Book Name:Tazkirah e Sadr us Shariah

سب حاضِرین حیرت زدہ تھے کہ حضور یہ اِہتمام کس لئے فرمارہے ہیں  ! پھرمیرے آقا اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت ایک کرسی پر تشریف فرماہوئے اور فرمایا کہ میں   آج بریلی میں   دارُ القَضاء  بریلی کے قِیام کی بنیاد رکھتا ہوں   اور صدرُ الشریعہ کواپنی طرف بلاکر ان کا داہنا ہاتھ اپنے دستِ مبارَک میں   لے کر قاضی کے منصب پر بٹھا کر فرمایا :  ’’ میں   آپ کو ہندوستان کے لئے قاضیٔ شَرع مقرَّر کرتا ہوں ۔ مسلمانوں   کے درمیان اگر ایسے کوئی مسائل پیدا ہوں   جن کا شرعی فیصلہ قاضی ٔشَرع ہی کرسکتا ہے وہ قاضی شَرعی کا اختیار آپ کے ذمّے ہے  ۔  ‘‘

            پھرتاجدارِ اہلسنّت مفتیٔ اعظم ہند حضرت مولانا مصطَفٰے رضاخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ المَنّان اوربُرہانِ ملّت حضرتِ علّامہ مفتی محمد برہانُ الحق رضوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ القَوِی کو دارالقَضاء بریلی میں   مفتیٔ شَرع کی حیثیَّت سے مقرر فرمایا  ۔ پھر دُعا پڑھ کر کچھ کلمات ارشاد فرمائے جن کا اقرار حضرتِ صدرُ الشَّریعہ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَ بِّ الْوَرٰی نے کیا ۔  صدرُ الشَّریعہ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَ بِّ الْوَرٰی نے دوسرے ہی دن قاضیٔ شَرع کی حیثیَّت سے پہلی نِشَست کی اور وِراثَت کے  ایک معامَلہ کا فیصلہ فرمایا ۔

یہ ساری برکتیں   ہیں   خدمتِ دینِ پیمبر کی

جہاں   میں   ہر طرف ہے تذکرہ صدرِشریعت کا

اعلٰی حضرت کیجنازے کے لئے وصیت

            وَصایا شریف صَفْحَہ24 پر ہے کہ مجدِّدِ اعظم ، اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِسنّت، مجدّدِ دین وملت مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے اپنی نَمازِ جنازہ کے بارے میں   یہ وصیَّت فرمائی تھی ۔  ’’ المنّۃُ المُمْتازہ ‘‘ [1]میں   نمازِ جنازہ کی جتنی دعائیں   منقول ہیں   اگر حامد رضا کویاد ہوں   تو وہ میری نماز ِجنازہ پڑھائیں  ورنہ مولوی امجدعلی صاحِب پڑھائیں   ۔ حضرتِ حُجَّۃُ الْاِسلام(حضرت مولیٰنا حامد رضا خان) چُونکہ آپ کے ’’  وَلی  ‘‘ تھے اسلئے انکو مقدَّم فرمایا، وہ بھی مَشرُوط طور پر اور انکے بعدمیرے آقا اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کی نگاہِ انتخاب اپنی  نمازِ جنازہ کے لئے جس پر پڑی وہ بھی بلا شرط، وہ ذات  صدرُ الشَّریعہ ، بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی کی تھی ۔ اسی سے اعلیٰ حضرت  عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کی صدر الشریعہ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَ بِّ الْوَرٰی سے مَحَبَّت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے  ۔

  آستانۂ مُرشد سے وفا

            ایک مرتبہ کسی صاحِب نے تاجدارِ اہلسنّت مفتی ٔاعظم ہندشہزادۂ اعلیٰ حضرت علامہ مولانا مصطفی رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کے سامنے صدر الشریعہ ، بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی  کا تذکرہ فرمایاتومفتی اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم  کی چشمانِ کرم سے آنسو بہنے لگے اور فرمایا کہ صدر الشریعہ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَ بِّ الْوَرٰی نے اپنا کوئی گھر نہیں   بنایا بریلی ہی کو اپنا گھر سمجھا  ۔ وہ صاحبِ اثر بھی تھے اور کثیر التَّعداد طَلَبہ کے اُستاذ بھی، وہ چاہتے تو بآسانی کوئی ذاتی دار العلوم ایسا کھول لیتے جس پر وہ یکہ و تنہا قابِض رہتے مگر ان کے خلوص نے ایسا نہیں   کرنے دیا ۔  ‘‘

 یہ میرے مُرشِد کا کرم ہے

    چنانچہ دار العلوم معینیہ عثمانیہ (اجمیر شریف) میں   وہاں   کے صدرُ المدَرِّسین ہو کر جب آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ پہنچے اور وہاں   کے لوگ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے اندازِ تدریس سے بَہُت مُتأَثِّر ہوئے تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے رُوبرو اس کا ذِکر آیا کہ آپکی تعلیم بہت کامیاب ہوتی نظر آرہی ہے یہ مرکزی دارالعلوم سر بلند ہوتا جارہا ہے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا :  ’’ یہ مجھ پر اعلیٰ حضرتعَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کا فضل وکرم ہے ۔   ‘‘

باغِ عالم کاہو منظر کیوں   نہ رنگین و حَسین

گوشے گوشے سے ہیں   طِیب اَفشاں   رِیاحینِ رضا

صدرِ شریعت  کی صحبت کی عظمت 

            تلمیذ وخلیفۂ صدر الشریعہ حضرت مولانا سیِّد ظہیر احمد زَیدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی لکھتے ہیں    : مجھے سات سال کے عرصے میں   اَن گنت بار مولانا کی خدمت میں   حاضری کا موقعہ ملا لیکن میں   نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی مجلسوں   کو ان عُیُوب سے پاک پایا جو عام طور سے بِلاامتیازِ عوام وخواص ہمارے مُعاشَرے کا جُز و بن گئے ہیں   مَثَلاً غیبت، چغلی، دوسروں   کی بدخواہی، عیب جوئی وغیرہ ۔  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی زندگی نہایت مقدَّس و پاکیزہ تھی، مجھے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی زندگی میں   دَرَوغ بیانی (یعنی جھوٹ بولنے) کا کبھی شائبہ بھی نہیں   گزرا ۔ جہاں   تک میری معلومات ہے آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے معمولات قراٰن وسنّت کے مطابِق تھے ، گفتگو بھی نِہایت مہذَّب ہوتی ، کوئی ناشائستہ یا غیر مُہذَّب لفظ استعمال نہ فرماتے ، اسی طرح معاملات میں   بھی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نہایت صاف تھے  ۔ آپ کا ہرمُعامَلہ شریعت مُطَہَّرہ کے اَحکام کے ماتحت تھا ۔  ’’ دادوں  ‘‘ (علی گڑھ)میں   قیام کے دوران کامیں   عَینی شاہد ہوں   کہ آپ نے کبھی کسی کے ساتھ بدمُعامَلگی نہ کی، نہ کسی کا حق تلف کیا ۔

 



[1]      یہ مبارک رسالہ فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجَہ  جلد۹ صفحہ ۲۰۹ پر موجود ہے ۔



Total Pages: 11

Go To