Book Name:Madinay Ka Musafir

پریشان ہونگے ۔پھر ان کا آپریشن بھی ہوا ۔منگل و بدھ کی درمیانی شب الیاس رضا عطاری  تلاوت ِقرآنِ پاک میں مصروف رہے اور صبح صادق کے وقت بلند آواز سیکَلِمَۂ طَیِّبہپڑھنے لگے اورکَلِمَۂ طَیِّبہ لَا اِلٰہ اَلَّا اللہُ مُحَمَّدُ رَّسُول اللہ  کا وِرد کرتے کرتے الیاس رضا عطاری کی روح قَفَسِ عُنصری سے پر واز کر گئی۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(5) قابلِ رشک موت  

       محمد وسیم عطّاری  (بابُ المدینہ نارتھ کراچی)امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  سے مرید تھے اور ان کی بارگاہ میں حاضری کی سعادت پاتے رہتے تھے۔ ان اسلامی بھائی کے ہاتھ میں کینسر ہوگیا اور ڈاکٹروں نے ہاتھ کاٹ ڈالا۔

       امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  فرماتے ہیں کہ ان کے عَلاقے کے ایک اِسلامی بھائی نے بتایا، وسیم بھائی شدّتِ دَرْد کے سبب سخْت اَذِیّت میں ہیں۔ میں اَسپتال میں عِیادت کیلئے حاضِر ہوا اور تسلّی دیتے ہوئے کہا ، دیوانے !بایاں ہاتھ کٹ گیا اس کا غم مت کرو۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ دایاں ہاتھ تو مَحفوظ ہے اور سب سے بڑی سعادت یہ کہ اِنْ شَآء اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ایمان بھی سلامت ہے۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ   میں نے انہیں کافی صابِر پایا، صِرْف مُسکَراتے رہے یہاں تک کہ بسترسے اُٹھ کر مجھے باہَر تک چھوڑنے آئے۔ رفتہ رفتہ ہاتھ کی تکلیف ختْم ہوگئی مگر بے چارے کا دوسرا امتحان شروع ہوگیا اور وہ یہ کہ سینے میں پانی بھر گیا، دَرْد و کَرْب میں دِن کٹنے لگے ۔ آخِر ایک دِ ن تکلیف بَہُت بڑھ گئی، ذِکْرُ اللّٰہ شروع کردیا۔سار ادِن اللہ  ، اللہ  کی صدائوں سے کمرہ گونجتا رہا، طبیعت بَہُت زِیادہ تشویش ناک ہوگئی تھی، ڈاکٹر کے پاس لے جانے کی کوشِش کی گئی مگر انکار کردیا، دادی جان نے فَرطِ شفقت سے گود میں لے لیا،زبان پرکَلِمَۂ طَیِّبہ لَا اِلٰہ اَلَّا اللہُ مُحَمَّدُ رَّسُول اللہ     جاری ہوااور 22 سالہ محمد وسیم عطّاری   کی روح قَفَسِ عُنصُری سے پرواز کر گئی۔

       جب مرحوم کو غُسل کیلئے لے جانے لگے تو اچانک چادر چِہرے سے ہٹ گئی، مرحوم کا چِہرہ گلا ب کے پھول کی طرح کھِلا ہواتھا، غُسل کے بعد چِہرہ کی بَہار میں مزید نِکھارآگیا۔ تدفین کے بعد عاشِقانِ رسول نعتیں پڑھ رہے تھے، قَبْرسے خوشبوکی ایسی لَپٹیں آنے لگیں کہ مَشامِ جاں مُعَطّر ہوگئے مگر جس نے سونگھی اُس نے سونگھی۔ گھر کے کسی فرد نے انتِقال کے بعد خواب میں مرحوم محمد وسیم عطّاری   کو پھولوں سے سجے ہوئے کمرے میں دیکھا، پوچھا، کہاں رہتے ہو؟ہاتھ سے ایک کمرہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا،’’یہ میرا مکان ہے یہاں میں بَہُت خوش ہوں‘‘۔پھر ایک آراستہ بستر پر لیٹ گئے۔ مرحوم کے والِد صاِحب نے خواب میں اپنے آپ کو محمد وسیم عطّاری   کی قَبْر کے پا س پایا،یکایک قَبْر شَق ہوئی اور مرحوم سر پر سبز سبز عَمامہ سجائے ہوئے سفید کفن میں ملبوس باہَر نِکل آئے ! کچھ بات چیت کی اور پھر قَبْر میں داخِل ہوگئے اور قَبْر دوبارہ بند ہوگئی۔ 

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

دعائے عطّار

       یا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ میری، مرحوم کی اورامّتِ محبوب صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مغفِرت فرمااور ہم سب کو دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں اِستِقامت دے اور مرتے وقت ذِکر و دُرُود اور کَلِمۂ طیّبہ نصیب فرما۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

عاصی ہوں،مغفِرت کی دعائیں ہزاردو

نعتِ  نبی  سنا  کے  لَحَد  میں اُتا ردو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(6)بلڈ پریشر کا مریض

        صوبہ (پنجاب پاکستان) کے شہر مَدِیْنَۃُ الاَولیائ(ملتان کینٹ) کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ میرے بچوں کے نانا(یعنی میرے سسر) جن کی عمر تقریباً 75سال تھی، قبلہ امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  سے مرید تھے اور دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے بڑی محبت فرماتے تھے۔۱۰ مُحَرَّمُ الْحَرام ۱۴۲۸ھ بروز پیر شریف کو اٹیک ہوا۔ ہسپتال میں داخل کروا دیاگیا۔ ڈاکٹر 4دن تک جان بچانے کی بھرپور کوشش کرتے رہے مگر ان کا بلڈ پریشر کم ہوتا چلاگیا حتّٰی کہ 8اور10(mmhg)کے درمیان پہنچ گیا۔ ڈاکٹر اس بات پر حیران تھے کہ ہم نے زندگی میں پہلا مریض دیکھا ہے جواتناکم بلڈ پریشر ہونے کے باوُجود قومے میں جانے کے بجائے انتہائی ہشاش بشاش نظر آرہا ہے۔ اور ہمیں بھی ان کی کیفیت سے ذرا بھی یہ محسوس نہیں ہورہا تھا کہ ان کی حالت بہت نازک ہے بلکہ وہ بڑے اطمینان سے گفتگو کررہے تھے اور وقتاً فوقتاً دُرُود وسلام اور کَلِمَۂ طَیِّبہ کا وِرْد کرنے لگتے تھے۔ صبح کم و بیش9:00بجے قائم الدین عطاری  بلند آواز سے اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کرنے لگے، یا اللّٰہعَزَّوَجَلَّ میری زندگی کے تمام نیک اعمال اگر تیری بارگاہ میں مقبول ہیں تو اس کا ثواب سرکار صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ساری امّت کو اِیصال کرتا ہوں ان کے صدقے میرے چھوٹے بڑے سارے گناہ معاف فرما کر میری مغفرت فرمادے۔ پھرانہوںنے بآوازِ بلند’’۱۲بار‘‘ درودِ پاک  الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْل اللّٰہ اور ’’12بار‘‘کَلِمَۂ طَیِّبہ  پڑھاور ہمیشہ کیلئے آنکھیں موند لیں۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد   

(7)18 سالہ خوش نصیب نوجوان

 



Total Pages: 8

Go To