Book Name:Madinay Ka Musafir

   آخر کار ان کی معراج کا وقت آگیا اور یہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی مرکز فیضان مدینہ آفندی ٹائون حیدرآباد میں 30دن کیلئے مُعتَکِف ہوگئے اور عاشقانِ رسول اور مَدَنی ماحول کے فیضان سے فیض یاب ہونے لگے۔دورانِ اعتکاف بیٹے سے مُلاقات پر کہنے لگے فیضان مدینہ میں معتکف ہونے پر تو ایسا لگ رہا ہے جیسے میں دنیا ہی میں جنّت میں آگیا ہوں۔3رَمَضان المبارَککو افطار کے وقت جو صاحبزادے ملاقات کیلئے آئے اُن سے کہا کہ آپ باہر افطار کرکے آئیں،کیونکہ یہاں(یعنی اجتماعی اعتکاف میں) ان کیلئے افطار کی ترکیب ہے جنہوں نے رقم جمع کروائی ہے آپ کیلئے افطار کرنا صحیح نہیں ۔ کسی سے سُنا کہ امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  رسالہ’’ مسجدیں خوشبودار رکھئے ‘‘میں تحریر فرمایا کہ مسجد میں بدبو کے ساتھ نہیں جانا چاہئے تو اپنے بیٹے سے خوشبو منگوائی اور اپنی داڑھی ،کپڑے ،بستر وغیرہ پر لگوائی۔ان کا ارادہ تھا کہ اعتکاف کے بعدعید کے دن اپنے پیرو مرشد کی زیارت کیلئے جائونگا۔

           ۳ رَمَضان المبارَک ۱۴۲۷ ھ ،27ستمبر2006بروز بدھ بعد تراویح، مدرسۃ المدینہ( بالغان) میں شرکت کے بعد صلوٰۃ التسبیح ادا کی۔ کچھ دیر بعد گھبراہٹ محسوس ہوئی ، چند اسلامی بھائیوں نے ہسپتال پہنچایا ، راستے میں کہنے لگے بیٹا، میں نہیں بچوں گا۔ ہسپتال میں ڈاکٹروں نے جان بچانے کیلئے ہر طرح سے کوشش کی مگر محمد عباس عطاری  نے 70 سال کی عمر میں رات کم و بیش 3بجے دَم توڑ دیا۔   

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(3)عطّاریہ پر کرم

        ایک اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ ہمارا سارا گھرانا امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کا مُرید ہے ۔ ہماری والدہ جِن کو (کئی)سال سے ہیپاٹائٹس cاور شوگر کا مرض تھا، ۱۳ربیع الغوث  ۱۴۲۵ھ کو اچانک قومہ میں چلی گئیں۔ انہیں C.M.H ہسپتال I.T.Cروم میں داخل کروادیا گیا۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ میڈیکل (یعنی علمِ طب)کی رو سے یہ بالکل ختم ہوچکی ہیں۔ مگر 12 دن قومہ میں رہنے کے بعد ان کو خود ہی ہوش آگیا۔ سب ڈاکٹر حیران تھے کہ ان کا جگر بالکل ختم ہوچکا ہے پھریہ کیونکر ہوش میں آگئیں؟امی جان ہوش میں آنے کے بعد ہر کسی سے یہی کہتی تھیں کہ اگر میں قومہ کی حالت میں مر جاتی تو مجھے تو کلمہ طیبہ پڑھنا بھی نصیب نہ ہوتا ۔ حالت بہتر ہونے پر ہم انہیں اسپتال سے گھر لے آئے ۔اُس کے بعد سے میری والدہ اپنے ایمان کی حفاظت کی دعا کرتی رہتی، گھر میں اسلامی بہنوں کا اجتماعِ ذکرو نعت بھی کرواتیں۔

       اسپتال سے آنے کے ایک ماہ 22دن بعد بروز ہفتہ رات کے وقت انہوں نے شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کی بین الاقوامی شہرت یافتہ تألیف فیضانِ سنت کا درس سُنا پھر سورئہ رحمن شریف کی تلاوت سنی اور اس کے بعد انہوں نے حُضُورِ غوثِ پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی شان میں لکھی ہوئی منقبت پڑھی (جسے ٹیپ میں ریکارڈ کر لیا گیا)۔ پھر دعا کرنے لگیں:اے اللہ  عَزَّوَجَلَّ مجھے صحت دے کہ میں پنجگانہ نما زبآسانی ادا کروں ،دورانِ دُعا انہوں نے جھوٹ، غیبت، چغلی، حسد سے توبہ بھی کی اور یہ شعر پڑھنے لگیں   ؎

ا ے سبز گنبد والے منظور دعا کرنا

جب وقتِ نزع آئے دیدار عطا کرنا

اور یا اللہ  عَزَّوَجَلَّمیری قبر کو نور سے بھردے، میری قبر کو کیڑے مکوڑوںسے مَحفوظ فرما۔کافی دیر تک اسی طرح ایمان و عافیت کے ساتھ موت کی دعاکرتی رہیں۔ اس کے بعد انہوں نے باآوازِ بلند کلمہ طیبہ لَا اِلٰہ اَلَّا اللہُ مُحَمَّدُ رَّسُول اللہ  پڑھا اور سونے کیلئے لیٹ گئیں۔ رات کم وبیش ساڑھے بارہ بجے وہ دوبارہ قومہ میں چلی گئیں اور قومہ کی ہی حالت میں 6بجکر 20منٹ پر میری امّی جان کا انتقال ہوگیا۔غُسل کے بعد ان کا چہرہ ایسا لگ رہا تھا جیسے مُسکرارہی ہوں۔

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(4) وقتِ وفات کلمہ کی تکرار

        حیدرآباد(باب الاسلام سندھ)کے اسلامی بھائی الیاس رضا عطاری دعوتِ اسلامی کے مُشکبار مَدَنی ماحول سے وابستہ تھے اور امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے مُرید تھے ۔ 29رَمَضان المبارک 1425ھ کو ریلوے ورکشاپ کی ڈیوٹی سے گھر واپس لوٹے اور تھوڑی دیر آرام کرنے کے بعد جب ظہر کیلئے وُضو کرنے اٹھے تو گر پڑے اور بے ہوش ہوگئے۔ انہیں رکشہ میں ہسپتال لے جایا گیا جب راستے میں ہوش آیا تو بلند آواز سے کلمہ طیبہ پڑھنے لگے۔ ڈاکٹر نے چیک اپ کرنے کے بعد کچھ دوائیاں دیں اور وہ گھر واپس آگئے۔ رات تقریباً 10:00بجے پھر بے ہوش ہوگئے اور منہ سے خون جاری ہوگیا ۔انہیں دوبارہ اسپتال لے جایا گیا۔ ڈاکٹروں نے دوائیاںدے کر واپس کردیا۔ عیدالفطر کی صبح طبیعت پھر خراب ہوگئی۔ایک بار پھر اسپتال لے گئے جہاں انہیں داخل کرلیا گیا۔ اب کی بار ڈاکٹروں نے خدشہ ظاہر کیا کہ انہیں’’ ہیپاٹائٹس C‘ہے ۔ الیاس رضاعطّاری دو دن ہسپتال میں رہے ۔اس دوران ان کی زبان پرکَلِمَۂ طَیِّبہ لَا اِلٰہ اَلَّا اللہُ مُحَمَّدُ رَّسُول اللہ    اور دُرُود شریف جاری رہا۔ مزید ٹیسٹ کے لئے دوسرے ہسپتال لے جایا گیا جہاں پر ڈاکٹرز نے ان کی’’ اینڈ و ا سکو پی‘ ‘کی ۔ ٹیسٹ کے دوران بھی الیاس رضا عطاری مسلسل  کَلِمَۂ طَیِّبہ   کا   ورد  کرتے

 رہے ۔رپورٹ دیکھنے کے بعد ڈاکٹر نے آپریشن تجویز کیا۔اسپتال میں الیاس رضا عطاری تقریباً ہر آنے والے سے معافی مانگتے رہے کہ اگر میں نے زندگی میں کسی کی حق تلفی کی ہو یا دل دکھایا ہو تو مجھے معاف کر دیں۔جس دن آپریشن ہوناتھاان کے بڑے بھائی نے روتے ہوئے بتایا کہ الیاس رضا بھائی کو تقریباً دو سال سے’’ ہیپاٹائٹس C‘‘ ہے مگر مجھے قسم دی تھی کہ گھر والوں کو مت بتانا ،وہ



Total Pages: 8

Go To