Book Name:Karbala Ka Khooni Manzar

{2}قرآنِ پاک یا قرآ نی آیت کا پَڑھنا اور چُھونا دونوں حرام ہے ۔ قراٰنِ پاک کاترجَمہ فارسی یااُردُویاکسی دوسری زَبان میں ہواُس کوبھی پڑھنے یاچُھونے میں قرانِ پاک ہی کاساحُکْم ہے ۔ (بہارِ شریعت حصّہ ۲ص۴۹،  ۱۰۱  )       

{3}اگر قرانِ عظیم جُزدان میں ہو توجُزدان پر ہاتھ لگانے میں حَرَج نہیں ،   یوہیں رومال وغیرہ کسی ایسے کپڑے سے پکڑنا جو نہ اپنا تابع ہو نہ قرآنِ مجید کا تو جائز ہے،   کُرتے کی آستین،   دُوپٹے کی آنچل سے یہاں تک کہ چادر کا ایک کونا اس کے مونڈھے (کندھے)پر ہے دوسرے کونے سے چھُونا حرام ہے کہ یہ سب اس کے تابِع ہیں جیسے چُولی قرآن مجید کے تابع تھی ۔ (بہارشریعت حصہ۲ص۴۸)

{4} اگر قرآن کی آیت دُعا کی نیت سے یا تبرک کے لیے جیسے  یا ادائے شکر کو یا چھینک کے بعد اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ  یا خبرِ پریشان پر کہا یا بہ نیتِ ثنا پوری سورۂ فاتِحہ یا آیۃُ الکُرسی یا سورۂ حشرکی پچھلی تین آیتیں هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ سے آخر سورۃتک پڑھیں اور ان سب صورتوں میں قرآن کی نیّت نہ ہو توکچھ حَرَج نہیں  ۔  یوہیں تینوں قُل بِلا لفظِ قُل بہ نیتِ ثَنا پڑھ سکتی ہے اور لفظِ قُل کے ساتھ نہیں پڑھ سکتی اگرچِہ بہ نیّتِ ثنا ہی ہو کہ اس صورت میں ان کا قرآن ہونا مُتَعَیَّن ہے،   نیّت کو کچھ دخل نہیں  ۔

(بہارِ شریعتحصّہ۲ص۴۸مکتبۃ المدینہ بابُ المدینہ کراچی) 

{5}قراٰنِ پاک کے علاوہ تمام ذِکرو اَذکار،   دُرُودو سلام نعت شریف     پڑھنے ،  اذان کا جواب دینے وغیرہ میں کوئی مُضایَقہ نہیں  ۔  حلقۂ ذکر میں شرکت کرسکتی ہیں  ۔  بلکہ ذکر کروابھی سکتی ہیں  ۔  مگران چیزوں کو وُضو یا کُلّی کرکے پڑھنا بہتر اور ویسے ہی پڑھ لیا جب بھی حَرَج نہیں  ۔

{6}خُصوصاًیہ بات یاد رکھئے کہ (ان دنوں میں ) نماز اور روزہ حرام ہے ۔ (بہارِ شریعت حصّہ۲ص۱۰۲،  عالمگیری  ج۱ ص۳۸ )     

{7} مُرُوَّت میں بھی ایسے موقع پر ہرگز ہرگز نماز نہ پڑھئے کہ فُقہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السّلامیہاں تک فرماتے ہیں  :  بِلاعُذرجان بوجھ کربِغیروُضو کے نَماز پڑھنا کفر ہے ۔  جبکہ اسے جائز سمجھے یا استہزاء ً(یعنی مذاق اڑاتے ہوئے) یہ فعل کرے ۔  

( مِنَحُ الرَّوْضللقاری ص۴۶۸دار البشائر الاسلامیۃ بیروت ) 

{8}ان دنوں کی نمازوں کی قضا نہیں البتّہرَمضانُ المبارَک کے روزوں کی قضا فرض ہے  ۔ (بہارِ شریعت حصّہ۲ص۱۰۲،  دُرِّمُختَار ج ۱ ص ۵۳۲)جب تک قضا روزے ذمّے باقی رہتے ہیں اُس وقت تک نفلی روزے کے مقبول ہونے کی امّید نہیں  ۔ ان اَحکام کی تفصیلی معلومات کیلئے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ بہارِ شریعت حصّہ 2صَفْحَہ91تا109کا مُطالَعہ کرنے کی ہر اسلامی بہن کونہ صِرف درخواست بلکہ سخت تاکید ہے ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب  !           صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

تُوبُوا اِلَی اللہ !           اَسْتَغْفِرُاللہ

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب  !           صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

        پردے کے اہم مَدَنی پھول

 



Total Pages: 14

Go To