Book Name:Islami Behno Ki Namaz

غسل وُضو ٹوٹنے والاعمل ہوا تو صِرف اَعضائے وُضُو بے دُھلے ہوئے جَو جَو اَعضائے غسل دُھل چکے ہیں   وہ بے دُھلے نہ ہوئے  {15}  نا بالِغ یا نابالِغہ کاپاک بدن اگر چِہ ٹھہرے پانی مَثَلاً پانی کی بالٹی یا ٹَب وغیرہ میں   مکمَّل ڈوب جائے تب بھی پانی مُسْتَعمَل نہ ہوا  {16 }  سمجھدار بچّی یا سمجھداربچّہ اگر ثواب کی نیّت سے مَثَلاً وُضُو کی نیّت سے ٹھہرے پانی میں    ہاتھ کی اُنگلی یا اس کا ناخن بھی اگر ڈالے گا تو مُسْتَعمَل ہو جائے گا  {17}  غسلِ میّت کاپانی  مُسْتَعمَل ہے جبکہ اُس میں   کوئی نَجاست نہ ہو  {18}  اگر بَضَرورت ٹھہرے پانی میں   ہاتھ ڈالا تو پانی مُسْتَعمَل نہ ہوا مَثَلاً دیگ یا بڑے مٹکے یا بڑے پیپے  (پی۔پے۔DRUM)   میں   پانی ہے اِسے جُھکا کر نہیں   نکال سکتے نہ ہی کوئی چھوٹا برتن ہے کہ اِس سے نکال لیں   تو ایسی مجبوری کی صورت میں   بَقَدَرِ ضَرورت بے دُھلا ہاتھ پانی میں   ڈال کر اس سے پانی نکال سکتے ہیں    {19 }  اچّھے پانی میں   اگرمُسْتَعمَل پانی مِل جائے اور اگر اچّھا پانی زیادہ ہے تو سب اچّھا ہو گیا مَثَلاً وُضُو یا غسل کے دَوران لوٹے یا گھڑے میں  قَطرے ٹپکے تو اگر اچّھا پانی زیادہ ہے تو یہ وُضُو اور غسل کے کام کا ہے ورنہ سارا ہی بے کار ہو گیا  {20}  پانی میں   بے دُھلا ہاتھ پڑ گیا یاکسی طرح مُسْتَعمَل ہوگیا اور چا ہیں   کہ یہ کام کا ہو جائے توجتنا  مُسْتَعمَل پانی ہے اُس سے زیادہ مقدار میں   اچّھا پانی اُس میں   ملا لیجئے ،سب کام کا ہو جائے گا نیز  {21} ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اس میں   ایک طرف سے پانی ڈالیں   کہ دوسری طرف بہ جائے سب کام کا ہو جائے گا {22} مُسْتَعمَل پانی پاک ہوتا ہے اگر اِس سے ناپاک بدن یا کپڑے وغیرہ دھوئیں   گے تو پاک ہو جائیں  گے  {23}  مُسْتَعمَل پانی پاک ہے اس کا پینا یا اس سے روٹی کھانے کیلئے آٹا گوندھنا مکروہِ تنزیہی ہے  {24}  ہونٹوں   کا وہ حصّہ جو عادتاً ہونٹ بند کرنے کے بعد ظاہر رہتا ہے وُضُو میں   اِس کا دھونا فرض ہے لہٰذا کٹورے یا گلاس سے پانی پیتے وَقت احتیاط کی جائے کہ اگر ہونٹوں   کا مذکورہ حصّہ ذرا سا بھی پانی میں   پڑے گا پانی مُسْتَعمَل ہو جائے گا  {25}  اگر باوُضُو ہے یا کُلّی کر چکا ہے یا ہونٹوں   کا وہ حصّہ دھو چکا ہے اور اِس کے بعد وُضُو توڑنے والا کوئی عمل واقِع نہیں   ہوا تو اب پڑنے سے پانی مُسْتَعمَل نہ ہوگا  {26}  دودھ ،کافی، چائے، پھلوں   کے رس وغیرہ مَشرُوبات میں   بے دُھلا ہاتھ وغیرہ پڑنے سے یہ مُسْتَعمَلنہیں   ہوتے اور ان سے تو وَ یسے بھی وُضو یا  غسل نہیں   ہوتا  {27}  پانی پیتے ہوئے مونچھوں   کے بے دُھلے بال گلاس کے پانی میں   لگے تو پانی مُسْتَعمَلہو گیا اس کا پینا مکروہ ہے۔ اگر با وُضو تھا یا مونچھیں   دُھلی ہوئی تھیں   تو شرعاً حَرَج نہیں  ۔             

 ( مُستَعمَل پانی کے بارے میں   تفصیلی معلومات کے لیے فتاوٰی رضویہ جلد2 صَفْحَہ 37تا 248 ، بہار شریعت حصہ 2صَفْحَہ 55 تا56 اور فتاوٰی امجدیہ ج1صَفْحَہ 14تا15ملاحظہ فرمایئے)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                                              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 ’’ صَبْر کر ‘‘  کے پانچ حُرُوف کی نسبت سے زَخم وغیرہ سے خون نکلنے کے 5  اَحکام

                  {1}  خون،پِیپ یا زَرد پانی کہیں   سے نکل کر بہا اور ا سکے بہنے میں   ایسی جگہ پہنچنے کی صَلاحِیَّت تھی جس جگہ کا وُضو یا غسل میں   دھونا فَرض ہے تو وُضو جاتا رہا۔  (بہارِشریعت حصّہ۲ص۲۶)  {2}  خون اگر چمکا یا اُبھرا اور بہا نہیں   جیسے سُوئی کی نوک یا چاقو کاکَنارہ لگ جاتا ہے اور خون اُبھر یا چمک جاتا ہے یاخِلال کیا یا مِسواک کی یا اُنگلی سے دانت مانجھے یا دانت سے کوئی چیزمَثَلاً سیب وغیرہ کاٹا اس پر خون کا اثر ظاہِر ہو ایا ناک  میں   اُنگلی ڈالی اِس پر خون کی سُرخی آگئی مگر وہ خون بہنے کے قابِل نہ تھا وُضو نہیں   ٹوٹا ۔  (اَیضاً)  {3}   اگر بَہا مگر بہ کر ایسی جگہ نہیں   آیا جس کا غسل یا وُضو میں   دھونافَرض ہو مَثَلاً آنکھ میں   دانہ تھا اور ٹوٹ کر اندر ہی پھیل گیا باہَرنہیں   نکلا یا پیپ یاخون کان کے سُوراخوں   کے اندر ہی رہا باہَر نہ نکلا تو ان صورَتوں   میں   وُضو نہ ٹوٹا   (اَیضًاص ۲۷ )   {4}  زخم بے شک بڑاہے رُطُوبت چمک رہی ہے مگر جب تک بہے گی نہیں   وُضو نہیں   ٹوٹے گا۔ (اَیضًا)  {5}  زخم کا خون بار بار پُونچھتی رہیں   کہ بہنے کی نَوبت نہ آئی تو غور کرلیجئے کہ اگر اتنا خون پُونچھ لیا ہے کہ اگر نہ پُونچھتیں   تو بہ جاتا تو وُضو ٹوٹ گیا ،نہیں   تو نہیں  ۔  (اَیضًا)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیْب !                                      صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

تھوک میں   خون سے کب وُضُو ٹوٹے گا

        مُنہ سے خو ن نکلا اگر تھو ک پر غالِب ہے تو وُ ضو ٹو ٹ جا ئے گا ورنہ نہیں  ۔ غَلَبہ کی شَناخت یہ ہے کہ اگر تھو ک کا رنگ سُر خ ہو جا ئے تو خون غالِب سمجھا جائے گااور وُضو ٹوٹ جائیگایہ سُرخ تھو ک نا پا ک بھی ہے۔ اگر تھو ک زَرد ہو تو خون پر تھوک غالِب مانا جا ئے گا لہٰذا نہ وُضو ٹو ٹے گا نہ یہ زَرد تھو ک ناپاک۔  (بہارِشریعت حصہ۲ص۲۷)

خون والے مُنہ کی کلّی کی احتِیاطیں   

 



Total Pages: 92

Go To