Book Name:Islami Behno Ki Namaz

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                                         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

  ’’  با وُضو رہنا ثواب ہے ‘‘ کے پندَرہ حُروف کی نسبت سے وُضو کے 15 مکروہات

           {1} وُضوکیلئے ناپاک جگہ پر بیٹھنا  {2}  ناپاک جگہ وُضو کا پانی گرانا  {3}  اَعْضائے وُضو سے لوٹے وغیرہ میں   قَطرے ٹپکانا  (منہ دھوتے وقت بھرے ہوئے چُلّو میں   عُمُوماًچِہرے سے پانی کے قطرے گرتے ہیں   اس کا خیال رکھئے)  {4} قِبلہ کی طرف تھوک یا بلغم ڈالنا یاکُلّی کرنا  {5}  زِیادَہ پانی خرچ کرنا  ( صدرالشَّریعہ حضرتِ علّامہ مولیٰنا مفتی  محمدامجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی   ’’  بہارِ شریعت  ‘‘ حصّہ دُوُم صَفْحَہ نمبر24میں   فرماتے ہیں  :  ناک میں   پانی ڈالتے وقت آدھا چُلّو کافی ہے تواب پورا چُلّو لینا اِسراف ہے )  {6} اتنا کم پانی خرچ کرنا کہ سنّت ادا نہ ہو  ( ٹُونٹی نہ اتنی زِیادہ کھولیں   کہ پانی حاجت سے زیادہ گرے نہ اتنی کم کھولیں   کہ سنّت بھی ادا نہ ہو بلکہ مُتَوَسِّط ہو)    {7}  منہ پر پانی مارنا  {8}  منہ پر پانی ڈالتے وَقت پُھونکنا  {9}  ایک ہاتھ سے منہ دھونا کہ رَوافِض اور ہندوؤں   کا شِعار ہے {10} گلے کا مَسح کرنا  {11}  اُلٹے ہاتھ سے کُلّی کرنا یا ناک میں   پانی چڑھانا  {12}  سیدھے ہاتھ سے ناک صاف کرنا  {13} تین جدید پانیوں   سے تین بار سر کامَسح کرنا  {14}  دھوپ کے گرم پانی سے وُضو کرنا  {15} ہونٹ یا آنکھیں   زور سے بند کرنا اور اگر کچھ سُو کھا رَ ہ گیاتو وُضو ہی نہ ہو گا۔ وُضو کی ہر سنّت کا ترک مکروہ ہے اِسی طرح ہر مکروہ کا ترک سنّت ۔  (بہارِشریعت ،حصّہ۲ ،ص۲۲۔۲۳)    

دھوپ کے گرم پانی کی وَضاحت

            صدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہحضرتِ  علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی   مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہبہارِ شریعت حصّہ 2صَفْحَہ23 کے حاشیہ پر لکھتے ہیں   :   ’’ جو پانی دھوپ سے گرم ہوگیا اس سے وُضو کرنا مُطلَقاً مکروہ نہیں   بلکہ اس میں   چند قُیُود ہیں  ، جن کا ذکر پانی کے باب میں   آئیگا اور اس سے وُضو کی کراہت تَنزیہی ہے تحریمی نہیں  ۔ ‘‘ پانی کے باب میں   صَفْحَہ56 پر لکھتے ہیں  :  ’’ جو پانی گرم ملک میں   گرم موسم میں   سونے چاندی کے سوا کسی اور دھات کے برتن میں   دھوپ میں   گرم ہو گیا، تو جب تک گرم ہے اس سے وُضو اور غُسل نہ چاہیے، نہ اس کو پینا چاہیے بلکہ بدن کو کسی طرح پہنچنا نہ چاہیے، یہاں   تک کہ اگر اس سے کپڑ ا بھیگ جائے تو جب تک ٹھنڈا نہ ہو لے اس کے پہننے سے بچیں   کہ اس پانی کے اِستِعمال میں   اندیشہ ٔبرص (یعنی کوڑھ کا خطرہ)  ہے ، پھر بھی اگر وُضو یا غُسل کر لیا تو ہو جائے گا۔ ‘‘   (بہارِشریعت ،حصہ۲ ص۲۳،۵۶)  

 ’’ مستعمل پانی سے وُضو و غسل نہیں   ہوتا ‘‘  کے ستائیس حُرُوف کی نسبت سے مُستَعمَل پانی کے مُتَعلِّق 27 مَدَنی پھول

           {1} جو پانی وُضو یاغُسل کرنے میں   بدن سے گرا وہ پاک ہے مگرچونکہ اب مُستَعمَل  (یعنی استِعمال شدہ) ہوچکا ہے لہٰذا اِس سے وُضو اور غُسل جائز نہیں    {2}  یوہیں   اگر بے وُضو شخص کا ہاتھ یا اُنگلی یا پَورایا ناخُن یا بدن کا کوئی ٹکڑا جو وُضو میں   دھویا جاتا ہو بقصد (یعنی جان بوجھ کر)  یابِلا قصد  (یعنی بے خیالی میں   )  دَہ در دَہ  (10×10)  سے کم پانی میں   بے دھوئے ہوئے پڑ جائے تو وہ پانی وُضو اور غُسل کے لائق نہ رہا {3}  اسی طرح جس شخص پر نہانا فرض ہے اُس کے جِسْم کا کوئی بے دُھلا ہوا حصّہ  دَہ در دَہ سے کم پانی سے چُھو جائے تو وہ پانی وُضو اور غُسل کے کام کانہ رہا  {4}  اگر دُھلا ہوا ہاتھ یا بدن کا کوئی حصہ پڑ جائے تو حَرَج نہیں   {5}  حائِضہ  ( یعنی حیض والی)  حَیض سے یا نِفاس والی نِفاس سے پاک تو ہو چکی ہو مگر ابھی غسل نہ کیا ہو تو اس کے جسم کاکوئی عُضو یا حصّہ دھونے سے قبل اگر دَہ در دَہ ( 10×10)  سے کم پانی میں   پڑا تو وہ پانی مُسْتَعمَل (یعنی استِعمال شدہ) ہوجائے گا  {6}  جو پانی کم از کم دَہ در دَہ ہو وہ بہتے پانی اور جو دَہ در دَہ سے کم ہو وہ ٹھہرے پانی کے حکم میں   ہوتا ہے  {7} عُمُوماً حمام کے ٹَب ، گھریلو استِعمال کے ڈول، بالٹی ، پتیلے ، لوٹے وغیرہ دَہ در دَہ سے کم ہوتے ہیں   ان میں   بھرا ہو ا پانی ٹھہرے پانی کے حکم میں   ہوتا ہے {8}  اعضائے وُضُو میں   سے اگر کوئی عُضو دھو لیا تھا اور اِس کے بعد وُضو ٹوٹنے والا کوئی عمل نہ ہوا تھا تو وہ دُھلا ہوا حصّہ ٹھہرے پانی میں   ڈالنے سے پانی مُسْتَعمَلنہ ہو گا  {9}  جس شخص پر غسل فرض نہیں   اُس نے اگرکُہنی سمیت ہاتھ دھو لیا ہو توپورا ہاتھ حتّٰی کہ کُہنی کے بعد والاحصّہ بھی ٹھہرے پانی میں   ڈالنے سے پانی مُسْتَعمَل نہ ہو گا  {10} با وُضو نے یا جس کا ہاتھ دُھلا ہوا ہے اُس نے اگر پھر دھونے کی نیّت سے ڈالا اور یہ دھونا ثواب کا کام ہو مَثَلاً کھانا کھانے یا وضو کی نیّت سے ٹھہرے پانی میں   ڈالا تو مُسْتَعمَل ہو جائے گا {11}  حیض یا نِفاس والی کا جب تک حیض یا نِفاس باقی ہے ٹھہرے پانی میں  بے دُھلا ہاتھ یا بدن کا کوئی حصّہ ڈالے گی پانی مُسْتَعمَل نہیں   ہوگا ہاں   اگر یہ بھی ثواب کی نیّت سے ڈالے گی تو مُسْتَعمَل ہو جائے گا۔ مَثَلاً اِس کیلئےمُستَحَب ہےکہ پانچوں   نَما زوں   کے اوقات میں   اور اگر اشراق ،چاشت و تہجُّد کی عادت رکھتی ہو تو ان وقتوں   میں   باوُضُو کچھ دیر ذکرو دُرُود کر لیا کرے تا کہ عبادت کی عادت باقی رہے تو اب ان کیلئے بہ نیّتِ وُضوبے دُھلا ہاتھ ٹھہرے پانی میں   ڈالے گی تو پانی  مُسْتَعمَل ہو جائے گا {12}  پانی کا گلاس لوٹا یا بالٹی وغیرہ اُٹھاتے وَقت احتیاط ضَروری ہے تا کہ بے دُھلی اُنگلیاں   پانی میں   نہ پڑیں   {13} دورانِ وُضُو اگر حَدَث ہوا یعنی وُضو ٹوٹنے والا کوئی عمل ہوا تو جو اعضا پہلے دُھو چکے تھے وہ بے دُھلے ہوگئے یہاں   تک کہ اگر چُلّو میں   پانی تھا تو وہ بھی مُسْتَعمَل ہوگیا {14} اگر دورانِ



Total Pages: 92

Go To