Book Name:Madinay Ka Musafir

ہوں گے کہ میرے کمرے کے دروازے پر دستک پڑی۔ چَونک کر دروازہ کھولا تو سامنے والِدہ پریشانی کے عالَم میں کھڑی فرمارہی تھیں، تمہارے والِد صاحِب کی طبیعت خراب ہو گئی ہے۔ میں بَعُجْلَت تمام پہنچا تو والِد صاحِب بے قراری کے ساتھ سینہ سَہلا رہے تھے، فوراً اَسپتال لے جایا گیا ڈاکٹر نے بتایا کہ ہارٹ اٹیک ہوا ہے۔ گھر میں کُہرام مچ گیا کہ کچھ ہی دیر بعد سفرِ مدینہ کیلئے روانگی ہے اور والِدصاحِب کو یہ کیاہوگیا!افسوس طیّارہ والِد صاحِب کو لئے بِغیر ہی سُوئے مدینہ پرواز کرگیا۔ والِدِمحترم 5دن اَسپتال میں رہے۔ اِس دَوران مزید 4مرتبہ دل کادَورہ پڑا۔مگر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ دعوتِ اسلامی کی بَرَکت سے ہوش کے عالَم میں اُن کی ایک بھی نماز قَضاء نہ ہوئی۔ جب بھی نَماز کا وَقت آتا تو کان میں عرض کردی جاتی، نَماز پڑھ لیں آپ فوراً آنکھ کھول دیتے ۔ تَیَمُّم(تَ، یَمْ،مُمْ) کرادیاجاتا اور آپ نَقاہَت کے باعِث اشارے سے نَماز پڑھ لیتے۔ آخِری’’اٹیک‘‘ پر پھر بے ہوش ہوگئے۔عِشاء کی اذان پر آنکھیں جھپکیں تو میں نے فوراً عرض کیا، ابّا جان نَماز کیلئے تَیَمُّم کروادوں،اشارے سے فرمایا، ہاں،اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں نے تَیَمُّم کروایا اور والِدصاحب نے اللّٰہ اکبرکہہ کر ہاتھ باندھ لئے مگر پھر بے ہوش ہوگئے۔ ہم گھبرا کر دوڑے اور ڈاکٹر کو بلالائے۔ فوراًI.C.Uمیں لے جایا گیا، چند مِنَٹ بعد ڈاکٹر نے آکر بتایا کہ آپ کے والد صاحب کاانتِقال ہوگیاہے مگر وہ بڑے خوش نصیب تھے کہ اُنہوں نے بُلند آواز سے کلمہ شریف لَا اِلٰہ اَلَّا اللہ  مُحَمَّدُ رَّسُول اللہ  پڑھنے کے بعد دم توڑا۔

اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ

       ایک سیِّد زادے نے والِد مرحوم کو غسل دیا۔ چُونکہ والِدصاحِب کواُنگلیوں پر گن کراَذکار پڑھنے کی عادت تھی لہٰذا آپ کی اُنگلی اُسی انداز میں تھی گویا کچھ پڑھ رہے ہیں، بار بار اُنگلیاں سیدھی کی جاتیں۔ مگر دوبارہ اُسی انداز پر ہوجاتیں،اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ کثیر اسلامی بھائی جنازے میں شریک ہوئے۔   

 اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ میرے بھائی کی بھی والِد صاحِب کے ساتھ حج پر جانے کی ترکیب تھی۔ وہ حج کی سعادت سے بہرہ مَند ہوئے۔ بڑے بھائی کا کہنا ہے کہ میں نے مدینۂ مُنوَّرہ میں رو رو کر بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں عرض کی کہ میرے مرحوم والِد کا حال مجھ پر مُنکَشِف ہو، جب رات کو سویا تو خواب میں دیکھا کہ والِد بُزرُگوار  اِحْرام پہنے تشریف لائے اور فرمارہے ہیں،’’میں عمرہ کی نیّت کرنے (مدینے شریف)آیا ہوں ، تم نے یاد کیا تو چلا آیا، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں بَہُت خوش ہوں‘‘۔ دوسرے سال میرے بھتیجے نے مسجِدُ الْحرام شریف کے اندر کعبۃُ اللہ  شریف کے سامنے اپنے دادا جان یعنی میرے والِد مرحوم حاجی عبدالرحیم عطّاری   کو عَین بیداری کے عالَم میں اپنے برابر میں نَماز پڑھتے دیکھا۔ نماز سے فارِغ ہوکر بَہُت تلاش کیا مگر نہ پاسکے۔

مدینے کا  مسافِر  سِندھ  سے  پَہُنچا  مدینے  میں

قدم  رکھنے  کی  نوبت  بھی نہ آئی تھی سفینے میں

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ کی  اُن پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد   

                        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کَلِمَۂ طَیِّبَہکا وِرْد کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہونے والے حاجی عبدالرحیم عطّاری مرحومپندرھویں صدی ہجری کے مشہور بُزُرگ شیخِ طریقت، امیرِاَہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی، حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادِری رَضَوی دامَتْ بَرَکاتُہُمُ العَالِیہکے مرید اور تبلیغِ قراٰن و سنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ’’دعوتِ اسلامی‘‘ کے مَدنی ماحول سے وابستہ تھے۔اس ایمان افروز سچی حکایت سے معلوم ہوا کہ کسی  ولیِ کامل کے دامن سے وابستگی میں دنیا وآخرت کی ڈھیروں بھلائیاں پوشیدہ ہیں ۔ زندگی اپنی جگہ (عموماً) موت کے وقت بھی اولیاء اللہ  کی نسبت رنگ لاتی ہے ۔ ماضی قریب میں رُونما ہونے والے عاشقانِ رسول کی دنیا سے ایمان افروز رخصتی کے بہت سے سچے واقعات ہیں ، ان میں سے مزید 10منتخب واقعات ملاحظہ ہوں۔

(2)دوران اِعتِکاف اِنتِقال

        حیدرآباد(باب الاسلام سندھ) کے علاقہ لطیف آباد یونٹ نمبر8کے مقیم مبلغِ دعوتِ اسلامی کے بیان کالبِ لُباب ہے کہ غالباً2001ء میں ایک عمر رسیدہ اسلامی بھائی  محمد عباس عطاری دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں آنے جانے اور عاشقانِ رسول کی صحبت پانے لگے اور اپنے تمام گھر والوں سمیت امیرِاَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  سے مُرید بھی ہوگئے ۔ ایک ولیٔ کامل کے دامن سے وابستہ تو کیا ہوئے ان کی زندگی میں مَدَنی انقلاب برپا ہوگیا۔پنج وقتہ باجماعت نماز پڑھنے لگے اور چہرے پر سنّت کے مطابق داڑھی شریف بھی سجالی۔اکثر کہا کرتے: کاش! میں نے جوانی ہی میں داڑھی سجالی ہوتی۔ دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے سے پہلے ان کا غصہ خاندان بھرمیں مشہورتھاکہ ان کو کوئی نظر بھر کر بھی دیکھ لیتا تو اُلجھ پڑتے کہ مجھے اس طرح کیوں دیکھ رہے ہو۔ مگر اب ان کی نرم مزاجی کے چرچے تھے۔وہ اس بات کا اعتراف کیا کرتے کہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوکر اندازہ ہواکہ زندگی کیسے گزارنی چاہئے۔ گھر کے قریب مسجد میں درس  میں پابندی سے شِرکت کیا کرتے ۔ ایک روز درس میں جب یہ سنا کہ امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  نے ’’اخبارات ردی میں نہ بیچنے‘‘ کا ذہن دیاہے تو اسی وقت گھر میں جاکر کہہ دیا کہ آئندہ گھر کے اخبار ات نہیں بیچے جائیں گے جبکہ اس سے قبل گھر کے اخبارات کی ردی خود ہی بیچ کر آتے تھے۔

        رَمَضان المبارَک ۱۴۲۷ ھ،2006ءمیں جب دعوتِ اسلامی کی طرف سے پہلی مرتبہ 30روزہ اجتماعی اعتکاف کی خوشخبری ملی تو ان کی خوشی اور جذبہ قابلِ دید تھا۔ اسی دن سے ذمہ داران سے رابطہ کرکے فارم پُر کرنے اور رقم جمع کروانے کی ترکیب کرنے لگے۔ان کا جذبہ دیکھ کرایک مبلغ نے کہا کہ حیرت ہے ہمیں لوگوں کو تیار کرنا پڑرہا ہے اور آپ خود بڑھ چڑھ کر ترکیب کررہے ہیں۔

 



Total Pages: 8

Go To