Book Name:Gharelu ilaj

گند جمع ہو نہ بدن کابے جا وَزن بڑھے نہ پیٹ کی خرابیوں   کے سبب بیماریاں   جَنَم لیں   کہ بقولِ اَطِبّاتقریباً 80 فیصد بیماریاں   پیٹ کی خرابی کے باعِث پیدا ہوتی ہیں    ۔  یقینا مِعدہ بیماریوں   کا گھر اور پرہیز دواؤں   کا سر ہے ۔   ؎

سو دوا کی اک د وا پرہیز ہے

طویل عرصہ جوان رہنے کا نُسخہ

            جوکھانے پینے میں   اِحتیاط نہیں   اپناتے اور خوب ڈٹ کر کھاتے ہیں   وہ گویا پیسے خرچ کر کے بیماریاں   خرید فرماتے اورعُموماً سخت تکالیف اٹھاتے اور آخِر کار پچھتاتے ہیں   ۔ کم کھانے کی حکمتیں   تو سائنسدان بھی تسلیم کرتے ہیں   چُنانچِہ ایک خبر ملا حَظہ ہو :  ’’جدید تحقیق کے مطابِق امریکا میں   کم کھانے والے چوہے اور کتّے تین گُنا زیادہ عرصہ زندہ رہے ، زیادہ نہ کھانے سے انسان جلد بوڑھا نہیں   ہوتا ، بلکہ طویل عرصے تک جوان نظر آتا ہے  ۔ ‘‘  ( روزنامہ آغاز ، 5دسمبر 2007ء)

خون ٹیسٹ اور اس کی احتیاطیں 

            کوشِش کر کے شوگر ، لپڈپروفائل وغیرہ ہر تین ماہ کے بعدٹیسٹ کروایئے بلکہ کبھی کبھی مکمَّل چیک اپ بھی کروا لینا چاہئے ۔ مرد ، مرد سے اور عورت ، عورت ہی سے ٹیسٹ کیلئے خُون نکلوائے ۔ جس لیبارٹری میں   یہ سَہولت نہ ہو وہاں   سے ہرگز ٹیسٹ مت کروایئے ۔ اِسی طرح ہاتھ رکھ کرنَبض دکھانے ، مرض کی جگہ پر چیک کروانے کیلئے ہاتھ لگوانے ، بلڈ پریشر چیک کروانے ، زخم پر پٹّی بندھوانے ، انجکشن لگوانے وغیرہ مُعاملات کیلئے بِلا اجازتِ شرعی مرد و عورت کا ایک دوسرے کے جسم کے کسی حصّے کو چُھونا چُھواناجائز نہیں  ۔ اگر یہ غلطیاں   ہو چکی ہیں   تو سچّی توبہ کر کے آئندہ بچنے کا عہد کیجئے  ۔

مرد ڈاکٹر سے مریضہ صرف اِسی صورت میں   رُجوع کرے کہ اُس کی بیماری کیلئے لیڈی ڈاکٹر نہ مل سکے ۔ ان وَسوسوں   پر توجُّہ مت دیجئے کہ ٹیسٹ میں   ’’ کچھ ‘‘ نکلا تو ٹینشن ہو جائے گا ۔  یہ ٹینشن آسان ہے ورنہ اچانک اَسپتال میں   جا پڑے تو آپ کا ٹینشن بھی ’’ٹینشن ‘‘میں   آجائے گا!اَسپتال میں   داخِل ہوکر ڈاکٹر کے خوفزدہ کرنے پر پرہیز کرنے سے بہتر ہے کہ آدمی گھر میں   ہی پرہیز کر لے  ۔ کہ  ؎سو دوا کی اک دوا پرہیزہے ۔ ٹیسٹ وغیرہ کے بارے میں   مزید معلومات کیلئے فیضانِ سنّت جلد اوّل  صَفْحَہ 619تا 628 کا مُطالَعَہ کر لیجئے  ۔

اَسپتال میں   داخِل ہونا پڑے تو

            اگر اَسپتال میں  داخِل ہونے کی نوبت آئے توگھبرا نہ جایئے  ۔ ذِہن کو حاضِر رکھ کر پلنگ کی ترکیب اِس طرح کروایئے کہ قبلہ کی طرف پاؤں   نہ ہوں  ۔ طہارت ، وُضو ونَماز کی سَہُولتیں   دیکھ لیجئے ، یہ بھی دیکھ لیجئے کہ اِستِنجا خانہ کا رُخ تو غَلَط نہیں   ۔ (اِستِنجا کرتے وَقت کعبہ شریف کو منہ یا پیٹھ کرنا ناجائز وگناہہے  ۔ یہ اِحتیاط ضروری ہے کہ منہ یا پیٹھ 45 ڈگری کے زاویہ کے باہَر رہے ) ’’بہار شریعت ‘‘(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ )کا چوتھا حصّہ ساتھ لے لیجئے اور اُس میں   مریض کی نماز کا طریقہ دیکھ لیجئے ۔ کو ری مٹّی کی پلیٹ(اس پر کانچ کا جِرم یعنی تہ نہ ہو) یا پاک صاف اینٹ لے لیجئے تاکہ ضَرورتاً تَیَمُّم کیا جاسکے  ۔ ’’ مریض ‘‘ تاکیدکر دے کہ عورت(نرس یا لیڈی ڈاکٹر) اور ’’ مریضہ ‘‘ کہہ دے کہ مرد(ڈاکٹریاوارڈ بوائے ) میرا بدن نہ چُھوئے  ۔

سگِ مدینہ نے جب آپریشن کروایا

       2002-02-21میں   میرے مثانے کا آپریشن ہوا تھا ۔ اِس ضِمن میں   کی جانے والی بعض اِحتیاطیں   ترغیباً عرض ہیں  ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ آپریشن سے قَبل و بعد کوئی نَماز قضا نہ ہوئی، ڈاکٹر نے دوپہر یا شام کا وقت دینا چاہا تو میں   نے عرض کی کہ عشا کے بعد آپریشن کیا جائے تا کہ کوئی نَماز بے ہوشی کی وجہ سے نہ رَہ جائے چُنانچِہ عشا کے بعد آپریشن کا طے ہوا ، یہ بھی طے کر لیا کہ کوئی نرس آپریشن میں   حِصّہ نہیں  لے گی ۔  چُونکہ بے پردَگی ہونی تھی لہٰذا یہ بھی درخواست کر دی کہ آپریشن کے لئے ضَروری عملہ کے علاوہ کوئی مرد بھی بِلاضَرورت قریب نہ ہو ۔ الٹرا ساؤنڈ اور چیک اپ کے وَقت بھی یہی اِحتیاطیں   کرنے کی کوشِش کی کہ غیر ضروری فرد کے سامنے سِتر کُھلنے نہ پائے  ۔ زائد مُعاوِنین کو باہَر بھجوانے کی درخواست کر دیا کرتاتھا ۔

ہوا سے علاج

             کُھلی فَضا میں   ( بہتر فجر کا وقت ) آہِستہ سے سانس  لیناشروع کیجئے اور جتنا گہرا لے سکتے لے لیجئے پھر جتنی دیر تک اندر روک سکتے ہیں   روک رکھئے ۔ روزانہ کم از کم40 بار اِس طرح کیجئے ۔ (کام کاج کرتے ہوئے یا مریض بستر پر لیٹے لیٹے بھی یہ عمل کر سکتے ہیں  ) یہ عمل مختلف اَمراض بِالخُصوص ضِیقُ النَّفَس(یعنی دَمَہ) اور پھیپھڑوں   کی بیماریوں   کیلئے مُفید ہے ، مریض اگرسانس کی یہ ورزِش کرے تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ رُوبہ صحت ہواور صحّت مند کرے  تو امراض سے حفاظت ہو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ ۔ سگِ مدینہ عفی عنہُ(راقم الحروف)  کوایک بوڑھے حکیم صاحِب نے بتایا تھا کہ وہ سانس لینے کے بعدایک یا دو گھنٹے تک اندر ہی روک لیتے ہیں   اوراس دَوران اَوراد و وظائف وغیرہ بھی پڑھ لیتے ہیں   مگر اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّسانس نہیں   ٹوٹتا ! (یہ سب مَشق کرنے سے آسکتا ہے )

دھوپ کی  اہمِیَّت

          اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ایک بَہُت بڑی نعمت سورج بھی ہے اور اِس کی دھوپ میں   بَہُت سارے فوائد رکھے گئے ہیں  ۔ جسمِ انسانی کی صحّت کیلئے دھوپ کا اَہم کردار ہے ۔ ایک کہاوت ہے :  ’’ جس گھر میں   سورج داخِل نہیں   ہوتا اُس میں   ڈاکٹر داخِل ہوتا ہے  ۔ ‘‘بے شمارجراثیم ایسے ہوتے ہیں   جو دھوپ اور تازہ ہوا سے مر جاتے ہیں  ۔ چُنانچِہ جن گھروں   کی کِھڑکیاں   محض گردوغبار کے خوف سے ہر وَقت بند رکھی جاتی ہیں   اور اُن میں   دھوپ  اور تازہ ہوا نہیں   پہنچ پاتی، وہاں   طرح طرح کے جراثیم پرورِش پاتے اور خوب بیماریاں   پھیلاتے ہیں  ، لہٰذا روزانہ دن



Total Pages: 30

Go To