Book Name:Christian Ka Qabool e Islam

 اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

کرسچین کا قبولِ اِسلام

شیطٰن لاکھ سُستی دلائے یہ انوکھا رسالہ (32صفحات )اوّل تا آخِر مکمل پڑھ لیجئے ، ان شاء اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ آپ اپنے دل میں مَدَنی انقلاب برپا ہوتا محسوس فرمائیں گے۔

 دُرُود شریف کی فضیلت

      امامُ الصّابِرین ، سیّدُ الشّاکِرین، سلطانُ الْمُتَوَکِّلِین  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ دلنشین ہے :  جِبرئیل (علیہ السلام) نے مجھ سے عرض کی کہ رب   تَعَالٰی فرماتا ہے : اے مـحـمّد! (علیہ الصلوۃ و السلام)کیاتم اِس بات پر راضی نہیں کہ تمہارا اُمَّتی تم پر ایک بار دُرُود بھیجے، میں اُس پر دس رَحمتیں نازل کروں اور آپ کی اُمَّت میں سے جو کوئی ایک سلام بھیجے، میں اُس پر دس سلام بھیجوں ۔  (مِشْکَاۃُ الْمَصَابِیح ، ج۱ ص۱۸۹، حدیث ۹۲۸، دارالکتب العلمیۃ بیروت )  

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

مَدَنی چینل

             مَحَلّے میں اگر مجوسی (آگ پوجنے والا)ہوٹل کھول لے تو ہر فرد کو یہ سمجھانا بہت دشوار ہو گا کہ اِس کافِر سے گوشت یا گوشت والی کوئی سی بھی غذا لیکر مت کھا ؤ کہ گناہ وحرام ہے۔ اَنسب طریقہ یہ ہے کہ اس مَحَلَّے کے اندر مسلمان کا ہوٹل کھول لیا جائے اگر ایسا کر لیاتو اب سمجھانا آسان ہو جائے گا کہ وہاں کے بجائے یہاں سے کھاؤ۔ اِسی طرح T.V. کا مُعامَلہ ہے آج شاید ہی کوئی گھر T.V. سے خالی ہواور ہر باشُعُور مسلمان یہ جانتا ہے کہ ہمارے معاشرے کی تباہی میں T.V.کا بہت اہم کردار ہے! مُبَلِّغینِ دعوتِ اسلامی نے T.V.کی تباہ کاریوں کے خلاف اچھی خاصی مُہم چلائی لیکن کما حَقُّہٗ کامیابی نہ پائی ۔چونکہ ہزا ر میں سے تقریباً نوسوننانوے (999)افراد T.V.کے رسیا ہو چکے ہیں او ر غالب اکثریت دنیا و آخرت کی بھلائی بُرائی کی پرواہ کئے بغیر T.V. دیکھنے میں مشغول ہے ۔ T.V. بینی میں ان کی دیوانگی کی حد تک دلچسپی کی وجہ سے شیطان ان کے کردار کے ساتھ ساتھ اسلامی اقدار پر بھی یلغار کر رہا ہے ۔ ابلیس کی تحریک پر اسلام ہی کا لُبادہ اوڑھ کر بعض لوگ اسلام کوماڈَرن انداز میں پیش کرنے کی مذموم سعی کررہے ہیں ، اسلام کی حقیقی روح مسلمانوں کے دلوں سے نکالی جا رہی ہے ۔اب اگر ہم مساجد وغیرہ میں T.V.کی تباہ کاریاں بیان کرتے بھی ہیں تو اوّل تو بمشکل 5فیصد مسلمان نَماز پڑھتے ہوں گے ان میں بھی اِکّادُکّا ہی مذہبی بیان سننے میں دلچسپی لیتا ہے ، نیز اسلامی بہنوں کو کون بیان سنائے ؟ اگر لٹریچر چھاپتے ہیں تو دینی مطالعہ کرنے والوں کی تعداد مایوس کُن حد تک کم ہے! ان نا مُساعِدحالات میں اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ مسلمانوں کی اصلاح کا دائرہ کار اگر صِرف مساجِد اور اجتماعات وغیرہ کی حد تک رکھتے ہیں تو اُمّت کی غالِب اکثریَّت تک ہمارا درد بھرا پیغام پہنچ ہی نہیں پاتا اور طاغوتی طاقتیں یکطرفہ طور پر اپنے مختلف چینلز کے ذریعے مسلمانوں کو گمراہ کرتی رہی ہی رہیں گی۔ اغلب گمان یہی ہے کہ مسلمانوں کے گھروں سے T.V.نکلوانا ممکن نہیں بس ایک ہی صورت نظر آئی اور وہ یہ کہ جس طرح دریا میں طُغیانی آتی ہے تو اُس کا رُخ کھیتوں وغیرہ کی طرف موڑ دیا جاتا ہے تا کہ کھیت بھی سیراب ہوں اور آبادیوں کو بھی ہلاکت سے بچایا جا سکے عین اِسی طرحT.V.ہی کے ذَرِیعے مسلمانوں کے گھروں میں داخِل ہوا جائے اوران کوغفلت کی نیند سے بیدار کیا جائے اور گناہوں اور گمراہیوں کے سیلاب سے انہیں خبردار کیا جائے چُنانچِہ جب معلوم ہوا کہ اپنا T.V.چینل کھول کرفلموں ڈِراموں ، گانوں ، باجوں ، موسیقیوں کی دُھنوں اور عورتوں کی نمائشوں سے بچتے ہوئے 100فیصد ی اسلامی مَواد فراہم کرنا ممکن ہے تو اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّ وَجَلَّ دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ نے خوب جِدَ وجَہد کر کے رَمضانُ المبارَک ۱۴۲۹ھ (2008)سے مدنی چینل کے ذَرِیعے گھرگھر سنّتوں کاپیغام عام پیش کر نا



Total Pages: 8

Go To