Book Name:Tazkirah e Sadr us Shariah

صاحب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے کچھ تعلیم حاصل کی  ۔ پھرجو نپورپہنچے اور اپنے چچا زاد بھائی اور اُستاذ مولانا  محمد صدیق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  سے کچھ اسباق پڑھے پھرجامع معقولات ومنقولات حضرت علّامہ ہدایت اللہ خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن  سے علمِ دین کے چھلکتے ہوئے جام نوش کئے اور یہیں   سے درسِ نظامی کی تکمیل کی ۔ پھر دورہ ٔ حدیث کی تکمیل پیلی بھیت میں   اُستاذُ المحدثین حضرت مولانا وصی احمد محدث سُورَتی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی سے کی ۔ حضرت محدثِ سُورَتی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی نے اپنے ہونہار شاگرد کی عَبقَری(یعنی اعلی ) صلاحیتوں   کا اعتراف ان الفاظ میں   کیا  :  ’’ مجھ سے اگر کسی نے پڑھا تو امجد علی نے ۔  ‘‘

پیدل سفر

            صدر الشریعہ بدرالطریقہ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَ بِّ الْوَرٰی نے طلبِ علمِ دین کیلئے جب مدینۃُ العُلَماء گھوسی سے جونپور کا سفر اختیار کیا ، ان دنوں   سفر پیدل یا بیل گاڑیوں   پر ہوتا تھا  ۔ چُنانچِہ راہِ علم کے عظیم مسافر صدر الشریعہ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَ بِّ الْوَرٰی مدینۃ العلماء گھوسی سے پیدل سفر کرکے اعظم گڑھ آئے پھر یہاں   سے اونٹ گاڑی پرسُوار ہوکر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ جونپور پہنچے  ۔

حیرت انگیزقوتِ حافِظہ

            صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہحضرتِ  علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی کا حافظہ بَہُت مضبوط تھا ۔ حافِظہ کی قوت، شوق و محنت اور ذِہانت کی وجہ سے تمام طلبہ سے بہتر سمجھے جاتے تھے ۔ ایک مرتبہ کتاب دیکھنے یا سننے سے برسوں   تک ایسی یاد رہتی جیسے ابھی ابھی دیکھی یا سنی ہے ۔ تین مرتبہ کسی عبارت کو پڑھ لیتے تو یاد ہو جاتی ۔ ایک مرتبہ ارادہ کیا کہ ’’  کافیہ ‘‘  کی عبارت زَبانی یاد کی جائے تو فائدہ ہو گا تو پوری کتاب ایک ہی دن میں   یاد کر لی !

تدریس کا آغاز

            صوبہ بہار(ہند پَٹنہ)میں   مدرسۂ اہلسنّت  ایک ممتاز درس گاہ تھی جہاں   مُقتَدِر (مُق ۔ تَ ۔ دِر)ہستیاں   اپنے علم وفضل کے جوہر دکھا چکی تھیں    ۔ خود صدرالشَّریعہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے استاذِ محترم حضرت مُحدِث سُورَتی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی برسوں   وہاں   شیخ الحدیث کے منصب پر فائز رہ چکے تھے  ۔ مُتَولّیٔ مدرَسہ قاضی عبدالوحید مرحوم کی درخواست پر حضرت مُحدِّث سُورَتی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی نے مدرسۂ اہلسنّت ( پَٹنہ) کے صدر مُدَرِّس کے لئے صدرُالشَّریعہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا انتخاب فرمایا ۔  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ استاذ ِمحترم کی دعاؤں   کے سائے میں    ’’ پٹنہ  ‘‘ پہنچے اور پہلے ہی سبق میں  عُلوم کے ایسے دریا بہائے کہ عُلَماء وطَلَبہ اَش اَش کراُٹھے  ۔ قاضی عبدالوحید  علیہ رحمۃُ اللّٰہِ المجیدجو خُود بھی مُتَبَحِّر (مُ ۔ تَ ۔ بَح ۔ حِر) عالم تھے نیصدرُ الشریعہ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَ بِّ الْوَرٰی کی علمی وَجاہت اور انتِظامی صلاحیَّت سے مُتَأَثِّر ہوکر مدرَسہ کے تعلیمی اُمور آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے سِپُرد کر دئیے ۔

 اعلٰی حضرت کی پہلی  زیارت

            کچھ عرصہ بعد قاضی عبدالوحیدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْد بانیٔ مدرسۂ اہلسنّت (پَٹنہ) شدید بیمار ہوگئے ۔ قاضی صاحب ایک نہایت دیندار ودین پر وررئیس تھے، علمِ دین سے آراستہ ہونے کے ساتھ ساتھ اِنگریزی تعلیم میں  B.A تھے ۔

 انکے والد انھیں   بیرسٹری کے امتحان کے لئے لندن بھیجنا چاہتے تھے لیکن قاضی صاحِب کے مقدس مَدَنی جذبات نے یورپ کے مُلحدانہ گندے ماحول کو سخت ناپسند کیا  ۔ چُنانچِہ آپ نے اس سفر سے تحریز فرمایا اور ساری زندگی خدمتِ دین ہی کو اپنا شعار بنایا  ۔ انکی پرہیزگاری اور مَدَنی سوچ ہی کی کشِش تھی کہ میرے آقا اعلٰیحضرت، اِمامِ اَہلسنّت،  ولیٔ نِعمت، عظیمُ البَرَکت، عظیمُ المَرْتَبت، پروانۂِ شمعِ رِسالت، مُجَدِّدِ دین  ومِلَّت، حامیِٔ سنّت ، ماحِیِٔ بِدعت، عالِمِ شَرِیْعَت ، پیرِ طریقت، باعثِ خَیْر وبَرَکت، حضرتِ علّامہ مولیٰنا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحمٰن  اورحضرت قبلہمُحدِّث سُورَتی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی جیسے مصروف بُزُرگانِ دین قاضی صاحِب کی عیادت کے لئے کَشاں  کَشاں   روہیلکھنڈ سے پٹنہ تشریف لائے ۔  اسی موقع پر حضرت صدر الشریعہ ، بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی نے پہلی بار میرے آقااعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کی زیارت کی  ۔

 اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی شخصیت میں   ایسی کشش تھی کہ بے اختیار صدرُ الشریعہ  ، بدرالطریقہ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَ بِّ الْوَرٰی کا دل آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی طرف مائل ہوگیااور اپنے استاذِ محترم حضرت سیِّدُنا مُحدِّث سُورتی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی کے مشورے سے سلسلۂ عالیہ قادریہ میں   اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت سے بَیعَت ہوگئے  ۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت اور سیِّدی محدِث سورَتیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ماکی موجودَگی میں   ہی قاضی صاحب نے وفات پائی ۔ اعلیٰ حضرت  عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت  نے نمازِ جنازہ پڑھائی اور محدِّث سورَتی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی نے قبر میں   اُتارا ۔ اللّٰہُ رَبُّ الْعِزَّتعَزَّوَجَلّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو ۔  اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

عِلْمِ طِبّ کی تحصیل

 



Total Pages: 11

Go To