِحساس پر آپ کوخود ہی ہنسی آئے گی کہ کیا ہماری بھی کوئی تکلیف ہے !

پیارے مبلّغ  !  معمولی سی مشکل پہ گھبراتا ہے

دیکھ حُسین نے دین کی خاطِر سارا گھر قربان کیا

 



Total Pages: 14

Go To