Book Name:Karbala Ka Khooni Manzar

طرف نظر کرنے کاوُہی حکم ہے ،   جومَرد کامَرد کی طرف نظر کرنے کا ہے اوریہ اُس وَقت ہے کہ عورت کو یقین کے ساتھ معلوم ہوکہ اس کی طرف نظر کرنے سے شَہوت نہیں پیدا ہو گی اور اگر اس کا شُبہ بھی ہو تو ہر گزنظر نہ کرے ۔ ‘‘(عالمگیری ج۵ ص ۳۲۷) ہاں خدانخواستہ بیان کی V.C.D. یامدنی چینل دیکھنے کے دَوران بھی اگر گناہوں بھری کشِش محسوس ہو تو توبہ و استغفارکرتی ہوئی فوراً سے بیشتر وہاں سے ہَٹ جائے ۔ میرا تو مشورہ یہ ہے کہ جوان ہو یا بوڑھادونوں ہی کو دیکھنے سے حتَّی الامکان بچے کہ دَور بڑا نازُک ہے ۔ البتَّہ عمر رسیدہ عالم،  یا بے کشِش بوڑھے یا ادھیڑ عمر کے پیرو مرشِد( جب کہ قریب اور کوئی غیر مرد ایسا نہ ہو جس پر نظر پڑتی ہو تب اُن) کو دیکھنے میں حَرَج نہیں کہ اس میں فِتنے کا اِحتِمال( یعنی فتنے کااندیشہ) نہ ہونے کے برابر ہے ۔ پھر بھی اگردیدار کے دوران شیطان جذبات میں ہَیجان پیدا کرے تو فوراً نظر ہٹا لے اور وہاں سے دور ہو جائے۔

کیا عورت نعت خوان کی V.C.D.  دیکھے؟

سُوال :  تو کیااسلامی بہنیں مدنی چینل یا V.C.D.  پر نوجوان نعت خوان کو بھی سُن اور  دیکھ لیاکریں ؟

جواب :   نعت خوان اور وہ بھی نوجوان پھر ہاتھ وغیرہ لہرانے کی اداؤں (ایکشن )کی کشِش بھی موجود اور پھر ترنُّم میں توویسے ہی ایک طرح کا جادو ہوتا ہے ۔  ان صُورَتوں کے ہوتے ہوئے شاید کوئی ’’ وَلِیّہ‘‘ ہی نامحرم  نوجوان نعت خوان دیکھ سُن کر اپنے آپ کو گناہوں بھرے تصوُّرات سے بچا پائے !  دیکھنے کی بات تو دور رہی میری تو اپنی مَدَنی بیٹیوں کو یہاں تک تاکید ہے کہ وہ تو نوجوان نعت خوان کی آڈیو کیسٹ بھی نہ سنیں کہ اُس کی سُرِیْلی آواز کے باعِث وہ  فِتنے میں مُبتَلا ہوسکتی ہے  ۔      صحیح بخاری شریف میں ہے کہ سرکارِ مدینہ،   سلطانِ باقرینہ ،   قرارِ قلب وسینہ ،   فیض گنجینہ،  صاحِبِ مُعطّر پسینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے ایک حُدی خواں ( یعنی اونٹوں کوتیز چلانے کے لیے مست کرنے والے اشعار پڑھنے والے)تھے جن کا نام اَنْجَشَہ رضی اللہ تعالٰی عنہ تھا جو کہ اِنتہائی خوش آواز تھے(ایک سفر کے دوران جس میں عورَتیں بھی ہمراہ تھیں اور سیِّدُنا اَنْجَشَہاشعار پڑھ رہے تھے اس پر)  سرکارِ مدینہ  صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم نےاُن سے ارشاد فرمایا : ’’اے اَنْجَشَہ  ! آہِستہ ،   نازُک شیشیاں نہ توڑ دینا  ۔ ‘‘ (بُخاری ج۴ ص ۱۵۸حدیث۶۲۱۱ )  حکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان اس حدیثِ پاک کے تحت  فرماتے ہیں  : ’’یعنی میرے ساتھ سفر میں عورتیں بھی ہیں جن کے دل کچّی شیشی کی طرح کمزور ہیں خوش آواز ی ان میں بَہُت جلد اثر کرتی ہے اور وہ لوگوں کے گانے سے گناہ کی طرف مائل ہوسکتی ہیں اس لیے اپنا گانا بند کردو ۔ ‘‘( مراٰۃ ج ۶ ص۴۴۳) ہاں فوت شدہ نعت خوان کی آڈیو کیسٹ میں غالِباً خطرات نہیں ،   تا ہم شیطان اگر خیالات کا رُخ ’’گناہوں ‘‘ کی طرف موڑنا شروع کر دے تو توبہ و اِستِغفار کرتے ہوئے فورا ً ٹیپ ریکارڈ ربند کر دیں  ۔  

حیض اور نفاس کے مُتَعلِّق آٹھ مَدَنی پھول

{1}   حیض و نفاس کی حالت میں اسلامی بہنیں درس بھی دے سکتی ہیں اور بیا ن بھی کرسکتی ہیں اسلامی کتاب کوچُھونے میں بھی حرج نہیں  ۔  قراٰنِ پاک کوہاتھ یا اُنگلی کی نوک یا بدن کا کوئی حصّہ لگانا حرام ہے ۔  نیز کسی پرچے پر اگرصرف آیتِ قراٰنی لکھی ہو دیگر کوئی عبارت نہ لکھی ہو تو اُس کاغذ کے آگے پیچھے کسی بھی حصّے کونے کنارے کوچُھونے کی اجازت نہیں  ۔  

 



Total Pages: 14

Go To