Book Name:Jannati Mehal Ka Soda

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

جنّتی  محل کا سودا  ([1])

شیطان لاکھ سُستی دلائے تحریری بیان کا یہ رسالہ (50صَفحَات )   اوّل تا آخر پڑھ لیجئے۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ   فکرِآخرت نصیب ہو گی۔

دُرُود شریف کی فضیلت

          مالکِ خلد و کوثر،  شاہِ بحر وبر،  مدینے کے تاجور،  انبیاء کے سَروَر، رسولوں کے افسر،  رسولِ انور،  محبوبِ داوَرعَزَّ وَجَلَّ  و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   کافرمانِ بخشش نشان ہے:  ’’ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی خاطر آپس میں مَحَبَّت رکھنے والے جب باہَم ملیں اور مُصافَحَہ کریں اور نبی ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم) پر دُرُودِ پاک بھیجیں تو اُن کے جُدا ہونے سے پہلے دونوں کے اگلے پچھلے گُناہ بخْش دئیےجاتے ہیں ۔ ‘‘  (مسند ابی یعلٰی ،  ج۳،  ص۹۵، حدیث۲۹۵۱ دارالکتب العلمیہ بیروت )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!              صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          حضرتِ سَیِّدُنَامالِک بن دِینار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار ایک بار بصرہ کے ایک مَحَلّے میں ایک زیرِ تعمیر عالیشان محل کے اندر داخِل ہوئے،  کیا دیکھتے ہیں کہ ایک حَسین نوجوان مزدوروں ،  مستریوں اور کام کرنے والوں کو بڑے اِنہماک  (اِن۔ہِ۔مَاک)  کے ساتھ ہر ہر کام کی ہدایت دے رہا ہے۔حضرتِ سَیِّدُنَا مالِک بن دِینارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار نے اپنے رفیق حضرت سَیِّدُنَا جعفر بن سلیمانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان سے فرمایا:  ’’ مُلاحَظہ فرمائیے یہ نوجوان  محل کی تعمیر وتَزئین  (یعنی زیب و زینت)  کے مُعامَلے میں کس قَدَر دِلچسپی رکھتا ہے مجھے اِس کے حال پر رحم آ رہا ہے میں چاہتا ہوں کہ اللہ تعالٰی سے دُعا کروں کہ اِسے اِس حال سے نَجات دے،  کیا عَجب کہ یہ جوانانِ جنّت سے ہو جائے ۔ ‘‘  یہ فرما کر حضرتِ سَیِّدُنَا مالِک بن دِینار علیہ رَحمَۃُ اللہ الغفّار،  حضرتسَیِّدُنَا جعفر بن سلیمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان کے ساتھ اُس کے پاس تشریف لے گئے،  سلام کیا ۔ اُس نے  آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو نہ پہچانا۔جب تعارُف ہواتوآ پ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی خوب عزّت و توقیر کی اور تشریف آوری کا مقصد دریافت کیا۔حضرتِ سَیِّدُنَا مالِک بن دِینارعلیہ رَحمَۃُ اللہ الغفّارنے (اُس نوجوان پر اِنفرادی کوشش کا آغاز کرتے ہوئے) فرمایا: آپ اِ س عالیشان مکان پر کتنی رقم خرچ کرنے کا اِرادہ رکھتے ہیں ؟ نوجوان نے عرض کی : ایکلاکھ دِرہم ۔حضرتِ سَیِّدُنَا مالِک بن دِینار  علیہ رَحمَۃُ اللہ الغفّارنے فرمایا : اگر یہ رقم آپ مجھے دے دیں تو میں آپ کے لئے ایک ایسے عالیشان محل کی ضمانت لیتا ہوں ،  جو اِس سے زیادہ خوبصورت اور پائیدار ہے۔اُس کی مِٹّی مُشک و زَعفران کی ہو گی،  وہ کبھی مُنہدِم (مُن۔ہَ۔دِم)  نہ ہو گا اور صرف مَحل ہی نہیں بلکہ اُس کے ساتھ خادِم،  خادِمائیں اور سُرخ یاقوت کے قُبّے، نہایت شاندار اور حسین خَیمے وغیرہ بھی  ہوں گے اور اُس محل کو معماروں نے نہیں بنایا بلکہ وہ صرف اللہ تعالٰی کے کُن (یعنی ہو جا) کہنے سے بنا ہے ۔ نوجوان نے جواباً عرض کی:



[1]     شیخِ طریقت،امیرِ اہلسنّت ،حضرتِ علامہ مولانا محمد الیاس عطارؔ قادری رضوی ضیائی دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے دعوتِ اسلامی کے اولین مدنی مرکز جامع مسجد گلزار حبیب (گلستانِ اوکاڑوی باب المدینہ کراچی) میں ہونے والے سنتوں بھرے اجتماع(۱۵جمادی الاوّل ۱۴۰۹ ھ ٭ 24-12-88 )  میں فرمایا تھا جو ضرورتاً ترمیم کے ساتھ طبع کیا گیا              مجلس مکتبۃُ المدینہ



Total Pages: 19

Go To