Book Name:Islami Behno Ki Namaz

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                               صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 {12} اولاد ملی، پاؤں   کا درد مِٹا

            بابُ المدینہ  (کراچی ) کی ایک اسلامی بہن کے تحریری بیان کا خلاصہ ہے کہ معاذاللہ عزوجل میں   نت نئے فیشن کی شوقین اورنَمازیں   قضا کردینے کی عادی تھی ۔ ہماری خوش بختی کہ میری ایک بیٹی دعوتِ اسلامی کے مشکبارمَدَنی ماحول سے وابَستہ ہوگئی ۔وہ مجھے بھی انفِرادی کوشش کے ذَرِیعے سنّتوں   بھرے اجتماع کی دعوت دیتی  رہتی تھی لیکن میں   اس کی بات کو نظر انداز کر دیا کرتی تھی۔ ایک مرتبہ حسبِ معمول میری بیٹی نے مجھ پر انفرادی کوشش کی اور مجھے دعوتِ اسلامی کے اجتماعات میں  شرکت کی ایک بَرَکت یہ بھی بتائی کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ  دعوتِ اسلامی کے اجتماعات میں  شریک ہونے والیوں   کی دعاؤں   کی قَبولیت کے کئی واقِعات ہیں   ، لہٰذا آپ بھی اجتماع میں   شریک ہوں   اور بھائی کے لئے دعا کیجئے۔بات یہ تھی کہ میرے بیٹے کی شادی کو4 سال کا عرصہ گزر چکا تھا مگر وہ اولاد کی نعمت سے محروم تھا۔چُنانچِہ میں   نے اپنی بیٹی کی ترغیب پر یہ نیَّت کی کہ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ  میں   دعوت ِاسلامی کے سنّتوں   بھرے اجتماع میں   شرکت کروں   گی اور اپنے بیٹے کے لیے اولاد کی دعا مانگوں   گی۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ   میں   نے سنّتوں   بھرے اجتماع میں   پابندی سے شرکت کرنا شروع کر دی ۔وہاں   میں   اپنے بیٹے کے لئے بھی دعا کیا کرتی ۔کچھ ہی عرصے میں  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  نے میرے بیٹے کو اولاد کی نعمت سے مالا مال فرما دیا۔سنّتوں   بھرے اجتماع میں   شرکت کی ایک اور برکت یہ بھی ملی کہ تقریبًا3 سال سے میرے پاؤں   میں  جو شدید تکلیف رہتی تھی اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ  مجھے اس سے بھی نَجات مل گئی ۔

مانگیں   گے مانگے جائیں  گے منہ مانگی پائیں   گے

سرکار میں   نہ  ’’  لا ‘‘  ہے نہ حاجت  ’’  اگر ‘‘  کی ہے (حدائقِ بخشِش)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

{13} میرے مسائل حل ہو گئے

            بابُ المدینہ  (کراچی ) کی ایک مُعَمَّر (مُ۔عَم۔مَر) اسلامی بہن کاحلفیہ بیان کچھ اس طرح ہے کہ میں  مختلف گھریلو مسائل میں  گرفتارتھی ۔ہم کرائے کے مکان میں   رہتے تھے ،مگرآمَدَنی کم ہونے کی وجہ سے کرایہ بھی وَقت پر نہ دے پاتے۔ بچیاں   بھی جوان ہورہی تھیں  ،اُن کی شادیوں   کی فکر الگ کھائے جارہی تھی۔ ایک روز کسی اسلامی بہن سے میری ملاقات ہوئی ، اُنہوں   نے میری غم خواری کی اور انفرادی کوشش کرتے ہوئے دعوتِ اسلامی کے اسلامی بہنوں   کے ہفتہ وار سنّتوں  بھرے اجتماع میں  پابندی کے ساتھ شرکت کی نیَّت کروائی اور وہاں  آ کر اپنے مسائل کے لئے دُعا کرنے کی بھی ترغیب دی ۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلّ میں   ہفتہ وار سنّتوں   بھرے اجتماع میں   شرکت کی سعادت حاصل کرنے لگی ۔میں  وہاں  اپنے مسائل کے حل کے لیے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں   دعا بھی کیا کرتی۔ کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ  اللّٰہُ رَبُّ الْعِزَّتعَزَّوَجَلَّ  کے کرم سے میرے بچّوں   کے اَبّو کو اچّھیمُلازَمت مل گئی اورکرم بالائے کرم یہ ہواکہ کچھ ہی عرصے میں   ہم نے کرائے کا گھر چھوڑکر اپنا ذاتی مکان بھی خرید لیا۔ اللّٰہُ مُجیبعَزَّوَجَلَّ  نے اپنے حبیبِ لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صدقے ،سنّتوں   بھرے اجتماعات میں   شرکت کی بَرَکت سے بچیوں   کی شادیوں   کے فریضے سے عہدہ برآہونے کی طاقت بھی عنایت فرما دی۔ اس طرح دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کی برکت سے ہمارا مسائل کا ریگستان ،ہنستے مُسکراتے لہلہاتے گلستان میں   تبدیل ہوگیا ۔الحمدللّٰہ ربّ العٰلمین۔

بے کس و بے بس وبے یارومددگارہو جو

آپ کے در سے شہا سب کا بھلا ہوتا ہے (سامانِ بخشِش)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                       صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 {14} مَدَنی انعامات پر عمل کی برکت سے چل مدینہ کی سعادت مل گئی

            بابُ المدینہ  (کراچی ) کی ایک اسلامی بہن کے حلفیہ بیان کا خلاصہ کچھ یوں   ہے کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَل ہمارا گھرانہ آقائے نعمت،مجدِّدِ دین و ملت مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیْہِ رَحْمَۃُ الرحمٰن کے ایک عظیمُ المرتبت خلیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کی اولاد سے ہے ۔سیِّدی اعلیٰ حضرتعَلَیْہِ رَحمَۃربِّ الْعِزَّۃکے وہ خلیفۂ مکرَّم میری والِدۂ محترمہ کے ناناجان تھے اور ہمارے تمام اہلِ خانہ اُنہیں   کے دستِ مبارَک پر بَیعَت تھے۔ ان سے بَیعَت کی بَرَکت سے  اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ  سیِّدی اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُربِّ الْعِزَّۃ کی مَحَبَّت و عقیدت رگ وپے میں   سرایت کئے ہوئے تھی،لیکن عملی زندگی میں   ہماری مثال کَورے کاغذکی سی تھی بالخصوص نمازوں   کی پابندی سے محرومی تھی نیزفیشن پرستی اورگانے باجے سننے کی نُحوست چھائی تھی،غصہ اورچِڑچِڑا پن ہماری عادت ثانیہ تھی ۔میرے پھوپھی زاد بھائی نے  (جوکہ دعوت اسلامی کے



Total Pages: 92

Go To